غزل:دلوں کے بیچ ابھی تک ہے فاصلہ موجود

0
122
غزل:دلوں کے بیچ ابھی تک ہے فاصلہ موجود

میرے سفر کا ابھی گوہے سلسلہ موجود
وہ ایک لمحہ بھی تنہائی کا نہیں حاصل

جہاں بھی جائیے بس دیکھئے خدا موجود
حسین ابن علیؓ ہے ابھی بھی نرغے میں

یزید یت بھی ہے باقی تو کربلا موجود
ابھی سے اہل جنوں پست حوصلہ کیوں ہیں

ابھی تو دارورسن کا ہے مرحلہ موجود
پہنچ بھی پائینگے منزل تک خدا معلوم

ہے راستے میں پہاڑوں کا سلسلہ موجود
کوئی حسین سا پیکر ادھر سے گذرا ہے

فضا میں بو ہے زمیں پر ہے نقش پا موجود

پڑا ہے ہوش کہیں پر ہے وقت کا موسی
دگر نہ آج بھی طورکا جلوہ موجود

ظہیر الدین قیصرؔ
ہنوارہ گڈا جھارکھنڈ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here