مودی حکومت کاجی ایس ٹی فنڈ کو دوسرے مقاصد کیلئے استعمال غلط

0
92
مودی حکومت کاجی ایس ٹی فنڈ کو دوسرے مقاصد کیلئے استعمال غلط۔
مودی حکومت کاجی ایس ٹی فنڈ کو دوسرے مقاصد کیلئے استعمال غلط
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے اخباری اعلامیہ میں کمپٹرولر آڈیٹ جنرل کے تحقیقاتی رپورٹ کو تشویشناک قرارد یا ہے جس میں کہا گیا ہے مودی حکومت نے جی ایس ٹی معاوضہ سیس فنڈ کو دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے۔ ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ بے ایمانی اور غلطیاں مودی حکومت کی پہچان بن چکی ہے۔ جی ایس ٹی معاوضہ سیس ایکٹ 2017کی دفعات کے مطابق پورے سال کے دوران جمع کی جانے والی سیس کی رقم کو جی ایس ٹی معاوضہ فنڈ میں جمع کرنا ہوتا ہے۔ ریاستوں میں جی ایس ڈی نفاذ کی وجہ سے اس رقم کوصرف معاشی نقصان کی تلافی کیلئے استعمال کیاجاسکتا ہے۔ لیکن اب کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے حکومت نے جی ایس ٹی سیس سے حاصل کی گئی 42,272کروڑ روپئے کی رقم کو دیگر اشیاء کے ساتھ خرچ کررہی ہے اور جی ایس ٹی معاوضہ ایکٹ 2017  کے قواعد کی صریخ خلاف ورزی کی ہے۔ سی اے جی کی انکشاف نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ مرکزی حکومت کتنی بے ایمان ہے اور قانون سے کتنی لاپروہ ہے۔ ریاستوں کو اس فنڈ میں ان کے قانونی حصہ سے انکار کیا جارہا ہے۔ دوسرے مقاصد کیلے اتنی کثیر رقم کا استعمال کرنے کے بعد مرکزی حکومت ریاستوں کو اپنے اخرجات پورا کرنے کیلئے قرض لینے کو کہہ رہی ہے۔ مرکزی وزیر نرملا سیتا رامن نے گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ جی ایس ٹی قانون حکومت کو جس ایس ٹی معاوضہ دینے کیلئے ہندوستان کے کونسولیڈیٹ فنڈ (سی ایف آئی) کی رقم استعمال کرنے کی اجاز ت نہیں دیتا۔ یہ رقم جی ایس ٹی سیس سے ملنے والی فنڈ ز سے ہی دی جاسکتی ہے۔ مرکزی وزیر کا یہ بیان سی اے جی رپورٹ کے اس انکشاف کے منافی ہے، مرکزی حکومت نے اس رقم کو جی ایس ٹی معاوضہ سیس فنڈ میں منتقل کرنے کے بجائے اسے سی ایف آئی میں رکھا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ مرکزی حکومت ملک کی مالی حیثیت کے بارے میں غلط معلومات شائع کرکے ملک اور عوام کودھوکہ دے رہی تھی۔ جب سے مودی سرکار نے مرکزمیں اقتدار سنبھالا ہے تب سے ہی جمہوریت سمیت ایک مہذب ملک کے سارے عناصر تباہی سے دوچار ہیں۔ ایک ایسا ملک جو معاشی نمو میں سب سے آگے بڑ ھ رہا ہے، اسے حکمرانوں کی ایک نااہل ٹیم نے زبردستی نیچے کی طرف پہنچا دیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین کی غیر موجودگی میں بلوں کو منظور کرکے جمہوری قانون سازی کے بنیاد ی اصولوں کو توڑا جارہا ہے۔ حال ہی نافذ کردہ زرعی بل کسان مخالف اور کارپوریٹ کی حمایت کرنے والا بل ہے۔ حکومت عوام کی خدمت نہیں کررہی ہے بلکہ وہ چند منتخب کردہ کارپوریٹس کی خدمت کرتی نظر آرہی ہے۔ ملک کی دولت کو حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں کی نشونما کیلئے لوٹا جارہا ہے۔ سی اے جی کا انکشاف کے جی ایس ٹی معاوضہ سیس فنڈ دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے وہ باعث تشویش ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فنڈ کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ بی جے پی بھاری رقم دیکر اراکین اسمبلی کو خرید کر جمہوری طور پر منتخب اپوزیشن پارٹیوں کی قیادت والی حکومتوں کو گرا رہی ہے۔ اس کی تفیش کی جانی چاہئے کہ کہیں جی ایس ٹی معاوضہ سیس فنڈ کو حکومتوں کو گرانے کیلئے تو نہیں استعمال کیا گیا تھا؟۔ ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ ملک سے محبت کرنے والے لوگوں کے بیدار ہونے سے ہی مرکزمیں ملک مخالف دشمنوں کو اقتدار سے ہٹایا جاسکتا ہے اور فسطائی طاقتوں کو جمہوری طور پر اقتدار سے بے دخل کرنے سے ہی ہمارے ملک کو بچایاجاسکتا ہے


SADA TODAy WEB PORTAL

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here