خودکشی کیوں کرتے ہیں لوگ ۔خودکشی کا زیادہ رجحان میڈیا اورشوبزمیں کیوں؟

0
131
خودکشی کیوں کرتے ہیں لوگ ۔خودکشی کا زیادہ رجحان میڈیا اورشوبزمیں کیوں؟
خودکشی کیوں کرتے ہیں لوگ ۔خودکشی کا زیادہ رجحان میڈیا اورشوبزمیں کیوں؟

لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔سو شانت کی خودکشی نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب یہ ریسرچ کی جارہی ہے کہ آخر نوجوانوں میں خودکشی کا رحجان کیوں زور پکڑ رہا ہے ۔اور شو بز کے لوگ ہی کیوں کر رہے ہیں خودکشی۔جانئے وجہ۔اس اہم مضمون کے ذرئعے

” کچھ واقعات اور سانحات ایسے رونما ہو جاتے ہیں  جنہیں دیکھ اور سنکر ہم ساکت و جامد رہ جاتے ہیں۔حیرت اور ہے یقینی کی کیفیت لیے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے؟ ایک محروم، مجبور، اور نادار انسان مایوس ہوکر زندگی کے خاتمے پر مجبور ہو تو عقل قبول بھی کر لے۔ حا لاں کہ زندگی ختم کرنے کا اس کا فعل بھی نا قابلِ قبول اور تکلیف ده ہے۔ مگر جس شخص کے پاس دنیا کی ہر آسائشیں موجود ہو ، شہرت کی بلندیوں پر ہو، مستقبل کے پلان ریڈی ہوں، وہ شخص بھی ایسے قدم اٹھانے کی جسارت کر سکتا ہے ۔ یہ حیران اور متفکر کر دینے والی بات ہے۔ سوشانت کی خود کشی نے بھی بہت سے سوال میرے ذہن میں پیدا کیے۔ اُس کے مذہب،شخصیت، ماضی کو درکنار کر میں نے بہ حیثیت ایک انسان اس کی خودکشی پر تکلیف محسوس کی بلکہ ہر حساس ذہن نے کی ہوگی۔ ہماری زندگی میں بھی بہت سے لمحات ایسے آتے ہیں جب ہم خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ ایسی مشکلات بھی آتی ہیں جب راہیں مسدود اور حل محدود ہو جاتے ہیں۔ خوف، ہے بسی،ہے چارگی غالب آتی ہے اور زندگی کے سارے رنگ تاریکی میں گم ہو جاتے ہیں۔پھر جیسے زندگی بوجھ محسوس ہوتی ہے اور چہرے پے کرب کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔آنکھوں میں اُمید کی ساری چمک معدوم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ہمارے کِسی اپنے کی نظر پڑتی ہے اور وہ اندر کا درد محسوس کر لیتا ہے، پھر بڑے پیار سے ہمارے کندھے پے ہاتھ رکھ کر پوچھتا ہے کیا ہوا؟بہت پریشان ہو؟ اور اُسی لمحے ہمارا سارا درد، ہے بسی،کرب آنسوؤں کی صورت میں اُس ہمدرد کے شانوں پے ڈھلک جاتے ہیں۔پانی کی شکل میں بہہ جاتے ہیں۔ اُن لمحوں میں کوئی حل ملے نہ ملے مگر مایوسی کے با دل ضرور چھٹ جاتے ہیں۔غبار ختم ہو جاتا ہے۔زہن کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔زندگی کی کرن دبیز کہر میں  پھوٹ نکلتی ہے ۔ سوشانت کے پاس کوئی ایسا ہمدرد نہیں تھا۔ جبکہ اس کے آثار نظر آرہے تھے۔ اس کی ٹوئٹر کی لاسٹ پوسٹ  اور ٹویٹر کا کور فوٹو جسمیں اس نے ایسی پینٹنگ لگائی تھی جسکے خالق اور فنکار نے خودکشی کی تھی۔ وہ پچھلے 6 مہینے سے ڈپریشن میں تھا اور اپنے انٹرویو میں اُسکا اشارہ بھی کہیں نہ کہیں دے رہا  تھا۔ مشہور اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنے ٹوئٹر پے ویڈیو اپلوڈ کر اُسکا انکشاف بھی کیا ہے۔ اُسکی موت کے بعد بہت سے لوگوں نے بہت کچھ کہا ایک بچپن کے دوست کا آرٹیکل بھی  ہندی کے مشہور اخبار میں آیا مگر جب  سوشانت کو ضرورت تھی تو کِسی دوست کِسی اپنے کا ہاتھ نہیں بڑھا کوئی اُسکی دہلیز تک نہ پہنچا۔ ہمارے شہر وں کی پرائیویسی کلچر نے نہ جانے کتنی زندگیوں کو یوں تنہا مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔۔ہم گاؤں کی بے جا مداخلت سے پریشان ہو کر شہر کا رخ کرتے ہیں تا کہ زندگی کا بھرپور لطف اٹھا سکیں مگر  جب ہم پریشان ہوتے ہیں کسی کشمکش کا شکار ہوتے ہیں تب اس پرائیویسی کلچر کی حقیقت ہم پر آشکار ہوتی ہے اور اس کی خوفناک تصویر ہمارے سامنے ہوتی ہے۔ جس کی بدولت  ہم ہمدردی کے دو بول سننے کے لیے ترس جاتے ہیں۔ کوئی کندھا نہیں ملتا کہ اس پر سر رکھ کر ہم دل کا غبار نکال سکیں۔ کوئی نہیں ہوتا جو دیر تک تنہا کمرے میں بند ہونے پر دروازہ کھٹکھٹا کر زبردستی وہاں سے نکال کر باہر لے جا سکے اور مایوسی کے اندھیرے میں اُمید کی کرن د کھا سکے۔ 34سالہ خوب رو اور معصوم سی مسکراہٹ رکھنے والا سوشانت ،جس کے پاس دولت ،شہرت اور راحت و آرام کے تمام اسباب موجود تھے ۔لگاتار کامیابیوں کے بعد و ه اس وقت بالی ووڈ میں عروج کی سیڑھی پر قدم رکھ کر تمام سپر سٹار کے مدِ مقابل اپنی الگ شناخت  بنا  رہا تھا کہ اچانک سب کچھ ختم ہوجاتا ہے اوراس کے گھر سے اس کی مردہ لاش ملتی ہے ۔ وجہ ؟ڈیپریشن ،مایوسی اور ناامیدی ۔   دراصل ڈیپریشن  وہ بیماری ہے جو آج  کل حد سے زیادہ بڑھ رہی ہیں۔ کامیاب ترین شخصیات کہ جنہیں نوجوان طبقہ اپنا آئیڈیل مانتا ہے اور ان کی طرح طرزِ زندگی اپنانے کا خواہاں ہے  ۔ وہ شخصیات بھی اپنی زندگی میں شدید ڈیپریشن کی شکار ہیں ۔ یہ ہمارے لیے باعثِ حیرت ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان پوری زندگی جس چیز کے پیچھے اپنی ساری توانائی لگادیتا ہے تو پھر اس کے مل جانے کے بعد بھی وہ زندگی سے بیزار کیوں ہوجا تا ہے ۔حالانکہ اس کی زندگی تو سب سے زیادہ شاندار ہونی چاہیے ؟ دراصل جب انسان اپنے مقصد کو حاصل کر لیتا ہے اپنے خوب پورے کر لیتا ہے تو اس کے پاس کوئی محرک نہیں رہتا جو اسے جدوجھہد کے لیے آمادہ کرے۔ وہ شہرت اور کامیابی تو حاصل کر لیتا ہے لیکن اس کو سنبھالنا نہیں سیکھ پاتا۔ عروج پر پہنچ کر ذرا سی مشکل آنے پر وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔اپنی شہرت میں ذرّہ برابر کمی ناقابلِ برداشت ہوتی  ہے۔مستقبل کو لیکر غیر یقینی صورت حال اُسے مایوسی کے اندھیرے میں گم کر دیتی ہے اور نتیجہ خود کشی کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل مادیت پسند ہو گئی اُسے مطمئن ہونا نہیں آتا۔ وہ زندگی کی خوشیاں اشیاء اور آسائش میں تلاش کرتی ہے۔اسٹیٹس اور نمود و نمائش کو ہی وہ زندگی کا مقصد گردانتی ہے۔ اُن کے نزدیک رشتے ناطے، محبت و خلوص کی کوئی قدر نہیں ہے۔  جس سے مشکل وقت میں وہ تنہا رہ جاتے ہیں۔ جدید ریسرچ کے مطابق دنیا میں ہر سال 8لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔ ہر 16 منٹ کے بعد ایک انسان خودکشی کررہا ہے۔17 سے 34 سال کے درمیان والے لوگوں میں مرنے کی وجوہات میں دوسری بڑی وجہ خودکشی ہے۔سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات بدھ کے روزہوتے ہیں اورخودکشی کی تین بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ “ذہنی صحت” ہے ۔”ذہنی صحت”کی خرابی کی بڑی وجہ ڈیپریشن ہے ،جس میں مبتلا شخص کو خودکشی کے خیالات زیادہ آتے رہتے ہیں ۔ ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا میں خودکشی کا زیادہ رجحان میڈیا اورشوبزسے منسلک لوگوں میں ہوتا ہے ،کیونکہ اس فیلڈ میں پیسہ اور گلیمربہت زیادہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں میں کھوکھلا پن بھی زیادہ ہوتا ہے ۔اسی طرح بڑے بزنس مین ، بیوروکریٹ اورکامیاب شخصیات میں بھی خودکشی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان لوگوں کاکوئی مخلص دوست نہیں ہوتا ،یہ اپنی دِل کی بات کھل کر کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتے ۔یہ لوگ زندگی میں کامیابیاں تو شاید بہت سمیٹ لیتے ہیں لیکن انہی کامیابیوں کی وجہ سے وہ معاشرے سے کٹ کرتنہائی اختیار کرلیتے ہیں ،جبکہ تنہائی ،ذہنی بیماری کو مزیدتقویت دیتی ہے اور یہی چیز ان کی خودکشی کا سبب بنتی ہے۔ سوشانت کی موت پر بہت سے لوگوں نے مختلف انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کچھ نے منفی کچھ نے مثبت۔کہیں ہمدردی تھی افسوس تھا تو کہیں حقارت اور حماقت بھی نظر آئی۔مذہبی نقطہء نظر سے بھی لوگوں نے اس واقعہ کو پر کھا۔واعظ و نصیحت کے دور بھی چلے۔ یہ سب اپنی جگہ مگر اُن سے پوچھیے جنکا لختِ جگر خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کو  ختم کر گیا۔ اُن بہنوں کو کون سمجھائے جنکا لاڈلا بھائی ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا۔ خدا زندگی میں اتنی مایوسی نہ لائے کہ موت ہی واحد حل نظر آئے۔ایسا نہیں کہ مرنے والے کو  اپنوں کا خیال نہ آیا ہوگا مگر کیا کیجئے کہ اُسے اس کے سوا کوئی صورت بھی نظر نہ ائی ہوگی۔ کبھی بھی کسی اپنے کے چہرے پر زندگی سے فرار کے نشان نظر آئیں موت کو گلے لگانے کی اذیت دکھائی دے آنکھوں میں نا اُمیدی کی جھلک نظر ائے۔ تو آگے بڑھکر اُسکا ہاتھ تھام لیجئے گا۔ایک کوشش ضرور کیجئے گا۔ اُسے خود کشی  سے بچا نے کی

عرشیہ انجم

Article by Arshia Anjum

Why people do suicide specially showbiz people

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here