دنیا میں ہر پانچویں سکنڈ پر 15 سال سے کم عمر کا ایک بچہ فوت ہوتا ہے: اقوام متحدہ کی رپورٹ

0
27

.سب سے زیادہ شرح اموات والے ملکوں میں پہلے پانچ سال میں بچوں کے مرنے کا خطرہ کم شرح اموات کے ملکوں کے مقابلے میں 60 گنا زیادہ ہے

نیویارک ،جنیوا، واشنگٹن ڈی سی ، 18ستمبر 2018: ایک تخمینہ کے بموجب سال 2017 میں15سال سے کم عمر 63لاکھ بچے ٰٓ یا ہر پانچ سکنڈ پر ایک بچہ ایسی بیماریوں کے سبب لقمہ اجل بنے ہیں جن میں سے بیشتر بیماریوں کا تدارک کیا جاسکتا تھا ۔ یہ انکشاف یونیسیف، صحت کے عالمی ادارہ (WHO)، اقوام متحدہ کے آبادی کے متعلق شعبہ United Nations Population Division اور ورلڈ بنک گروپ کی طرف سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے زیادہ تریعنی 54 لاکھ اموات زندگی کے پہلے پانچ سالوں میں واقع ہوئی ہیں جن میں نوزائیدہ بچوں کی تعداد تقریباً آدھی ہے۔
یونیسیف کے ڈیٹا، ریسرچ اور پالیسی شعبہ کے ڈائریکٹر لارنس چنڈی Laurence Chandy نے متنبہ کیا کہ ’’اگر فوری تدارکی اقدامات نہیں کیے گئے تو سن 2030 تک پانچ سال سے کم عمر 56 ملین یا پانچ کروڑ 60 لاکھ بچے ،جن میں نصف تعداد نوزائیدہ بچوں کی ہے، موت کا لقمہ بن سکتے ہیں ۔ ـ‘‘
’’ ہم نے 1990 سے بچوں میں ا موات کی شرح کو کم کرنے میں بڑی اور قابل ذکر پیش رفت کی ہے لیکن اس کے باوجود لاکھوں بچے موت کی آغوش میں جارہے ہیں ۔ اس کی وجہ وہ کس گھر میں اور کہاں پیدا ہوئے ہیں ۔ ہم ہر بچہ کی زندگی بچا سکتے ہیں صرف اس کے لیے ہمیں ادویات، صاف پینے کا پانی ، بجلی ، ویکسن (ٹیکے) جیسی چیزیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
عالمی سطح پر 2017 میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی کل تعداد اموات میں سے نصف افریقہ کے صحرائی ملکوں میں ہوئی ہیں اور مزید 30 فی صد اموات جنوبی ایشیاء میں واقع ہوئیں۔ افریقہ کے صحارا خطہ میں ہر 13 میں سے ایک بچہ اپنی پانچویں سالگرہ تک پہنچنے سے پہلے موت کے آغوش میں چلا جاتا ہے۔ اونچی آمدنی والے ملکوںمیں یہ شرح فی 185بچوں پر ایک ہے۔
عالمی ادارہ صحت یا WHO کے شعبہ خاندان، خواتین اور اطفال صحت کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر پرنسس نونو سائمے لیلاNono Simelela کے مطابق ’’ اب بھی ہر سال لاکھوں شیر خوار اطفال اور بچے پانی ، صفائی ، معقول تغذیہ یا بنیادی طبی سہولیات سے محرومی کے سبب موت کا نوالہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا کہ ’’ہمیں ہر بچہ کو خاص طور پر اسکی پیدائش کے وقت اور ابتدائی سالوں میں معیاری طبی سہولیات کو یکساں طورپر مہیا کرنے کو ترجیح دینا چاہیے تاکہ ہم ان بچوں کو زندہ رہنے اور نشوونما پانے کا بہترین موقع فراہم کرسکیں‘‘۔ پانچ سال سے کم عمر کے زیادہ تر بچے ایسے اسباب اور بیماریوں جیسے پیدائش کے وقت مسائل ، نمونیا، ڈائریا، نیو نٹال سیسیس neonatal sepsis اور ملیریا وغیرہ کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جو قابل علاج و قابل تدارک ہیں۔پانچ اور 14سال کے عمر کے بچوں کا موازنہ کیا جائے تو چوٹ اور زخموں کے سبب زیادہ اموات ہوتی ہیں ۔ اس کی اہم وجہ سڑک حادثے اور ڈوبنے کے واقعات ہیں۔ عمر کے اس گروپ میں علاقائی تفاوت بھی پایا جاتا ہے ۔ یوروپ کے مقابلے میں افریقہ کے صحرائی ملکوں میں ہر بچہ کے لیے ایسی موت کا خطرہ 15 گنا زیادہ ہے۔
دنیا بھر میں کہیں بھی بچوں کی زندگی کا پہلا مہینہ سب سے زیادہ پر خطر ہوتا ہے۔ سال 2017 میں 25 لاکھ بچے پیداہو تے ہی ایک مہینہ کے اندر فوت ہوگئے۔ ایک بچہ جو افریقہ کے صحرائی ملکوں میں یا جنوبی ایشیاء میں پیدا ہوتا ہے اس کے پیدائش سے ایک مہینے کے اندر میں فوت ہونے کا خطرہ اونچی آمدنی والے ملکوں کے مقابلے میںنو گنا زیادہ ہوتا ہے۔ پانچ سال کے بچوں کی زندگی بچانے کے لیے 1990 سے جس پیمانے پر کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس طرح کی کوششیں نوزائیدہ بچوں کو بچانے کے لیے نہیں ہورہی ہیں ان کی رفتار سست ہے۔
اس سلسلہ میں ملکوں کے اند ر بھی تفاوت پایا جاتا ہے۔ بطور مثال ، دیہی علاقوں میں پانچ سال عمر کے بچوں میںشر ح اموات ( اوسطا) شہری علاقوں کے مقابلے میں 50 فی صد سے زیادہ ہے۔ مزید برآں یہ کہ پانچ سال کی عمر تک پہنچے والے غیر تعلیم یافتہ ما وں کے بچوں میں ثانوی یا اعلی تعلیم یافتہ ماوں کے بچوں کے مقابلے میںموت کا خطرہ دو گنا ہوتا ہے۔
ان سب چیلنجوں اور مسائل کے باوجود اب ہرسال عا لمی سطح پر کم بچے موت کا نوالہ بن رہے ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں ڈرامائی انداز میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ یہ تعداد 1990 میں 12.6 ملین تھی جو اب 2017 میں 5.4 ملین رہ گئی ہے ۔ اسی طرح پانچ سے 14سال کے عمر کے بچوں میں بھی شرح اموات زوال پذیر ہے ۔ اس عرصہ میں یہ تعداد بھی 1.7ملین سے کم ہوکر ایک ملین ( دس لاکھ) رہ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے اکنامک اینڈ سوشل افئیرس کے انڈر سیکریٹری جنرل لیو زین من Zhenmin Liu نے کہا کہ یہ نئی رپورٹ اس نکتہ کو اجا گر کرتی ہے کہ 1990کے بعد سے نو خیزبچوں اور بچوں میں شرح اموات کم کرنے میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف Sustainable Development Goals کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انتہائی کمزور نوزائیدہ بچوں ، بچوں اور ماوں کو مدد بہم پہنچا کر تفاوت کو کم کیا جائے تاکہ کوئی بچہ قابل علاج بیماری کے سبب موت کا نوالہ بننے سے محفوظ رہے۔
رپورٹ میں ہندوستان کے بارے میں یہ نکات اہم ہیں :
٭ ہندوستان نے بچوں کی شرح اموات کو کم کرنے میں متاثر کن کامیابی حاصل کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے تخمینہ کے مطابق ہندوستان میں پہلی مرتبہ پانچ سال کے کم عمر بچوں میں اموات کی تعداد ایک ملین سے کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
٭ بچوں کی عالمی شرح اموات میں ہندوستان کا تناسب کا مسلسل کم ہورہا ہے ۔ یہ تناسب 2012 میں قریباً 22 فی صد تھا جو 2017 میں 18 فی صد رہ گیا۔ اور یہ پہلا موقع ہے ہندوستان کا عالمی شرح اموات میں تناسب اس کے شرح پیدائش کے تناسب کے برابر ہے ۔( ہندوستانکا عالمی شرح پیدائش میں حصہ 18 فی صد اور عالمی شری اموات میں 18 فی صد ہے۔)
٭ پانچ سال عمر کے بچوں میں ہندوستان کی شرح اموات فی 1000 بچوں پر 39 ہے جو اب عالمی شرح اموات کے مساوی ہے۔ جو اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے پچھلے پانچ سالوں میں ہندوستان میں بچوں کی شرح اموات ، عالمی شرح اموات کے مقابلے میں بڑی تیزی سے کم ہوئی ہے۔( بھارت میں فی ہزار بچوں پر 39 اموات ہیں جبکہ یہی تناسب عالمی سطح پر بھی ہے ۔)
٭ گزشتہ پانچ سالوں میں بچوں میں اموات کا جنسی فرق تقریباً چار گنا کم ہوا ہے اب پانچ سے کم عمر بچیوں میں شرح اموات 2.5 فی صد زیادہ ہے اور یہ شرح 2012 میں تقریبا 10 فی صد زیادہ تھی ۔ اس میدان میں پیش رفت کے باوجود اس سلسلہ میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ عا لمی سطح پر لڑکوں کے لیے یہ 11 فی صد زیادہ ہے ۔
٭ اسی طرح پانچ سال کے اند ر شرح اموات میں مسلسل اضافہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ پیدائش کے بعد ہونے والی اموات میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے ۔ اب نوزائیدہ بچوں کی اموات کا تناسب پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں 62فی صد ہے جو اس بات کا متقاضی ہے کہ مل سے قبل اور حمل کے بعدماں اور بچہ پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر یونیسیف انڈیا کی نمائندہ ڈاکٹر یاسمین علی حق نے کہا کہ ’’ بھارت نے بچوں کی شرح اموات کم کرنے کے معاملہ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اب اس کا پہلی مرتبہ شرح اموات کا تناسب شرح پیدائش کے برابر ہے۔ دیہی علاقوں میں طبی سہولیات پہنچانے اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت ، ٹیکہ کاری کے نظام کو موثر اور جامع بنانے کے نتیجے میں یہ سب ممکن ہوسکا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین نے کہا کہ سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ بچوں کی حفاظت میں جو جنسی فرق تھا وہ چار گنا کم ہوا ہے اب پانچ سال سے کم عمر کی بچیوں میںاموات کی شرح بچوں کے مقابلے تقریباً ڈھائی فی صد زیادہ ہے۔ یہ سب پوش ابھیان ( نیشنل غذائی مشن) اور ہندوستان کو 2019 تک کھلے آسمان کے نیچے رفع حاجت سے پاک بنانے کی مہم پر بھرپور توجہ دینے کے نتیجہ میںہوا ہے اور ن دونو ں مہم سے اس جہت میں پیش رفت کو تیز کرنے میں مدد ملے گی ۔
مزید معلومات کے لئے یونیسیف کی اس سائٹ پر رابطہ کریں :
www.unicef.in.
مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کریں:
Geetanjali Master,
Communication Specialist,
Tel: 91-981 810 5861,
E-mail:gmaster@unicef.org
Sonia Sarkar,
Communication Officer – Media
Tel: +91-981 017 0289,
E-mail:ssarkar@unicef.org

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here