صدا ٹوڈے کا نیا سلسلہ ،یادوں کی کہکشاں ۔میرا ممبئی کا پہلا سفر۔شہناز رحمت

0
31

بین اقوامی نسائی تنظیم بنات نے ‘یادوں کی بارات ‘کے عنوان سے بناتی بہنوں کے لئے ایک سلسلہ شروع کیا ہے یہ مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے

   شہناز رحمت

Shahnaz Rahmat's profile photo, Image may contain: Shahnaz Rahmat, close-up

میں ان دنوں کالج میں تھی کہ ایک دن اچانک ابا نے کہا شہناز تیاری کر لو ہم ممبئی جا رہے ہیں۔ میں تو بےحد خوش ہو گئی کیونکہ اس کے پہلے ہمارا سفر صرف یو پی تک ہوتا تھا۔ یو پی ہمارا آبائی وطن ہے اور ہم برابر نانی کے گھر یا اپنے گھر جاتے رہتے تھے جو کہ جونپور ضلع میں ہے۔
ممبئی میں شاہد بھیا رہتے تھے اور وہ فلم سٹی میں کام کیا کرتے تھے۔انہوں نے اماں ابا کو کئی دفعہ بلایا بھی تھا۔ اس کے علاوہ ایک دو اور پہچان والے تھے جن کے بار بار بلائے جانے پر ابا تیار ہوئے تھے۔
عمر کے اس دور تک گھر میں ٹی وی آ چکا تھا اور ہم سب بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے شوقین بن چکے تھے۔ کوئی بھی فلم دیکھتے وقت ہم اس فلم کے ہیرو ہیروئن کے بارے میں ابا سے پوچھتے اور وہ بتا دیتے۔ اس کے علاوہ میرے ابا فلم نگری کی بہت سی داستانیں سناتے۔ جیسے ثریا اور دیو آنند کی’ دلیپ کمار اور مدھوبالا کی محبت کی داستانیں۔ ابا کی باتیں ہماری معلومات میں اضافہ کرتی رہتیں۔ وہ بتاتے تھے کہ انہیوں نے ‘رتن’ فلم بیس بار دیکھی ہے۔ وہ بتاتے تھے کہ ان دنوں ایک ہی فلم ایک ہی ہال کئی کئی سال تک چلتی رہتی تھی پھر بھی ہاؤس فُل ہوتی تھی۔ کسی بھی ہیرو ہیروئن کے بارے میں جاننا ہوتا تھا ہم ابا سے سوال کر لیتے اور ابا فورا جواب دے دیتے۔ ابا کو بہت کچھ معلوم تھا۔ ادبی’ فلمی’ سیاسی یا تاریخی باتیں ہوں’ ابا کو سب زبانی یاد تھا۔ ابا کے منہ سے ہی میں نے غالب کی حالاتِ زندگی’ مجاز کی شراب نوشی کے قصے’ جوش ملیح آبادی کی باتیں’ ساحر اور امرتا پریتم کی محبت کی داستانیں سنی۔ ابا نے کیفی اعظمی’ ساحر لدھیانوی سمیت کئی بڑے شاعروں کو اپنے سامنے مشاعرے میں سنا تھا وہ سب بھی وہ ہمیں بتاتے رہتے تھے۔ ابا علاقے کی لائبریری سنبھالتے تھے اور ایسی کوئی کتاب نہ تھی جو انہوں نے پڑھی نہ ہوں۔ انہیں پوری کتاب یاد رہتی تھی وہ کسی کے بارے میں پوچھنے پر پوری پوری کتاب بتا دیا کرتے تھے۔ ادبی فلمی یا تاریخی شخصیات کی حالاتِ زندگی سے وہ اتنی اچھی طرح واقف تھے کہ ہم حیران رہ جاتے تھے۔ میری دلچسپی بھی بڑھتی رہتی۔ ابا زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن وہ اپنے زمانے میں ایم اے کے اسٹوڈنٹس کو بھی ٹیوشن دیا کرتے تھے۔ انگریزی کے مشکل سے مشکل الفاظ کے معنی ہم ان سے پڑھتے پڑھتے پوچھتے اور وہ چلتے پھرتے بتا دیتے۔ اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ میرے ابا چلتے پھرتے انسائکلوپیڈیا تھے۔ میں نے جو کچھ بھی سیکھا اپنے ابا سے سیکھا ہے۔ ابا کے بارے میں کہنے کو بہت کچھ ہے انکے بارے میں تفصیل سے لکھنے کا میں نے سوچ بھی رکھا ہے۔ ان شاء اللہ۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ فلمی اداکاروں کے بارے میں وہ اچھی طرح بتاتے تھے اور پھر کچھ فلمی میگزین پڑھ کر ہم بھی خوابوں کی نگری فلمی دنیا سے بخوبی واقف ہو چکے تھے۔
انہیں دنوں کالج میں میری ایک سہیلی نے بتایا کہ وہ فلمی دنیا کے ہیرو ہیروئن کو فین میل بھیجتی ہے جس کا اسے جواب بھی ملتا ہے۔ ان دنوں خط وکتابت کا دور تھا اور ڈاک آتی جاتی تھی۔ میں اس سہیلی کے گھر گئی اور اس نے مجھے بہت سارے ہیرو ہیروئن کی تصویریں دکھائیں جو ان لوگوں نے اس کو بذریعہ ڈاک بھیجا تھا۔ ان دنوں فلمی ہستیاں یا شہرت یافتہ لوگ خطوں کے ذریعہ فین میل کا جواب دیتے تھے۔ فلمی ہستیاں اپنا آٹوگراف کیا ہوا فوٹو جواب میں بھیج دیتے تھے اور جو زیادہ مخلص ہوتا تھا وہ خود اپنے ہاتھوں بھی خط لکھ دیا کرتا تھا۔ (میرے پاس اج بھی منا ڈے’ اندیور’ ضیا ماتھر اور عائشہ جلکا کے خط محفوظ ہیں۔)
خیر مجھے بھی بہت اشتیاق ہوا کہ میں بھی آٹوگراف کئے ہوئے فوٹو حاصل کروں۔ میں نے اس سے اس کی ترکیب معلوم کی کہ یہ کس طرح سے ممکن ہے؟ تو اس نے مجھے دو تین پتے دیئے’ کہا اس پر خط بھیج دو۔ بس اس طرح میرے فین میل کا سلسلہ شروع ہوا جو کئی سالوں تک جاری رہا۔ میں ضروری اور اہم لوگوں کو لفافے’ انتردیشی اور نئے اور کم مشہور ہیرو ہیروئن کو پوسٹ کارڈ بھیجتی تھی۔ اس سہیلی نے ہی بتایا تھا کہ تم کو آزمانا ہو تو ایک چھوٹا سا پوسٹ کارڈ بھیج دو’ بس اور وہ لوگ تمہیں جواب دے دیں گے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کون کون سے ہیرو ہیروئین جلدی جواب دیتے ہیں۔وہ اپنی کئی سہیلیوں کو اس طرح کسی اداکار کا پتہ دے دیتی تھی اور وہ لوگ ان کو خط لکھ کر ان سے جواب منگوا لیتے تھے۔
اب میں نے بھی فلمی ہستیوں کو خط لکھنا شروع کر دیا۔
ان دنوں فلمی دنیا اور مایاپوری میگزین آتے تھے جس میں ابھرتے ہوئے نئے اداکاروں کے انٹرویو چھپے ہوتے تھے ساتھ ہی ان کا پتہ بھی دیا ہوا رہتا تھا۔ میری اس سہیلی نے مجھے بتایا کہ تم مایا پوری میگزین خریدو اس میں فلمی دنیا کے لوگوں کا پتہ رہتا ہے۔ تو تمہارا خط ان تک پہنچ جائے گا۔ میں نے کہا کوئی ضروری ہے وہ صحیح پتہ چھاپتے ہوں گے۔ سہیلی نے کہا کوشش تو کرو’ دس میں سے دو پتے تو درست ہوتے ہوں گے۔ پھر میں پاگلوں کی طرح سے مایا پوری کا انتظار کرتی اور کتاب ہاتھ میں آتے ہی نئے لوگوں کے پتے تلاش کرکے خط بھیج دیا کرتی تھی۔ میرا بھی یہ تجربہ ہو گیا تھا کہ جو ابھرتے ہوئے نئے ہیرو ہیروئن ہوتے تھے یا کوئی بھی نیا اداکار ہوتا تھا وہ اپنے فین میل کا جواب بہت جلدی دے دیتے تھے۔
مجھے فین میل کے جواب میں پہلی بار دیپیکا کا فوٹو ملا تھا جو رامائن میں سیتا بنی تھی۔ اس وقت رامائن ٹیلی ویژن چینل پر چلنا شروع ہی ہوا تھا تھا۔میں بہت خوش ہوئی۔ میں نے اپنی سہیلیوں کو دکھایا۔ سبھی بہت خوش ہوئیں۔
اس طرح فین میل کے جواب کے طور پر عائشہ جلکا’ برکھا پانڈے’ فاطمہ’ محسن خان’ راجیو کپور’ الکہ یاگنک’ منا ڈے اور لتا منگیشکر کے آٹوگراف کئے ہوئے تصویریں میرے کلیکشن میں شامل ہو گئیں۔
ہم لوگوں نے یہ بھی تجربہ کر لیا کہ بڑے اور مشہور لوگ ویسے جواب دیں نہ دیں لیکن سالگرہ کی مبارکباد کے خط کا جواب ضرور دیتے تھے۔ مجھے بھی لتا منگیشکر’ راجیو کپور اور منا ڈے نے اسی سلسلے میں جواب دیا تھا۔
فلمی ہستیوں کو خط بھیجنے کا تجربہ بےحد رومانی ہوتا تھا۔ خط بھیجتے ہی ہم خیالوں میں کھو جاتے۔ اب میرا خط پہنچ چکا ہوگا۔ اب وہ ان کے ہاتھ میں ہوگا۔ اب وہ جواب لکھ رہے ہوں گے اور اب ڈاکیہ خط لیکر اتا ہی ہوگا۔ بیچ میں اتوار آ جاتا تو بہت غصہ آتا تھا۔
انہیں دنوں ایک نئی اداکارہ ضیا ماتھر کا بھی جواب آیا تھا۔ ہاتھ سے لکھے خط کو دیکھ کر میں نے اسے دوبارا خط لکھا’ اس نے پھر جواب دے دیا۔ پھر میں برابر خط لکھنے لگی اور وہ بھی برابر جواب دیتی رہی۔ میں جب ممبئی جا رہی تھی تو خاص طور پر اس سے ملنے کی تمنا تھی۔ اس نے فون کرکے اپنا پتہ دے دیا۔ ہم اس کے گھر گئے اور کافی دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہیں۔ وہ مجھے آپا کہتی تھی۔ ممبئی سے آنے کے بعد بھی سلسلہ جاری رہا۔
ضیا ماتھر بہت سی فلموں میں چھوٹے موٹے رول کرتی تھی لیکن وہ کسی بھی فلم میں کامیاب نہیں ہو سکی اور اسے کام ملنا بند یو گیا تو وہ فلمی دنیا چھوڑ دی۔ پھر میرا اس سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ مجھے آج بھی اسکی تلاش ہے۔ بس اتنا معلوم ہے کہ وہ دہلی کی تھی اور اپنے پاپا اور چھوٹے بھائی کے ساتھ رہتی تھی۔
اسی طرح مجھے اندیور کے بھی کئی خط ملے۔ اندیور مجھے ممبئی بلاتے’ میری ٹوٹی پھوٹی شاعری ان کو پسند آئی تھی ۔میں اپنے ابا کو ان کے خط دیتی اور کہتی ممبئی چلیئے۔ ابا منع کرتے اور ڈانٹتے ہوئے کہتے فلمی دنیا کے لوگوں سے دور رہو’ ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ ضیا ماتھر اور اندیور دونوں میرے قلمی دوستوں میں شامل تھے۔
اب میں واپس ممبئی کے سفر پر آتی ہوں۔ تو فین میل کی دیوانی ایک لڑکی کو اچانک سے ممبئی جانے کا موقع ملا۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ میری آنکھوں میں ہیرو ہیروئینوں کو سامنے سے دیکھنے کا خواب تھا جو اب پورا ہوتا نظر آ رہا تھا۔
لمبے تھکانے والے سفر کے بعد ہم ممبئی پہنچے۔ جب میں پہلی دفعہ فلم سٹی اسٹوڈیو میں داخل ہوئی تو دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ یا اللّٰہ نہ جانے کس سے سامنا ہو جائے۔ مجھے تو کتنی شرم آئے گی۔ ان دنوں میں بےحد خاموش طبیعت’ شرمیلی ہوا کرتی تھی اس لئے ڈرتی بھی زیادہ تھی۔ میں نے پہلی دفعہ “دل ہے کہ مانتا نہیں” کی شوٹنگ دیکھی۔ عامر خان اور پوجا بھٹ بیچ میں شوٹنگ کر رہے تھے اور ساری پبلک چاروں طرف گھیرا بنا کر شوٹنگ دیکھ رہی تھی۔ بھیا نے مجھے یادگار کے لئے آٹوگراف لینے کی تاکید کر دی تھی۔ میں نے بھی سوچا ہاں کالج میں سہیلیوں کو دکھاؤں ثبوت کے طور پر۔ لیکن پہلے کبھی آٹوگراف تو لی نہیں تھی کسی کا اس لئے تجربہ بھی نہیں تھا۔ شاہد بھائی نے ایک دو پیج کا انتظام کر دیا۔ عامر خان پورے پبلک کے بیچ میں کھڑا تھا۔ چاروں طرف کیمرہ مین تھے۔ مجھے اتنے لوگوں کے سامنے اس کے پاس جانے میں شرم لگی تو میں نے اپنے پانچ سالہ بھائی کو کاغذ قلم دیا اور کہا شکیل ان کو جاکر دے دو۔ اسکو آٹوگراف بولنا تو آتا نہیں تھا تو وہ عامر خان کے پاس پہنچ کر اس کی پینٹ پکڑ کر کھینچنے لگا۔ عامر خان نے نیچے دیکھا تو ایک بچہ اسکی طرف کاغذ بڑھا رہا تھا۔ وہ سمجھ گیا اور آٹوگراف دے دیا۔ اسی وقت پوجا بھٹ سامنے آئی تو میں جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئی۔ اس نے میرا چہرہ دیکھا اور آٹوگراف دے دی۔ اب میں مہیش بھٹ کی طرف بڑھی۔ وہ کچھ دور پر کار سے ٹیک لگائے کھڑے تھے اور لوگ ان سے آٹوگراف لے رہے تھے۔ جب میں نزدیک پہنچی تو سنا وہ ایک لڑکے کو ڈانٹ رہے تھے کہ کیوں لیتے ہو آٹوگراف’ کیا ہوتا ہے اس سے۔ اب میری حالت خراب ہو گئی۔ میں نے سوچا مجھے بھی ڈانٹ پڑے گی۔ لیکن اتنے قریب جا چکی تھی کہ واپس نہیں ہو سکتی تھی۔ انہوں نے میرا رونے والا چہرہ دیکھا اور ہاتھ سے کاغذ لے کر آٹو گراف دے دیا۔
میں فلم سیٹی اسٹوڈیو جاکر کر بہت سے اداکاروں کو سامنے سے دیکھ پائی اور میں نے بہتوں سے آٹوگراف بھی لئے۔ ممبئی کے اس سفر کی داستان کافی دلچسپ ہے جسے سن کر آج بھی کئی لوگ یقین نہیں کرتے ہیں۔ میں نے فرح’ سروج خان’ مہابھارت میں گنگا پتر بنے کرش ملک’ انو ملک اور انکے ایک اور بھائی کو بھی دیکھا۔ گووندہ’ جونیئر محمود’ اکشے کمار’ بپی لہری’ ادیت نارائن’ امول پالیکر’ پونیت اشر’ کمار گورو’ جیتندر وغیرہ کو دیکھا۔
اکشے کمار ان دنوں بالکل نیا تھا اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ رات میں شوٹنگ ہو رہی تھی۔ ایک ہی سین کو وہ بار بار ریٹیک کر رہا تھا۔ میں نے ویاں پر موجود ایک اسپاٹ بوائے سے پوچھا یہ کون ہیرو ہے۔ اس نے کہا اپن کو نئی معلوم۔ نیا آئےلا ہے۔ مجھے اس کا نام بعد میں پتا چل پایا تھا۔
جیتندر سے ملاقات کی داستان بہت ہی عجیب ہے آج بھی سوچتی ہوں تو اس عمر کی بیوقوفی اور کم عقلی پر افسوس ہوتا ہے۔
میرے بھیا نے کہا ابھی یہاں جیتندر آنے والا ہے یہ اس کا میک اپ روم ہے۔ یہیں کھڑی رہو وہ اسی راستے سے جائے گا۔ میں کھڑی رہی۔ کچھ دیر بعد وہ آیا۔ کار سے نکلا تو میں بس اسے دیکھنے میں ہی کھو گئی۔ سفید سوٹ کالا چشمہ کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ پرانے زمانے کا ہیرو ہے۔ بالکل جوان لگ رہا تھا۔ میں اسے دیکھے جا رہی تھی تبھی شاہد بھائی نے کہا آٹوگراف لے لو۔ میں نے جلدی سے اپنے پرس کو کھولا جس میں آٹو گراف کا پیج رکھا ہوا تھا۔ وہ ایک چھوٹا سا وینٹی کیس تھا۔ اس میں شاید کوئی چین کھلی رہ گئی تھی میں نے جیسے ہی کاغذ نکالنا چاہا۔ پورا میک اپ کا سامان سڑک پر بکھر گیا۔ میں کاغذ نکالنا چھوڑ کر جلدی سے بکھرے سامان اٹھانے کو جھکی۔ جب تک میں نے دیکھا جیتندر بھی کوئی سامان اٹھا کر میری طرف بڑھا رہے تھے۔ مجھے اتنی چھینپ لگی کہ کیا بتاؤں۔ خیر پھر بھی جیتندر نے کاغذ لے کر آٹوگراف دیا اور چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد شاہد بھائی نے کہا کیا کرتی ہو شہناز۔ وہ تو وہ مجھے جانتے ہیں اس لئے برداشت کیا۔ یہ لوگ قدآور شخصیت ہیں کوئی اور ہوتا تو ابھی مجھے فائر کر دیتا۔ میں آج بھی وہ سین سوچ کر شرمندہ ہوتی ہوں جب میں’ میرے بھیا اور جیتندر میرے گرے ہوئے میک اپ کا سامان اٹھا رہے تھے۔
اب ہم فلم حنا کی شوٹنگ دیکھنے جانے والے تھے۔
فلم حنا کی شوٹنگ زیادہ تر رات میں ہوتی تھی کیونکہ سیکورٹی کا کافی خیال رکھا گیا تھا۔ ایک بہت بڑا سا علاقہ لوہے کی ریلینگ سے گھرا ہوا تھا جس کے چاروں طرف فوجی دستوں کا پہرا تھا۔ پورے ایریا میں فوجی ہی گھومتے ہوئے نظر آ رے تھے۔ شاہد بھائی نے ہم لوگوں کو شوٹنگ دکھانے کے لئے اسپیشل پرمیشن نکلوایا تھا۔ اس فلم کی شوٹنگ میں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے بڑی مشکل سے انہیں رات کے وقت سوٹنگ کی جگہ پر جانے کی اجازت ملی وہ بھی آدھی رات کو۔ رات کے بارہ بجے شاہد بھائی مجھے ابا اماں کو کو لے کر شوٹنگ کی جگہ پر گئے۔ وہ وہاں کے اسٹاف تھے اس لیے ان کو کسی نے نہیں روکا۔ پورے اسٹوڈیو میں ان پر کوئی پابندی نہیں تھی اور وہ۔ ہمیں ہر جگہ کسی بھی فلم کی شوٹنگ دکھانے لے کر جاتے ہی رہتے تھے۔ فلم حنا کی بات اور تھی ایک تو اس میں پاکستانی اداکارہ زیبا بختیار پہلی دفعہ کام کر رہی تھی۔ دوسرے فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے عام لوگوں کا شوٹنگ کی جگہ پر جانا ناممکن تھا۔ خیر ہم شوٹنگ کی جگہ پر پہنچے۔ہم نے ہر طرف گھوم کر دیکھا۔ مجھے سعید جعفری بھی لوگوں سے بات کرتے ہوئے دکھائی دیئے لیکن میں اس طرف نہیں گئی۔ ہم وہاں پہنچے جہاں کپور خاندان کے تینوں بیٹے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاس ہی زیبا بختیار بیٹھی ہوئیں تھی۔ اپنے سامنے اتنے مشہور اور بڑے اداکاروں کو دیکھ کر میرا خون رگوں میں جمنے لگا۔ ان دنوں ویسے بھی میں بہت کم بولتی تھی اور اس وقت تو میری زبان پر جیسے گنگ ہی لگ گئی۔ خیر کسی طرح میں نے ہمت کیا اور آگے بڑھی کہ میں ان سب کا آٹوگراف لے لوں۔ جلد بازی میں میں نے غور بھی نہیں کیا کہ وہ ان کا چائے کا وقت تھا اور وہ سبھی چائے نوش فرما رہے تھے۔ اپنے سامنے اچانک ایک لڑکی کو ڈائری اور قلم لئے دیکھ کر وہ بھی ذرا سا سٹپٹائے۔ اب تک میں کسج پیج پر آٹوگراف لے رہی تھی۔ شاہد بھائی نے اس دن ایک چھوٹی ڈائری لا کر دی تھی۔ میں رشی کپور کے پاس گئی تو دیکھا ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ ہے۔ وہ چائے کا کپ لے کر اپنے چاروں طرف دیکھنے لگ گئے کہ چائے کا کپ کہاں رکھوں۔ مجھ میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں کہہ سکوں کہ مجھے دے دیجیے میں پکڑ لیتی ہوں۔ پھر انہوں نے چائے کے کپ کو اپنی کرسی کے ہینڈل پر رکھا اور مجھ سے ڈائری لے کر سائن کر دیا۔ پھر میں رندھیر کپور کے پاس گئی اور اس کے بعد میں راجیو کپور کے پاس گئی وہ مجھے کچھ اپنے سے لگے کیونکہ انکی پہلی فلم “رام تیری گنگا میلی” حال ہی میں دیکھی تھی۔ پھر میں زیبا بختیار کے پاس گئی۔ انہوں نے اپنا چائے کا کپ نیچے زمین پر رکھا اور مجھ سے ڈائری لے لی۔ پھر و ہ بہت پیار سے میری طرف دیکھی اور میرا نام پوچھیں۔ میں نے اپنا نام بتایا تو انہوں نے لو شہناز لکھ کر اپنا آٹوگراف دیا۔ پھر مجھ سے پوچھا میں کہاں سے آئی ہوں۔ میں نے بتایا۔
میرے بھیا نے بتایا یہ لوگ کسی کو بھی جلدی اپنا آٹوگراف نہیں دیتے۔ اور اتنی رات میں اپنے چائے بریک کے دوران کوئی انہیں ڈسٹرب کرتا ہے تو یہ ڈانٹ بھی سکتے ہیں’ تم لکی ہو۔ میں نے بھی سوچا کہ وہ لوگ چاہتے تو کہہ دیتے کہ ابھی چائے کا وقت ہے بعد میں آؤ لیکن کسی نے بھی مجھے منع نہیں کیا۔ میں ایک ایک کرکے سب کے پاس ڈائری اور قلم لے کر جاتی رہی اور وہ لوگ اپنا آٹوگراف دیتے رہے۔ اس دن مجھے جو خوشی ملی تھی وہ بیان سے باہر ہے۔ خاص طور پر زیبا بختیار کا مجھ سے بات کرنا۔
اس کے بعد میں نے امول پالیکر کو دیکھا۔ مہابھارت فلم کی شوٹنگ انکی ہی نگرانی میں ہو رہی تھی۔ وہاں بھی بہت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ اندر نہ جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ باہر سے ہی ہم سیٹ دیکھ رہے تھے جو کہ کافی بڑا تھا۔ مجھے امول پالیکر دکھائی دیئے۔ وہ بھی میری طرف دیکھے لیکن میری ہمت بات کرنے کی نہیں ہوئی۔ اتنے بڑے اداکار کو سامنے دیکھ کر ہی حالت خراب ہو جاتی تھی۔ دل زور سے دھڑکتا تھا تو بات کرنے کا ہوش کسے رہتا۔ بعد میں مجھے کئی سالوں تک افسوس رہا کہ میں نے اپنے پسندیدہ اداکار سے کچھ تو کہا ہوتا۔
اس کے بعد ہم دھرمیندر کے ساؤنڈ اسٹوڈیو گئے جہاں گانوں کی ریکارڈنگ ہوتی ہے۔ وہاں پہنچے پر پتا چلا کچھ دیر پہلے ہی لتا منگیشکر چلی گئیں’ مجھے بےحد افسوس ہوا کاش میں لتا دیدی کو دیکھ پاتی۔ اسٹاف نے بتایا سنی دیول بھی اپنی فلم گھائل کی ریکارڈنگ کرکے چلا گیا۔ تبھی۔میں بپی لہری کو جاتے ہوئے دیکھا۔ آنکھیں چمک گئیں وہ پوری سونے کی دکان معلوم ہو رہے تھے۔ میں انہیں دیکھتی یا انکے سونے کے زیورات کو کہ تب تک وہ چلے گئے۔ ہم باہر سوفے پر بیٹھ گئے۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ادیت نارائن آکر بیٹھ گئے۔ وہ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ میں نے ادیت نارائن کو نمستے کیا اور بات کرنے لگی۔ میں نے بتایا کہ میری سہیلی گوری ہمیں آپ کے بارے میں بہت باتیں بتاتی ہے۔ اس کا گھر نیپال میں آپ کے گھر کے پاس ہے۔ اس نے نیپال میں آپ کا گھر دیکھا ہے۔ وہ ہمیں منیشا کوئرالہ کے بارے میں بھی بہت کچھ بتاتی ہے۔ اپنی زمین کی باتیں سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر میں نے شکایتی لہجے میں ان سے کہا کہ آپ اپنے فین میل کا جواب نہیں دیتے۔ میں نے آپ کو دو خط بھیجے ہیں۔ مجھے تو کئی لوگوں کے جواب مل گئے لیکن آپ کا نہیں۔ انہوں نے کہا لیکن میں تو جواب دیتا ہوں۔ انہوں نے میرا نام اور شہر پوچھا۔ میں ادیت نارائن کی مخلصانہ رویہ سے بہت متاثر ہوئی۔ پانچ دس منٹ ہی بات ہوئی تھی لیکن ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ وہ غیر ہیں۔
میرے دل میں انکے لئے عقیدت تب اور بڑھ گئی جب کولکتہ آنے کے ایک ہفتے کے اندر ہی مجھے ان کے دو لفافے ملے۔ جس میں ادیت نارائن نے اپنا آٹوگراف کیا ہوا فوٹو بھیجا تھا۔ مجھے مسرت آمیز خوشی ہوئی کہ اتنے سارے فین میل میں انہوں نے میرے خط کو تلاش کرکے جواب بھیجا۔ میں اور بھی زیادہ ان کی فین ہو گئی۔ لیکن اتنے بڑے بڑے لوگوں کو دق کرنے جیسی حرکت سمجھ کر میں نے پھر دوبارا کبھی انہیں کوئی خط نہیں لکھا۔
ممبئی کے اس سفر میں میری ساری یادداشت صرف ان فلمی ستاروں سے جڑی باتوں کو یکجا کرنے میں خرچ  ہو گئی۔ مجھے باقی کچھ بھی اچھے سے یاد نہیں’ جیسے انڈیا گیٹ’ بازار’ راستے’ سڑکیں وغیرہ۔
ممبئی کے سفر کی یہ کھٹی میٹھی یادیں آج بھی مجھے خوشی سے شرابور کر جاتی ہیں۔ زیبا بختیار اور ادیت نارائن سے ہوئی بات چیت آج بھی مجھے گنگناتی ہے۔ اس خوشی کی لہر آج بھی دل کے کسی کونے میں زندہ ہے۔
ممبئی کا وہ سفر کافی یادگار رہا اور میرے ذہن و دل میں آج ہھی تروتازہ ہے۔

شہناز رحمت

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here