جنگ سے نفرت ہے ہمکو. ہم ہیں قائل عالمی سُکھ شانتی اور امن کے

0
45
جنگ سے نفرت ہے ہمکو. ہم ہیں قائل عالمی سُکھ شانتی اور امن کے
جنگ سے نفرت ہے ہمکو. ہم ہیں قائل عالمی سُکھ شانتی اور امن کے

جنگ سے نفرت ہے ہم کو ۔چین کا حملہ اور ہمارے فوجیوں کی شہادت
جنگ سے نفرت ہے ہمکو
ہم ہیں قائل عالمی سُکھ شانتی اور امن کے
جنگ سے نفرت ہے ہمکو
ہم مُخالِف ایٹمی ہتھیاروں کے اور بَم کے ہیں
ہم مُخالِف خون میں ڈُوبے ہُوئے پَرچم کے ہیں
ہم مُخالِف خونِ ناحق اور شور و شَر کے ہیں
جنگ سے نفرت ہے ہمکو
نسلِ آدم سِسکے تڑپے معذور و مظلوم ہو
سُرخ سائے موت کے ناچیں بساطِ زِیست پر
ہم نہ ایسا ہونے دیں گے
شعلے بھڑکیں لہلہاتے کھیتوں میں اُٹّھے دُھواں
سُوکھ جائے کوکھ اِس دھرتی کی اور یہ بانجھ ہو
ہم نہ ایسا ہونے دیں گے
لاش خود اپنی اُٹھائے کاندھوں پر ماتم کرے
تِلمِلائے فاقوں سے اِنسان گُھٹ گُھٹ کر مرے
ہم نہ ایسا ہونے دیں گے
مانگ ہو سُونی کِسی کی یا کِسی کی اُجڑے گود
جیتے جی مَر جائے کوئی ، کوئی ہو جائے یتیم
ہم نہ ایسا ہونے دیں گے
اب نہ ہونے دیں گے ہم اِنسانیت کو جاں بلب
سَر کُچل دیں گے عداوت کے مچلتے ناگ کا
آندھی خاک و خوں کی سَرحد پر نہ چلنے دیں گے ہم
جنگ ہم ہونے نہ دیں گے اِس زمیں پر پِھر کہیں
جنگ ہم ہونے نہ دیں گے
نسلِ آئندہ کو ہم بڑھنے نہ دیں گے اِس طرف
نسلِ ؤئندہ کو ہم پڑھنے نہ دیں گے یہ سبق
ہم ہیں قائل عالمی سُکھ شانتی اور امن کے
جنگ ہم ہونے نہ دیں گے
جنگ سے نفرت ہے ہمکو
جنگ ہم ہونے نہ دیں گے
٭٭٭

جنگ
( سانیٹ )
٭
ہم نہیں یہ کہتے خُود تاریخ ہے اِس کی گواہ
کرتی ہے تاراج کل کو جنگ جو ہوتی ہے آج
جنگ آنے والی نسلوں سے بھی لیتی ہے خراج
روک لیتی ہے یہ آگے بڑھنے کی ہر ایک راہ
جیتنے والا بھی اِس میں ہوتا ہے ہارا ہُوا
جنگ دلدل زلزلہ پُر پیچ و خم گرداب ہے
چِھین لے بینائیاں جو جنگ ایسا خواب ہے
جنگ ہے قہر و عذاب و لعنت و تُف بدُّعا
کھیل ہے زیر و زبر کا جنگ کہتے ہیں جِسے
جنگ تو اِمکان خاک و خُون کی آندھی کا ہے
پیش خیمہ یہ تباہی اور بربادی کا ہے
خبط ہے اندھے سفر کا جنگ کہتے ہیں جِسے
اے نیازؔ اِس جنگ میں سب کچھ عجب ہو جاتا ہے
کوئی مرتا ہے تو کوئی جاں بَلب ہو جاتا ہے
٭٭٭

جنگ سے نفرت ہے ہمکو

نیاز جَیراجپُور

Nazm Jung se nafrat hai hamain by Niyaz Jairajpuri

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here