Home زبان و ادب ادبی شخصیات آہ نصرت ظہیر کا انتقال ۔اردو کا ادب ساز نہ رہا

آہ نصرت ظہیر کا انتقال ۔اردو کا ادب ساز نہ رہا

0
81
نصرت ظہیرکا انتقال
آہ نصرت ظہیر کا انتقال ۔اردو کا ادب ساز نہ رہا

نصرت ظہیر نہیں رہے ۔یہ خبر اتنی اچانک ٓئی کہ لمحہ بھر کو لوگ دم بخود رہ گئے کسی کو یقین ہی نہیں آیا ۔ مزاح نگار، شاعر اور صحافی نصرت ظہیر کیا کچھ نہیں تھے وہ 69 برس کے تھے۔لاک ڈائون کے درمیان ان کے بارے میں کچھ خبر ہی نہین تھی کہ اچانک ان کے انتقال کی خبر ملی
پسماندگان میں اہلیہ اور چار بیٹیاں ہیں۔ مرحوم ادھر کچھ دنوں سے علیل تھے۔
’’بقلم خود‘‘، ’’تحت اللفظ‘‘ اور ’’خراٹوں کا مشاعرہ‘‘ کے مصنف نصرت ظہیر نے ایک سہ ماہی ’’ادب ساز‘‘ بھی نکالا تھا جس کے کئی خاص شمارے کافی مقبول ہوئے۔
انہوں نے قومی اردو کونسل کے سہ ماہی رسالے ’’فکر و تحقیق‘‘ اعزازی ادارت کی ذمہ داری بھی ادا کی تھی۔
مرحوم کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ترجمے پر ساہتیہ اکیڈمی ایورڈ سے بھی سرفراز کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یو پی اردو اکیڈمی اور دہلی اردو اکیڈمی کی طرف سے بھی وہ اعزاز یافتہ تھے۔
نصرت ظہیر نے روزنامہ قومی آواز، روزنامہ سہارا، دور درشن اور آل اندیا ریڈیو کو بھی اپنی خدمات پیش کی تھیں۔داڑھ کا درد سے کچھ اقتباس ملا حظہ کریں

داڑھ کا درد وہ درد ہے، جسے انسان کا پورا جسم محسوس کرتا ہے،سوائے داڑھ کے !جب یہ ہوتا ہے تو انسان انسان نہیں رہتا ۔ سمٹ کرایک داڑھ بن جاتا ہے، جو یہاں سے وہاں لڑھکتی پھرتی ہے۔ اس مشاہدے کا بیان میں نے میاں عبدا لقدوس سے کیا توکہنے لگے کہ بات تم نے اچھی کہی ہے، لیکن یوں کہتے تو زیادہ اچھا رہتا کہ جب داڑھ میں درد جاگتا ہے تو وہ پھیل کر انسان بن جاتی ہے اور اس کے ساتھ وہی سلوک کرنے لگتی ہے جو وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ کرتا ہے۔ یعنی خود تو پتہ نہیں کس غرور میں پھولا رہتا ہے اور باقی سب کو دکھ پہنچائے جاتا ہے۔چنانچہ داڑھ اور اس کے درد کے لئے ہی علامتاًکہا گیا ہے کہ : سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے!کتے کی زبان

توبات کتے کی زبان کی چل رہی تھی۔اُس زبان کی نہیں، جسے کتا اکثر منھ سے باہر لٹکائے رکھتا ہے اور یوں لگتا ہے، جیسے ہوا میں موجود رطوبتِ نسبتی Relative Humidityناپنے کی کوشش کررہا ہو۔ذکر اس زبان کا تھا،جس میں وہ دوسروں کا کہا، سنتاسمجھتا اور اپنی بات کہتا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ دنیا کے سارے کتے ایک ہی زبان میں ہم کلام ہوتے ہیں اور شکل و صورت اور رنگ ونسل کے زبردست فرق کے باوجود ایک ہی زبان میں بولتے ہیں۔یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ امریکہ کا کتاانگریزی میں ٹِٹ بِٹ کر رہا ہو، چین کا کتا چینی زبان میں چیائوں میائوں کرتا ہو اور عرب کا کتا عربی میں رطب اللسان ہو۔ہر ملک اور ہر صوبے کے کتے ایک ہی زبان میں بھونکتے ہیں۔یہ شرف صرف حضرتِ انسان کو حاصل ہے کہ ہر دس کوس چلنے کے بعد ان کی زبان بدل جاتی ہے
ان کے بے وقت انتقال کی خبر سے ادبی اور صحافتی حلقے صدمے میں آگئے ہیں۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here