اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے۔پھر دیکھ خْدا کیا کرتا ہے

1
76
اْٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے۔پھر دیکھ خْدا کیا کرتا ہے
اْٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے۔پھر دیکھ خْدا کیا کرتا ہے

اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے عنوان میں یہ شعر آپ کو تھوڑا عجیب ضرور لگیگا لیکن اس اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے کا بہت ہی وسیع مطلب ہے ۔شاعر نے یہ شعر اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے میں ایک ایسا پیغام دیا ہے جو انسان کے لئے مشعل راہ ثابت ہوسکتا ہےمضمون نگار نے اس  اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے میں پوری مسلمانون کی تاریخ سمودی ہے

۔زمین،سورج،چاند،ستاروں کی گردش سے دن رات بدلتے ہیں۔دن رات کی تبدیلیاں تاریخیں بدلتی ہیں اور تاریخیں مہینے اور سال بدل دیتے ہیں،یوں سال پہ سال گزر جاتے ہیں۔وقت کی رفتار تیز ہونے کے باوجود سنائی نہیں دیتی ۔بزرگ کہہ گئے کہ وقت دبے پائوں نکل جاتا ہے۔کل کے بچے آج جوان اور کل کے جوان آج بوڑھے ہوگئے۔کائنات کا یہ سلسلہ نہ معلوم کب سے جاری ہے اور نہ معلوم کب تک جاری رہے گا۔بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے حالات بھی بدلتے رہے ،جو لوگ وقت کی رفتار کا ساتھ دیتے رہے وقت بھی ان کو کاندھوں پر بیٹھا کر اڑاتا رہا۔جو وقت کے ساتھ نہ چلے انھیں وقت نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔کتنی ہی قومیں وقت کے ساتھ قصۂ پارینہ بن گئیں۔کتنے ہی رستم و سکندر خاک میں مل گئے۔فرد اور قوموں کی زندگی کے یہ نشیب و فراز فطرت کے عین مطابق آتے جاتے رہے۔یوں تو مسلمانوں کی تاریخ حضرت آدم ؑسے شروع ہوتی ہے کیوں کہ وہ بھی مسلمان ہی تھے ۔لیکن موجودہ تاریخ ہمیں بعثت نبوی ﷺ سے مسلمان شمار کرتی اور ہمارا حساب رکھتی ہے۔

ہماری بہت روشن تاریخ ہے ۔زمانہ پڑھتا ہے تو عش عش کرتا ہے ۔ہم معلوم دنیا کے تین چوتھائی کے حکمراں تھے ۔کیا شان تھی ہماری ،دنیا کی سپر پاورطاقتیں ہمارے نام سے کانپ جاتی تھیں۔ہر طرف سبز اسلامی پرچم لہرارہا تھا۔ساری دنیا کے ہم امام تھے ۔مگر یہ وہ وقت تھا جب ہمارا خلیفہ راتوں کو اس لیے گشت کرتا تھا کہ اس کی رعایا کو کوئی تکلیف تو نہیں،جب ایک امیر المومنین کو بیت المال کا اس قدر پاس تھا کہ دوست سے بات کرتے ہوئے سرکاری تیل سے جلتے ہوئے چراغ کو بجھا دیتا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب اسلامی سلطنت نے تمام دنیا سے علم و فن کے ماہرین کو اپنے یہاں بلا کر تحقیق و ریسرچ کی سہولیات مہیا کیں تھیں۔ہماری محبت ،امانت داری اور سچائی کا ڈنکا بجتا تھا۔جب ایک بچہ بھی گدڑی میں چھپی ہوئی اشرفی کو اس لیے ظاہر کردیتا تھا کہ اس کی ماں نے کہہ دیا تھا’’ بیٹا جھوٹ کسی حال میں مت بولنا۔‘‘یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم دن کو بندوں کی خدمت کرتے تھے اور راتوں کو اپنے رب کے حضور معافی مانگتے تھے۔ہمارا عروج ہمارے چلہ کشی،اللہ ہو کی ضربیں،ہزارہ تسبیحات کے ورد کا نتیجہ نہیں بلکہ رب کو راضی کرنے کے لیے انسانوں(نہ کہ صرف مسلمانوں)کے کام آنے اور ان کے دکھ درد بانٹنے کا صلہ تھا ۔
سقوط خلافت کے بعد ملت جن نشیب و فراز سے گزری ہے اگر کوئی دوسری قوم ہوتی تو اس کانام و نشان مٹ جاتا۔وہ اکثریت میں گم ہوکر رہ جاتی ۔یہ کم بڑی بات نہیں ہے کہ بشمول ہندوستان پوری دنیا میں ملت اپنے تشخص کے ساتھ زندہ ہے ۔ہر قوم میں اچھائیاں اور برائیاں دونوں ہوتی ہیں۔فرقے اور مسلک بھی ہر مذہب میں ہیں ۔اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ کہ مسلمانوں میں اچھائیاں کم ہوگئی ہیں۔لیکن یہ امت خیر امت ہے ۔یہ خیر سے کبھی خالی نہیں ہوگی ۔ مسلکی و جماعتی اختلافات دیکھنے والوں کو کم از کم یہ تو دیکھنا چاہئے کہ ایک مسلک کے لوگ اپنے امام پر متفق ہیں،ذات اور برادری کی عصبیتوں کے باوجود ایک ہی صف میں محمود و ایاز کھڑے ہیں،امت میں اختلافات کی فہرست پڑھنے والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ یہ واحد قوم ہے جو اپنے بنیادی عقائد میں ایک رائے ہے۔یہ امت بانجھ نہیں ہے ۔آج بھی مایہ ناز سپوتوں سے مالا مال ہے ۔کتنے ہی نایاب ہیرے ہیں جن پر زمانے کی گرد پڑ گئی ہے ۔
گزرا وقت تو کبھی واپس نہیں آتا مگر تاریخ خود کو دہراتی رہتی ہے۔وقت مواقع فراہم کرتا رہتا ہے۔بس ضرورت ہے کہ تاریخ سے سبق لے کر ہم آگے بڑھیں۔پھر اس قوم کو کیا ڈر جس کے لیے انتم الاعلون (تم ہی سربلند رہوگے)کی خوش خبری ہو،جس کے لیے پیشن گوئی کی گئی ہو کہ اس کو عروج ضرور حاصل ہوگا۔جس کے لیے شکست میں بھی اجر ہو ۔ فرشتے جس کے لیے دعا گو ہوں ۔اللہ کانام لے کراٹھئے ۔اپنی کم علمی پر کف افسوس مت ملیے اس لیے کہ انسانوں کی خدمت کرنے کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔اپنی کم مائیگی کا ماتم مت کیجیے کہ مال و اسباب کا دینے والا کوئی اور ہے۔اپنے آپ کو تنہا مت محسوس کیجیے کیوں کہ آپ کو دریا نے بھی راستے دیے ہیں۔اپنے آپ سے شروعات کیجیے ،پھر گھر ،خاندان ،ہمسائے اورپوری بستی کی خدمت کیجیے ۔ جہالت،بیماری ،غربت اور بے وقعتی کو تعلیم،صحت، تجارت اور پالیٹکل امپاور منٹ کے لائحۂ عمل سے دور کیجیے (چاروں موضوعات پر راقم کی معروضات انقلاب کی قریبی اشاعتوں میں شائع ہوچکی ہیں۔جلد ہی کتابی شکل میں شائع ہونے والی ہیں۔کتاب میں میڈیا ،مسجد،مدرسہ سے متعلق بھی نکات شامل رہیں گے)۔کسی سے خوف زدہ ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔پھرآپ کو خوف کس بات کا ہے ۔؟آپ کے پاس کھونے کو تو کچھ بھی نہیں۔کام شروع کیجیے پھردیکھیے تاریخ خود کوکس طرح دہراتی ہے۔
اْٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے ؟
پھر دیکھ خْدا کیا کرتا ہے !
میرے عزیزو!تبدیلی کی باتیں سب کرتے ہیں ۔ مسجد کے امام سے لے کر سیاست کے امام تک بھاشن دیتے ہیں۔ مشورے دیتے ہیں، لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھنے کا کام نہیں کرتے اور اس لیے قوم جہاں تھی وہیں رہ جاتی ہے۔ سامعین کے دلوں میں بھی جذبات پنپتے ہیں، عزم و ارادے کی کونپلیں پھوٹتی ہیں لیکن کوئی آگے نہیں بڑھتا تو ساری کونپلیں مرجھا جاتی ہیں، سارے جذبات سرد ہوجاتے ہیں۔ میں کہتاہوں آپ خود آگے بڑھئے، ایک گلی کے افراد، ایک خاندان کے لوگ، ایک مسجد کے مقتدی، ایک بستی کے عوام خود آگے بڑھیں، اکٹھا ہوں ۔ مسائل کی فہرست بنائیں ،ا ن کے حل پر غور کریں، تبدیلی کے لیے ان میں سے جو فرد جو کردار ادا کرسکتا ہو وہ خود کو پیش کرے۔ اخلاص کے ساتھ، ایثار کے ساتھ، تحمل و برداشت اور صبر کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اللہ سے لو لگاتے ہوئے، اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگتے ہوئے، انسانیت کی فلاح کا جذبہ رکھتے ہوئے قدم سے قدم ملا کر جب ہم چلیں گے تو تبدیلی آئے گی، انقلاب دستک دے گا۔
یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم ہندوستان کے شہری ہیں۔جہاں ترقی کے تمام مواقع حاصل ہیں۔یہاں جمہوری نظام ہے۔جس میںاپنی بات اگر سلیقہ سے کہی جاتی ہے تو سنی بھی جاتی ہے۔آج کے حالات اگرچہ سخت ہیں ،ہمیں اپناوجود بھی خطرے میں نظر آرہا ہے ۔لیکن یہاں آئین ہے جس میں بنیادی حقوق درج ہیں۔یہاں برادران وطن میں ایسے مخلص لوگ ہیں جو ہر قدم پر ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔یہ ملک ہمارا ہے ۔ہماری ترقی اس ملک کی ترقی ہے۔ملک سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ملک کی سلامتی،اس کی ایکتا اور اکھنڈتا کے لیے کام کریں۔یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہماری قوم اپنے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ چلے گی۔
اللہ کاطریقہ یہ ہے کہ وہ کسی فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا وہ اس کے حالات اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ خود وہ فرد یا قوم اپنے حالات بدلنے کی کوشش نہیں کرتی ۔ اس کے لیے منصوبہ نہیں بناتی، اس کے لیے جدوجہد نہیں کرتی۔ یہ خدا کا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ سب کے ساتھ ہے، اس میں ایمان، اسلام، کفر اور شرک کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ ایک شخص اپنی تعلیمی پسماندگی دور کرنا چاہتا ہے تو اسے کتاب بھی لینا ہوگی، قلم بھی پکڑنا ہوگا، کسی استاذ کے سامنے لکھنا پڑھنا بھی ہوگا۔ ان کے بغیر وہ پڑھ نہیں سکتا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ اللہ اپنے فرشتے کو سب کچھ لے کر بھیجے۔ فرشتہ آئے اور پھونک مارے اور بس کام ہوگیا۔ آن کی آن میں ایک ان پڑھ،پڑھا لکھا ہوگیا۔دیہات میں ایک مثال دی جاتی ہے کہ جنت دیکھنا ہے تو مرنا خود ہی پڑے گا۔حالات مزید انتظار کے متحمل نہیں ہیں۔امام مہدی اور مسیح موعود کے انتظار تک تو ہم خاک میں مل جائیں گے ۔ہمیں اپنے حصہ کا کام شروع کرنا چاہئے۔میں بھی جس لائق ہوں آپ کے ہم راہ چلنے کو تیار ہوں ۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
کلیم الحفیظ۔دہلی
hilalmalik@yahoo.com

1 COMMENT

  1. بہترین تحریر۔۔۔۔بہت ساری پیچیدہ باتیں بہت خوب صورت انداز میں پیش کی گئیں۔۔۔۔جزاک اللّہ خیر

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here