صدا ٹوڈے کا سلسلہ۔یادوں کی کہکشان ،افشاں ملک ،جھروکہ کھلتا ہے ۔

0
1142
صدا ٹوڈے کا سلسلہ۔یادوں کی کہکشان ،افشاں ملک ،جھروکہ کھلتا ہے
صدا ٹوڈے کا سلسلہ۔یادوں کی کہکشان ،افشاں ملک ،جھروکہ کھلتا ہے

 بین اقوامی نسائی تنظیم بنات نے ‘یادوں کی بارات ‘کے عنوان سے بناتی بہنوں کے لئے ایک سلسلہ شروع کیا ہے یہ مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے

قرنطینہ کی یکسوئی میں کچھ خوبصورت اور یادگار لمحات آپ دوستوں سے شئیر کرنے کو جی چاہا،

بچپن کے بےشمارخوبصورت واقعات جو میری یادداشت کا حصہ ہیں ان میں بیل گاڑی پر کیے گئے وہ سفر بھی ہیں جو آج بھی ذہن پر خوبصورت یادوں کی شکل میں نقش ہیں ۔ آج کی تیزرفتار زندگی اور ہوا سے باتیں کرنے والی سواریوں پر سفر کرتے ہوئے بچپن میں بیل گاڑی پر کیے گئے سفرکی یاد آجائے تو پریوں کے دیس کی سی کہانیاں لگتی ہیں۔اس وقت جب ہم گاؤں میں رہا کرتے تھے، ذاتی سواری کے لیے سبھی لوگ بیل گا ڑیوں کا استعمال کیا کرتے تھے بالخصوص خواتین اور بچوں کے لیے کم دوری کے سفر کے لیے بیل گاڑی مناسب سواری ہوا کرتی تھی ۔ذاتی استعمال کے لیے مخصوص بیل گاڑیاں ہوتی تھیں اور ان کا استعمال کھیتی باڑی کے کاموں میں نہیں کیا جاتا تھا۔پندھرہ بیس میل کی دوری طے کرنے کے لیے یہ ایک بہترین آرام دہ سواری خیال کی جاتی تھی۔
ہماری خالہ بیگم کے گاؤں کا فاصلہ ہمارے گاؤں سے تقریباََ بیس میل تھا۔ یوں تو وہاں ٹرین سے بھی جایا جا سکتا تھا لیکن اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے پھر بھی بیل گاڑی یا تانگے کا ہی سہارا لینا پڑتا تھا۔ سو اس جھنجھٹ سے بچنے کے لیے کچے راستے سے بیل گاڑی کا سفر ہمارے والد صاحب کی نظر میں زیادہ مناسب اور ہم بچوں کی نظر میں بے حدخوشی کا باعث ہوا کرتا تھا۔جب گرمی کی چھٹیاں ہوتیں تب خالہ بیگم یاپھوپی جان یا نانی امّاں کے ہاں جانے کا پروگرام بنتا۔ خوشی کے مارےایک طرف سفر کی تیاریاں ہاتھ پیر پھُلا دیتیں تو دوسری طرف بیل گاڑی کے سفر کا خیال کئی دن پہلے سے نیندیں اُڑ ا دیتا۔ اس وقت مہمانداریاں بھی ایک دو دن کی نہیں ہفتوں کی ہوا کرتی تھیں۔قریبی رشتے داروں کے ہاں تو پندرہ بیس دن سے کم رکنے پر ناراضگیاں ہوجایا کرتی تھیں۔ واپسی کے نام پر سامان چھپا دیے جاتے تھے ۔کیسے مخلص لوگ تھے اور کیا دن تھے وہ بھی کہ بس بذریعہ خط اطلاع دے دی کہ” ہم آرہے ہیں ” اور جواب کا انتظار کیے بغیر پہنچ بھی گئے۔ حالانکہ دور دراز کے سفربسوں اور ریل گاڑیوں سے بھی کرتے تھے لیکن بس اسٹیشن یا ریلوے اسٹیشن تک پہنچننے کے لیے بیل گاڑی کا ہی سہارا لینا پڑتا تھا ۔
ہماری ددیہال کے گاؤں سے ریلوے اسٹیشن کی دوری ڈیڑھ کلومیٹر کی ہے اور پکّی سڑک ہے،کوئی ندی وغیرہ بھی نہیں ہے،چھوٹی نہریں ہیں لیکن ان میں ہر وقت پانی نہیں رہتا ہے۔کھیتوں میں آب پا شی کے وقت ان نہروں میں ندیوں کا پانی چھوڑا جاتا ہے۔ ان نہروں پرمضبوط چوڑی پلیاں بنی ہونے کی وجہ سے را ہ گیروں اور گاؤں والوں کو کوئی دشواری نہیں ہوتی ہے اور ہر سواری آرام سے نکل جاتی ہے۔میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے گاؤں سے اسٹیشن آنے والا راستہ ایسا ہی دیکھا۔ اس وقت کاریں وغیرہ تو ہوتی نہیں تھیں۔ میرے دادا جب بھی شہر جاتے تھے ریلوے اسٹیشن تک گھوڑے پر آتے تھے،پیچھے ایک نوکر کو بٹھا کر لاتے اورجب ٹرین میں سوار ہوجاتے تب وہ نوکر گھوڑا واپس گھرلے جاتا اور شام کو ٹرین آنے کے وقت سے پہلے ہی اسٹیشن پہنچ جاتااور واپسی میں پھردادا کے پیچھے بیٹھ کر آتا۔ لیکن جب گھر کی خواتین اور بچوں وغیرہ کو دور کہیں رشتے داری میں ٹرین یا بس سےجانا ہوتا تواسٹیشن تک یہ بیل گاڑیاں ہی چھوڑنے آتی تھیں ۔ان بیل گاڑیوں کی بھی اپنی ہی کہانیاں تھیں۔ان میں خواتین کے پردے کے لیے بڑا ہی منفرد انتظام کیا جاتا تھا ۔ہرے بینت کی چار لچکدارپتلی لمبی لکڑیوں کاکراس بنا کربیل گاڑی میں چار طرف جھکا کرستلی سے باندھ دیا جاتااور اس کے اوپر کپڑے کی چادریں ڈال کر خیمے کی سی شکل بنا دی جاتی۔ پردے ڈالنے کے لیے جن چادروں کا استعمال ہوتا تھا وہ خصوصی طور پر کالے سفید چیک کی ہوا کرتی تھیں۔ سواری کے استعمال میں آنے والی اس بیل گاڑی کی لمبائی عام بیل گاڑیوں سے کچھ کم اور چوڑائی قدرے زیادہ ہوا کرتی تھی اور ان کو مقامی زبان میں ”رہلو“ کہا جاتاتھا۔ بیل گاڑی پربنے ان چلتے پھرتے خیموں کے اندر بیٹھنے کا بھی اپنا ہی لطف ہوتا تھا۔ کہیں بھی جانا ہوتا ان چلتے پھرتے خیمے نما بیل گاڑیوں میں ہی بیٹھ کر جاتے تھے ۔ شادی بیاہ میں جاتے وقت نوجوان لڑکیوں کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ اس خیمے میں ان کے ساتھ کوئی بزرگ خاتون نہ بیٹھے کیونکہ راستے میں جب لڑکیاں پردے ہٹاہٹاکر باہرجھانکتیں تو بڑی عمر کی خواتین ان کی چوٹیاں پکڑ پکڑ کر پیچھے کھینچتیں ، ڈانٹتی ڈپٹتیں اور بے پردگی کرنے کے جرم میں خدا کے عذاب سے ڈرا ڈر کر ادھ موا کر دیتیں۔
شادی بیاہ میں جانے کے لیے یہ رہلو بڑی ہی عمدہ سواری ہوا کرتے تھے ۔ مہمان خواتین کی یہ سواریاں (رہلو)جب آگے پیچھے شادی والے گھروں میں پہنچتیں تو نوجوان لڑکوں کی بن آتی ۔ گل رخوں کے دیدار کی آرزو میں سارے ہی مردانے میں جمع ہوجاتے اور آنے والی مہمان بیبیوں کے بھاری بھاری ٹین کے بکسے اٹھاکر زنان خانے میں پہنچانے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش میں پیش پیش رہتے۔ادھر یہ مہمان لڑکیاں بھی اِترا اِترا کر ان پردے والی بیل گاڑیوں سے اترتیں،کنکھیوں سے لڑکوں کو دیکھ کر مسکراتیں اور نوجوان کنواروں کے دلوں پر پیر رکھتی ہوئی زنان خانے میں داخل ہو جاتیں۔بیچارے لڑکے بس اتنے ہی دیدار کو خوش قسمتی سمجھ کر صبر کر لیتے۔
بیل گاڑی کے یہ سفرگرمیوں کے موسم میں بہت لطف دیتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ شادیوں میں جانے کے لیے کئی خاندان ایک ساتھ نکلنے کا پروگرام بناتے اور دن کی تیز گرمی سے بچنے کے لیے آدھی رات کے بعد سفر کا آغاز کرتے۔ اس وقت ڈاکوؤں وغیرہ کے خطرے بھی ہوا کرتے تھے۔خواتین ساتھ میں ہوتیں اس وجہ سے خاص طور پر ایک بیل گاڑی میں نوجوان لڑکے بندوقیں لے کر بیٹھتے اور ان بیل گاڑیوں کے کبھی آگے اور کبھی پیچھے چلتے ہوئے چوکس نگاہوں سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتے۔چاندنی راتوں میں دھیمے دھیمے چلتی ہوئی بیل گاڑیوں کا یہ قافلہ بہت پر اسرار سا لگتا تھا ۔ اوپر سے بیلوں کے گلوں میں پڑی ہوئی گھنٹیوں کا ترنم،دووور کہیں سے آتی ہوئی کسی پرندے کی گھٹی گھٹی آوازاور فضا میں پھیلی جنگلی پھولوں کی مہک ماحول کو خوابناک بناکرعجیب سا سرور بھر دیتی تھی۔ابھی دن کا اجالا پھیل ہی رہا ہوتا کہ یہ قافلے منزل مقصود پر پہنچ جاتے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here