کورونا وائرس :اللہ تعالی کی طرف سے دنیا کی مرمت

0
105
کورونا وائرس :اللہ تعالی کی طرف سے دنیا کی مرمت
کورونا وائرس :اللہ تعالی کی طرف سے دنیا کی مرمت

 

 

 

 

 

 

 

 

 

رضوان سلطان
پوری دُنیا کا لگ بھگ ہر ایک ملک اس وقت کرونا وائرس نامی وبائی بیماری پر قابو پانے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے ۔لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں اس وبائی میں مبتلا ہو رہے ہیں وہیں درجنوں اموات بھی ہر روز ہو تی جا رہی ہیں ۔تادم تحریر پوردنیامیں۲۴لاکھ کے قریب افراد اس بیماری میں مبتلا جبکہ ایک لاکھ ستر ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے ہیں ۔جبکہ اس وقت دنیا کے سپر پاوراور دوسرے ممالک کو اپنی انگلی کے اشاروں پر نچوانے والا امریکہ کو اس وائرس نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہوا ہے ۔اس ملک میں ۸ لاکھ کورونا کیسز سامنے آئے ہیں وہیں ۴۰ ہزار افراد جاں بحق بھی ہوئے ہیں ۔
ایک طرف جہاں پوری دنیا کسی طریقے سے اس وائرس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہی ہے وہیں دوسری طرف اس وائرس کے متعلق’’ سازشی تھیوریز ‘کے پھیلائو میںبھی ہر گرزتے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان پر سینکڑوں مضامین بھی لکھے جا چکے ہیں اور لکھے جا رہے ہیں ۔ طاقتور ممالک بھی اس وائرس کے پھیلنے میں ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر رہے ہیں ۔ امریکہ نے کبھی اسے چین کی ساز ش قرار دے کر اسے ووہان وائرس قرار دیا وہیں چین کی جانب سے یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ یہ وائرس امریکی فوج کی جانب سے ووہان شہر لایا گیا ۔کچھ مضامین تو اس بات کی طرف بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ یہ اسرائیل اور امریکہ کی چین کے خلاف سازش ہے تاکہ وہ دنیا کا اگلا سُپرپاور نہ بن سکے ۔نیویارک پوسٹ میں شائع ہوئی ایک خبر کے مطابق ہو سکتا ہے یہ وائرس چین کی ایک لیبارٹری سے پھیلا ہوسکتا ہے جہاں مختلف اقسام کے وائرس پر تجربات کئے جاتے ہیں ۔اس لیبارٹری میں وائرس زدہ جانوروں کو جلا کر رکھاجا تا ہے تاکہ وائرس باہر نہ نکلے۔لیکن یہاں سے کوئی وائرس زدہ جانور لیبارٹری کے ملازم رشوت کے عوض مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں جہاں سے لوگ اسے پکانے کیلئے خرید لیتے ہیں ۔ اس وائرس کے جنگلی جانوروں میں موجود ہونے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں جن میں چونٹیاں کھانے والا پینگوئن بھی ہے جسے چینی لوگ بھی کھاتے ہیں ۔جانوروں میں پائے جانے والے وائرس پر کام کرنے والی وائرلالوجی کی ایک بائیو سیفٹی لیبارٹری ووہان میں بھی موجود ہے جہاں سے یہ وائرس پھیلا تھا ۔
لیکن دوسری سے جہاں بڑی بڑی ترقی یافتہ طاقتوں کا دھیان نہیں گیا اور جن طبی نظام کیلئے جانی جانے والی طاقتوں کے پاس آج وینٹی لیٹرس کم پڑ رہے ہیں کا دھیان اللہ تعالی کی قدرت کی طرف نہیں گیا جس نے زندگی گزارنے کیلئے اتنی بڑی دنیا عطا کی وہیں اس پر کیسے زندگی جینی ہے وہ بھی بتا دیا ۔لیکن انہی بڑی طاقتوں کی جانب سے دنیا پر اپنادبدبہ جمانے کیلئے جہاں تک ہو سکا اس زمین پرموجود وسائل کے مانو پرخچے اُڑادئے ہوں۔ اور اب یہ سیارہ رہنے کے قابل ہی نہیں رکھا ۔جب کوئی انجینئر کوئی چیز مثال کے طورپر موبائل فون ہی لے لیں بنا لیتا ہے تواس کے ساتھ ای مینیو بھی ضرور ہوتا ہے کہ اسے استعمال کیسے کیا جائے اور اگر اس فون کو ویسے استعمال نہیں کیا جائے گا تو نتیجے کے طور پر یہ کام کرنا ہی بند کر دے گا اور آپ کو پھر اسے کسی موبائل انجینئر کے پاس لے جانا ہو گا جو اسے ٹھیک کے آپ کو دیدے۔اور حال اس دنیا کا بھی ہے جس خالق نے اسے بنایا اس نے یہاں کیسے جیا جائے اسکے لئے باضابطہ ایک طریقہ کاربھی وضع کیا تھا ۔اس خالق نے ہمارے کھانے پینے،رہن سہن ،حلال حرام ، جائز ناجائز اور پاک ناپاک کی حدیں بھی مقر ر کر کے کھیں ،جو کہ انسان کیلئے سزا نہیں بلکہ ایک نجات کا سامان تھا ۔لیکن اس انسان نے ان تمام حدود کو روندتے اور پھلانگتے ہوئے اپنے مزے اور خواہش کے مطابق اس عطا کردہ سیارے میں زندگی جی اور دوسروں کو بھی یہی مشورہ دیا۔لیکن آہستہ آہستہ کائنات کی اس گاڑی میں خرابی آنے لگی یہ انسان اپنی خواہشات کی تکمیل میں تو مست رہا لیکن اس گاڑی کو بنانے والے نے اسے اوورہالنگ کرنے کا سوچا اور وہی ہوا اور اسی دور سے اس وقت یہ سیارہ گزر رہا ہے ۔
اگر ہم چین سے ہی شروع کریں تو جہاں سے یہ وائرس پھیلا وہاں چمگادڑوں کے سوپ تک بڑے مزے سے پیا جاتا ہے اور سانپ کیا کتے اور بچھو تک بھی ان کی غذا میں شامل ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا آبادی والا چین ترقی میں آگے ہے لیکن یہی ملک دنیا میں بدترین آلودہ ممالک میں بھی شمار کیا جا تا ہے ۔امریکی خلائی ایجنسی ناساکی جانب سے رواں سال مارچ میں چین کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر جاری کی گئی جس میں یہ سامنے آیا کہ چین میں فضائی آلودگی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے ۔یہ کمی چین میں معاشی سرگرمیوں پر بریک لگنے کے بعد سامنے آئی ہے ۔ کیوں کہ چین کی فضائووں میں مضر صحت نائٹروجن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج میں غیر معمولی کمی دیکھنے کو ملی ہے ۔دراصل انسانی تجربات کے باعث قدرتی ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کو گوبل وارمنگ کہا جاتا ہے ۔اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ بڑی بڑی صنعتوں ، مشینوں ،چمنیوں ،فیکٹریوں ااور انجنوں سے نکلنے والے دھویں کی شکل میںنائٹروجن ،کاربن اور میتھین جیسی مہلک گیسیں ہیں جو ہماری فضا کو آلودہ کر دیتی ہیں ۔گلوبل وارمنگ کی وجوہات میں سے ایک وجہ گریس ہاوس گیسیں ہیں ۔ گرین ہاوس گیسز ،کاربن ڈائی آکسائڈ ۸۱ فیصد ، نائی ٹرس آکسائڈ ۶ فیصد،میتھین دس فیصد اور کلورو فلورو کاربن تین فیصد پر مشتمل ہوتی ہیں ۔ ان گیسوں کے اخراج میں ۶۴ فیصد ذمہ داری انسانی سرگرمیوں پر عائد ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے میں ہر سال گیسوں میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے ۔ یہ گیسیں ہماری زمین کے اوپر فضا میں ایک ایسا دائرہ کھینچ دیتی ہیں جو سورج سے حرات کو زمین پر تو آنے دیتا ہے لیکن واپس نہیں جانے دیتا جس کی وجہ سے زمین کا درجے حرارت بڑھنا شروع ہو تا ہے ۔سورج کی تپش کو روکنے کیلئے کرہ ارض پر قائم حفاظتی نظام غلاف جسے ہم اوزون لیئر کہتے ہیں، اسمیں سوراخ ہو گیا ہے جس کے باعث سورج کی مضر شعائیں زمین کی سطح تک پہنچ کر درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب درجہ حرارت بڑھ جانے سے زمین کے قدرتی نظام میں خلل پڑ گیا ہے ۔ پہاڑوں سے برف تیزی سے برف پگھل رہی ہے ۔ سیلاب عام ہوتے جا رہے ہیں ، بے وقت بارشیں ہو رہی ہیں ۔ماہرین موسمیات کے مطابق اسی طرح سے سردیوں کا موسم ۱۱۰ دنوں سے سکڑ کراسی، پچاسی دنوں کا رہ جائے گا ۔ موسم بہار صرف بیس برس قبل چالیس سے پچاس دنوں کا ہوا کرتا تھا لیکن یہ اب پندرہ سے بیس دنوں کا ہو چکا ہے ۔جنگلات جو کہ کاربن ڈائی آکسائڈ کوجذب کرنے میں انتہائی اہم کرداراداکرتے ہیں ہے مگر دنیا میں ہر گزرتے دن تعمیرو ترقی کیلئے استعمال کئے جانے والے جنگلات کی کٹائی کے باعث اس گیس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
’گلوبل کاربن پروجیکٹ ۲۰۱۸ ‘کی جانب سے شائع ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے پانچ ممالک جن میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج ہوتا ہے ان میں چین ،امریکہ ، انڈیا ،روس اور جاپان ہیں ۔ اس رپورٹ کے مطابق چین میں صرف ۲۰۱۷ میں 9.8میٹرک ٹن اس گیس کا اخراج ہوا ،جو کہ دنیا میں ۲۷ فیصدی بنتا ہے ۔چین ۷۰ فیصد توانائی کوئلے سے ہی حاصل کرتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر مارشل برک کے مطابق اگر صحت کے فوائد کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چین میں فضائی آلودگی میں کمی کے باعث پچھلے دو مہینوں(جنوری اور فروری) میں پانچ سال سے کم عمر کے چار ہزار بچوں اور ستر سال سے زائد عمر کے ۷۳ہزار جانیں بچی ہیں ۔ جبکہ چین میں کرونا سے صرف چار ہزار سے زائد افراد ہی ہلاک ہوئے ہیں ۔اسی طرح سے امریکہ جو کہ اسوائر سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے وہاںپر 5.3 بلین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج ہوا ۔تیسرے نمبر پر بھارت ہے جس میں ۲۰۱۷ میں 2.5بلین میٹرک ٹن کاربن کا اخراج ہوا۔دلی میں لاک ڈائو ن شروع ہونے سے قبل فضائی کوالٹی ۲۱۴ تک پہنچ گئی تھی لیکن لاک ڈائون کے دوران یہ کم ہو کر ۶۵ پر آگئی۔ اسکے علاوہ دیگر شہروں میں بھی ائر کوالیٹی میں بہتری دیکھی گئی ۔۶ اپریل کو تو جالندھر سے لگ بھگ تیس سال کے بعد ہماچل پردیش میںکوہ ہمالیہ کی چوٹیاں دیکھائی دیں۔چوتھے نمبر پر اس گیس کا اخراج ۲۰۱۷ میں روس نے مجموعی طور پوری دنیا کا4.6فیصدی کیا جبکہ پانچویں نمبر پر جاپان نے تین فیصدی کیا۔پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی پچاس سے ستر فیصد تک ہوائی آلودگی میں کمی دیکھی گئی ۔اٹلی کی وینس ندیاں کا پانی بھی لاک ڈائو ن کے دوران بالکل صاف دیکھائی دیا جانے لگا ۔ اب اگر فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات پر نظر ڈلایں تواقوام متحدہ ہر چند سال بعد ’گلوبل انوائرمنٹ آوٹ لک‘کے عنوان سے رپورٹ جاری کرتی ہے ۔۲۰۱۹ میں اس رپورٹ کو شائع کرنے والے انوائرمینٹل سائنس دانوں ،جوئیتا گپتا اور پال ایکنز نے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دنیا میں ہر سال ستر لاکھ افراد فضائی آلودگی سے موت کا شکار ہوتے ہیں ۔اسی طرح سے ’گلوبل ایلائنس برائے صحت وآلودگی ‘ کے مطابق بھار ت میں سب سے زیادہ اموات آلودگی سے ہی ہوتی ہیں ۔ گلوبل الائنس کی تحقیق کے مطابق بھارت میں آلودگی سے ہر سال ۲۳ لاکھ قبل از وقت اموات ہوتی ہیں جن میں سے فضائی آلودگی سے 12.4لاکھ اموات ہوتی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی ایڈز سے تین گنا زیادہ اموات آلودگی سے ہی ہوتی ہیں ۔جبکہ جنگ یا تشدد سے ۱۵ گنا زیادہ اموات کا ذمہ دار بھی آلودگی ہی ہے ۔ اسی طرح سے بھارت کے بعد چین میں آلودگی سے ساڑھے ۱۸ لاکھ اموات آلودگی سے ہر سال ہوتی ہیں ۔ جبکہ پاکستان ،بنگلہ دیش اور انڈونیشا کے تین ممالک میں ۲ ،۲ لاکھ اموات ہر سال ہوتی ہیں ۔ وہیں دنیا کے طاقتور ملک امریکہ نے ایک لاکھ ۹۷ہزار اموات آلودگی سے ۲۰۱۷ میں ہوئی ۔ مجموعی طور پر۲۰۱۷میں ۸۳ لاکھ افراد آلودگی سے ہلاک ہوئے۔
تو یہ ہے اشرف المخلوقات جس نے اس سیارے کو اب رہنے کے قابل بھی نہیں رکھا تھا ۔ لیکن اللہ تعالی کی جانب سے اب اسکی’ اوور ہالنگ‘ کی جا رہی ہے ۔آسمان جو دھندلا دیکھائی دے رہا تھا اب اب اپنے نیلے رنگ میں دکھ رہا ہے ۔کشمیر کی ہی اگربات کریں تو ۲۰۱۵ میں ’ڈائریکٹوریٹ برائے ماحولیا ت ‘کی جانب سے ایک تحقیق کے مطابق سرینگر اوراس کے محلقہ علاقوں میں ۵۰ فیصد آبی ذخائر ختم کئے گئے ہیں ۔اسی طرح سے جھیل ڈل کا ۳۶ فیصدی حصہ بھی ختم کر لیا گیا ہے ۔وہیں کشمیر میں ۲۰۱۵سے ۲۰۱۸ کے درمیان ۷۸ ہزار کنا ل کی زرعی زمین نئی تعمیرات کے نیچے دفن کر دی گئی ہے ۔
الغرض جو طریقہ زندگی جینے کا بڑی طاقتوں نے اس دنیا کو چلانے کیلئے پیش کیا وہ ناکام ہو کر رہ گیا ہے وہ غلط طریقہ ہے بلکہ الٹا ہے اس طریقے سے تو یہ سیارہ ہی اب رہنے کے قابل ہی نہیں رہا ہے ۔انسان تو خود ایک بڑا وائرس جانوروںکے لئے بن گیا ہے لیکن اب کچھ ماہ سے وہ بھی بڑے سکون سے تیر رہے ہوں گے اور چل پھر رہے ہوں گے۔اس وائرس کے بعد اب اشرف المخلوقات کو زندگی جینے کا طریقہ بدلنا ہو گااور اس سیارے کو بنانے والے کا مینو ہی استعمال کرنا ہوگا۔ اور یہ وائرس اگر زحمت ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ رحمت بھی ہے ۔
ٰibnsultan100@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here