اردو ہے میرا نام،میں خسرو کی پہیلی۔جاوید جمال الدین کا چشم کشا مضمون

0
45
اردو ہے میرا نام،میں خسرو کی پہیلی۔جاوید جمال الدین کا چشم کشا مضمون
اردو ہے میرا نام،میں خسرو کی پہیلی۔جاوید جمال الدین کا چشم کشا مضمون

اردو ذبان شائستگی کی ذبان ۔اردو محبت کی عشو و محبت کی ذبان ۔اردو میر و غالب کی ذبان ۔لیکن اس اردو ذبان کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے ۔جاوید جمال الدین کا ایک اہم مضمون پڑھئے

ہندوستان میں گزشتہ پانچ چھ سال کے دوران ملک کی اقلیتوں اور دبے کچلے اور پسماندہ افراد کے ساتھ ساتھ ان کی تہذیب وتمدن،زبان اور مذہبی اقدار کو نشانہ بنانے کی منصوبہ سازش رچی جارہی ہے اور اس کا شکار مسلم اقلیت سب سے زیادہ بن رہی ہے ،اس عرصے میں ان کی زبان اردو کوبھی مختلف قسم کی دشواریوں اور دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،
بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسے شک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نصف سے اردو کو مسلمانوں سے وابستہ کردیا گیا ہے، بلکہ اس سے پہلے ہی وہ ان کی ہوچکی ہے،ویسے اردو ملک کی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کی علامت رہی ہے ،لیکن حال کے دنوں میں ایسے ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے دیش نکالا دینے کی تیاری شروع ہوچکی ہے ۔اس تعلق سے پنجاب یونیورسٹی نے تو حد ہی کردی اور ستمبر 2019 میں شعبہ اردو کو غیر ملکی زبانوں کے شعبے سے وابستہ کردیا گیااورجب ملک بھر میں سخت احتجاج اور اعتراضات کے بعد حکومت کے ہوش ٹھکانے آئے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو ٹویٹ کرنا پڑا کہ “اردو اس ملک کی زبان ہے۔” حالانکہ کیپٹن کے آباؤاجداد اسی زبان کا استعمال کرتے تھے،اور انہیں بھی کچھ سن گن ہوگی، صوبے پنجاب کے بارے میں کئی محقیقین نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب جیسی مردم خیز سرزمین اردو کی جائے پیدائش ہے ،لیکن ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد اسے منصوبہ بند طریقے سے ریاست کے ہر ایک شعبے سے نکال دیا گیا ،پنجاب اور ہریانہ میں سرکاری دستاویزات اور محکمہ پولیس کے ریکارڈز کا ترجمہ بھی کروانے کی کوشش کی گئی تاکہ اردو کے نقوش کو مٹادیا جائے۔اترپردیش تو اس کی اینٹ اینٹ بجا دی گئی ریلوے اسٹیشنوں کی تختیوں پرتحریر نام میں اردو املے کی غلطی زبان۔کی زبوں حالی بیان کررہی ہے،یہ سب ہونے کے باوجود حالانکہ عام بول چال سے اردو کے الفاظ کو نکال دینا ممکن نہیں ہے ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ُاردو برصغیر کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ ہندوستان کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت زبانوں میں شامل کیا جاچکا ہے۔ 2001ء کی مردم شماری کے مطابق اردوہندوستان میں 5 فیصد سے زیادہ لوگوں کی زبان ہے اور اس لحاظ سے یہ ملک کی چھٹی بڑی زبان ہے جبکہ پاکستان میں اسے بطور مادری زبان سات فیصد سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں، یہ پاکستان کی پانچویں بڑی زبان ہے۔ اردو تاریخی طور پر ہندوستان کی مسلم آبادی سے جڑی ہے۔بعض ذخیرہ الفاظ کے علاوہ یہ زبان معیاری ہندی سے قابل فہم ہے جو اس خطے کے ہندوؤں سے منسوب ہے۔زبانِ اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کی بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں اور جموں و کشمیر میں اسے 1846ء اور پنجاب میں 1849ء میں بطور دفتری زبان نافذ کیا۔ اس کے علاوہ خلیجی، یورپی، ایشیائی اور امریکی علاقوں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو بنیادی طور پر جنوبی ایشیاء سے کوچ کرنے والے اہلِ اردو ہیں۔ 1999ء کے اعداد وشمار کے مطابق اردو زبان کے جاننے اور سمجھنے والوں کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی اور حال میں اس میں کافی اضافہ درج کیا گیا ہے،اس لحاظ سے یہ دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔

اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ ہندی زبان دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے۔ کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں۔ تاہم، دیگر ماہرین اِن دونوں کو بول چال میں ایک حد تک فرق کی بنیاد پر الگ الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی ہے۔ اسی طرح اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان سمجھی جاتی ہے۔

اردو زبان باوجود دنیا کی نئی زبانوں میں سے ہونے اپنے پاس معیاری اور وسیع ذخیرہ ادب رکھتی ہے۔ خاص کر جنوبی ایشیائی زبانوں میں اردو اپنی شاعری کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور اس کا استعمال عام طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اردو ہندوستان کے خمیر میں شامل ہے ، اس کا اثرنظر آتا ہے اور اُن جگہوں میں بولی اور استعمال کی جاتی ہے جہاں مسلمان آباد ہیں اور ان خطوں اورشہر وں میں جو ماضی میں مسلمان حاکمین کے مرکز رہے ہیں۔ اِن میں اُتر پردیش کابڑا علاقہ شامل ہے اور خصوصی طور پرلکھنؤ، دہلی، بھوپال، حیدرآباد، بنگلور، کولکتہ، مہارشٹر میں اورنگ آباد،میسور ،پٹنہ، اجمیر اور احمد آباد اور بھٹکل بھی شامل ہیں۔ آج بھی مہاراشٹرمیں ہزاروں اسکولوں میں اُردو کو پہلی زبان کے طور پر پڑھایا جارہا ہے اور یہاں تک کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں ایک لاکھ سے زیادہ بچے اردو ذریعہ سے زیر تعلیم ہیں۔کئی مرتبہ اردو میڈیم بچے دسویں جماعت کے بورڈ میں میرٹ امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہاں متعدد اداروں کا اپنا خاکۂ نصاب اور طریقۂ امتحانات ہیں ، ملک بھر میں دینی مدرسے عربی اور اُردو میں تعلیم دیتے ہیں۔ جبکہ اُردو اخباروں کی تعداد 350 سے زیادہ ہے۔جوکہ ہندی اور انگریزی کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

حقیقت یہ ہے آج بھی ملک کا اردو کے بغیر گزارہ نہیں۔ ملک میں گزشتہ 70 سال پہلے ہندی کو سرکاری زبان ضرور بنا لیا گیا لیکن اسے عام لوگوں کی زبان بنایا جا سکے۔ ایسی کوشش نہیں ہوئی،ہندی کے کئی الفاظ تو خود ہندی بولنے والوں کی سمجھ میں بھی نہیں آتے۔ اس لیے انھیں آپس میں بات چیت کے لیے عام۔فہم زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ اردو کے لفظ سادہ اور عام فہم ہیں جن کو سمجھنا اور بولنا بہت آسان ہے۔ ہندوستانی فلم انڈسٹری جو کہ دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریز میں سے ایک ہے اور جہاں ہر سال اربوں روپے کی فلمیں بنتی ہیں۔ وہاں بھی ہر جگہ اردو ہی بولی جاتی ہے۔ فلموں کے مکالمات اور نغموں میں اردو زبان کا ہی استعمال کیا جاتا ہے،معروف گلو کارہ لتا منگیشکر نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہیں اردو کی وجہ سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے،حال کے چند سال میں مکالموں میں ہندی کا اثر نظر آنے لگا ہے ،لیکن نغموں اور گیتوں میں سو فیصد اردو زبان ہی استعمال کی جاتی ہے۔جنوبی ایشیاء سے نکل کراُردو زبان خلیجِ فارس اور سعودی عرب وغیرہ میں، بلکہ برطانیہ، امریکا، کینیڈا، جرمنی، ناروے اور آسٹریلیا میں مقیم جنوبی ایشیائی مہاجرین اردو ہی بولتے ہیں۔پاکستان کو چھوڑ دیتے ہیں جہاں اردو سرکاری حیثیت حاصل کئے ہوئے ہیں اور پشت پناہی بھی ملی ہوئی ہے۔برطانوی راج میں فارسی کی بجائے ہندوستانی کو فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور ہندو مسلم دونوں اس پر عمل کرتے تھے۔ لفظ اردو کو شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780ء کے آس پاس سب سے پہلے استعمال کیا۔ تیرہویں سے اٹھارویں صدی تک اردو کو عام طور پر ہندی ہی کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ اسی طرح اس زبان کے کئی دوسرے نام بھی تھے جیسے ہندوی ،ریختہ یا دہلوی۔ اردو اسی طرح علاقائی زبان بنی رہی پھر 1837ء میں فارسی کی بجائے اسے انگریزی کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اردو زبان کو برطانوی دور میں انگریزوں نے ترقی دی تاکہ فارسی کی اہمیت کو ختم کیا جا سکے۔ اس وجہ سے شمالی اور شمال مشرقی ہندوستان کے ہندوؤں میں تحریک اٹھی کہ بجائے فارسی رسم الخط کہ اس زبان کو مقامی دیوناگری رسم الخط میں لکھا جانا چاہیے۔ نتیجتاً ہندوستانی کی نئی قسم ہندی کی ایجاد ہوئی اور اس نے 1881ء میں بہار میں نافذ ہندوستانی کی جگہ لے لی۔ اس طرح اس مسئلہ نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستانی کو دو زبانوں اردوکو مسلم اور ہندی کو ہندوکے درمیان تقسیم کر دیا۔ اور اسی فرق نے بعد میں ہندوستان کو دو حصوں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ،اگرچہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے ہندو شعرا و مصنفین اردو سے سے جڑے رہے اورنئی نسل۔بھی شاعری کی جانب راغب ہے۔ اردو زبان میں اسلامی ادب اور شریعت کی کئی تصانیف ہیں۔ اس میں تفسیر القران، قرآنی تراجم، احادیث، فقہ، تاریخ اسلام، روحانیت اور صوفی طریقہ کے بے شمار کتب دستیاب ہیں۔ عربی اور فارسی کی کئی کلاسیکی کتب کے بھی تراجم اردو میں ہیں۔ ساتھ ساتھ کئی اہم، مقبول، معروف اسلامی ادبی کتب کا خزینہ اردو میں دستیاب ہے۔

ملک کے موجودہ حالات میں اردو زبان کے سلسلہ میں حوصلہ افزا ء خبریں موصول نہیں ہورہی ہیں۔پنجاب یونیورسٹی میں جوکھیل کھیلا گیا ،اس کا ذکر کیا جاچکا ہے۔ اترا کھنڈ میں سنسکرت کو سرکاری زبان بنائے جانے کے بعد ریلوے اسٹیشنوں کی تختیوں سے اردو مٹانے کی مہم چلی لیکن فی الحال اس پر قابو پالیا گیا ہے،لیکن بہار میں آثار ٹھیک نظر نہیں آرہے ہیں کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ پتہ چلتا ہے کہ فرقہ وارانہ ذہنیت نے کام شروع کردیا ہے اور اردو کو تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،بہارمیں وزارت برائے تعلیم کے ذریعے ایک متنازع اردو مخالف سرکلر جار ی کیاگیا ہے، تمام ہائی اسکولوں کو جاری کیے گئے اس سرکلر کو واپس لینے کے۔مطالبے نے شدت اختیار کر لی ہے، مذکورہ سرکلر بے حد متنازع ہی نہیں بلکہ اردو مخالف بھی ہے اور بہار میں اردوکو حاصل دوسری سرکاری زبان کے حاصل شدہ درجہ اور ضابطہ کے سراسر خلاف بھی ہے۔
سرکلر میں بڑے شاطرانہ انداز میں اردو کے ساتھ ساتھ ساتھ عربی اور فارسی کو بھی نصاب سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور اس کے ذریعے اردو کو کو نشانہ بنانے کی سازش رچی گئی ہے اور یہ سب بہار محکمہ تعلیم کے متعصب افسران کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ہائی اسکول کی سطح پر پہلے اردو ذریعہ تعلیم کو ختم کرنا ہے، سازش کے تحت اردو کوسرکاری زبان کو لازمی درجے سے نکال کے اختیاری مضمون کی فہرست میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے تحت محکمہ کا منشاء سمجھ میں آجاتاہے۔حالانکہ حکومت کی ایماء پر پورے اسکول میں اردو اساتذہ کا تقرر ہوا تھا لیکن سازش کے تحت محکمہ تعلیم کے ذریعہ ایسا نہ کرتے ہوئے،پہلے ان کی تعداد میں کمی کی جارہی ہے بلکہ جہاں اردو طلبہ کی تعداد زیادہ ہے وہاں بھی اساتذہ کا فقدان ہے۔

نئے سرکلر کے مطابق ہر ایک ہائی سکول میں چھ اساتذہ ہوں گے ،ہندی انگریزی حساب اور سماجیات شامل ہیں ،لیکن اردو کو بنگلہ اور سنسکرت سے جوڑ دیا گیا ہے۔جبکہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کادرجہ حاصل ہے۔اور اردو استاد کی تقرری الگ سے ہونا چاہئیے۔بنگلہ اور سنسکرت کے ساتھ ڈال کر اسے اختیاری زمرے میں شامل کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ نتیش سرکار تک احتجاج پہنچایا جاچکا ہے ۔
ملک گیر سطح پر بھی اردو پر ایک اور تلوار لٹکا دی گئی ہے اور سب سے بڑے نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو نے اپنی اردو سروس لاک ڈاؤن کے بہانے سے محدود کردی ہے ،حالانکہ اے آئی آر جس کےسامعین کی بڑی تعداد ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور خلیج میں بھی موجود ہے کہ نشریاتی وقت کو گزشتہ ماہ سے 18 گھنٹوں سے گھٹا کر صرف تین گھنٹوں تک کے لیے محدود کر دیا گیا ہے ،یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستانی ریڈیو اسٹیشنوں کی طرف سے پروپیگنڈا میں اضافہ ہوا ہے جس میں بنیادی طور پر لائن آف کنٹرول (ایل اے سی ) پر ہندوستان اور چین کے مابین کشیدگی کا ذکر بار بار کیا جا رہا ہے ۔
آل انڈیا ریڈیو کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے بہت سارے شارٹ ویو اور میڈیم ویو ٹرانسمیٹر جو پاکستان اور دیگر ممالک میں ریڈیو سگنل پہنچاتے ہیں،فی الحال بند ہیں جس سے نہ صرف نشریاتی وقت میں کمی آئی ہے بلکہ پاکستان کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے میں بھی مواد کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔اور بجلی اردو سروس پر گری ہے۔آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس بیرونی خدمات ڈیویژن کے تحت آتی ہے ۔ دنیا بھر میں غیرملکی سامعین کے لیے 28 غیر ملکی زبانوں میں نیوز بلیٹن اور پروگرام نشر کرتا ہے۔اسے عوامی سفارت کاری کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی پہنچ تقریبا ایک سو پچاس ممالک تک ہے۔
لاک ڈاون۔نے ایسے حالات پیدا کیے کہ اس کی وجہ سے اردو سمیت کئی زبانوں کی نشریات بند پڑی ہیں۔اردو سروس کا آغاز1965 میں ہندوستان- پاکستان جنگ کے بعد آل انڈیا ریڈیو کی ایک کل وقتی اہم سروس کے طور پر ہوا تھا ۔حالاں کہ اس سے پہلے ہی آل انڈیا ریڈیو نے اردو مواد کو نشر کرنا شروع کر دیا تھا اردو سروس سے وابستہ آل انڈیاریڈیو کے ایک سابق
اردو ہے میرا نام ،میں خسرو کی پہیلی،
جاویدجمال الدین

ہندوستان میں گزشتہ پانچ چھ سال کے دوران ملک کی اقلیتوں اور دبے کچلے اور پسماندہ افراد کے ساتھ ساتھ ان کی تہذیب وتمدن،زبان اور مذہبی اقدار کو نشانہ بنانے کی منصوبہ سازش رچی جارہی ہے اور اس کا شکار مسلم اقلیت سب سے زیادہ بن رہی ہے ،اس عرصے میں ان کی زبان اردو کوبھی مختلف قسم کی دشواریوں اور دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،
بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسے شک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نصف سے اردو کو مسلمانوں سے وابستہ کردیا گیا ہے، بلکہ اس سے پہلے ہی وہ ان کی ہوچکی ہے،ویسے اردو ملک کی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کی علامت رہی ہے ،لیکن حال کے دنوں میں ایسے ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے دیش نکالا دینے کی تیاری شروع ہوچکی ہے ۔اس تعلق سے پنجاب یونیورسٹی نے تو حد ہی کردی اور ستمبر 2019 میں شعبہ اردو کو غیر ملکی زبانوں کے شعبے سے وابستہ کردیا گیااورجب ملک بھر میں سخت احتجاج اور اعتراضات کے بعد حکومت کے ہوش ٹھکانے آئے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو ٹویٹ کرنا پڑا کہ “اردو اس ملک کی زبان ہے۔” حالانکہ کیپٹن کے آباؤاجداد اسی زبان کا استعمال کرتے تھے،اور انہیں بھی کچھ سن گن ہوگی، صوبے پنجاب کے بارے میں کئی محقیقین نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب جیسی مردم خیز سرزمین اردو کی جائے پیدائش ہے ،لیکن ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد اسے منصوبہ بند طریقے سے ریاست کے ہر ایک شعبے سے نکال دیا گیا ،پنجاب اور ہریانہ میں سرکاری دستاویزات اور محکمہ پولیس کے ریکارڈز کا ترجمہ بھی کروانے کی کوشش کی گئی تاکہ اردو کے نقوش کو مٹادیا جائے۔اترپردیش تو اس کی اینٹ اینٹ بجا دی گئی ریلوے اسٹیشنوں کی تختیوں پرتحریر نام میں اردو املے کی غلطی زبان۔کی زبوں حالی بیان کررہی ہے،یہ سب ہونے کے باوجود حالانکہ عام بول چال سے اردو کے الفاظ کو نکال دینا ممکن نہیں ہے ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ُاردو برصغیر کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ ہندوستان کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت زبانوں میں شامل کیا جاچکا ہے۔ 2001ء کی مردم شماری کے مطابق اردوہندوستان میں 5 فیصد سے زیادہ لوگوں کی زبان ہے اور اس لحاظ سے یہ ملک کی چھٹی بڑی زبان ہے جبکہ پاکستان میں اسے بطور مادری زبان سات فیصد سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں، یہ پاکستان کی پانچویں بڑی زبان ہے۔ اردو تاریخی طور پر ہندوستان کی مسلم آبادی سے جڑی ہے۔بعض ذخیرہ الفاظ کے علاوہ یہ زبان معیاری ہندی سے قابل فہم ہے جو اس خطے کے ہندوؤں سے منسوب ہے۔زبانِ اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کی بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں اور جموں و کشمیر میں اسے 1846ء اور پنجاب میں 1849ء میں بطور دفتری زبان نافذ کیا۔ اس کے علاوہ خلیجی، یورپی، ایشیائی اور امریکی علاقوں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو بنیادی طور پر جنوبی ایشیاء سے کوچ کرنے والے اہلِ اردو ہیں۔ 1999ء کے اعداد وشمار کے مطابق اردو زبان کے جاننے اور سمجھنے والوں کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی اور حال میں اس میں کافی اضافہ درج کیا گیا ہے،اس لحاظ سے یہ دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔

اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ ہندی زبان دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے۔ کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں۔ تاہم، دیگر ماہرین اِن دونوں کو بول چال میں ایک حد تک فرق کی بنیاد پر الگ الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی ہے۔ اسی طرح اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان سمجھی جاتی ہے۔

اردو زبان باوجود دنیا کی نئی زبانوں میں سے ہونے اپنے پاس معیاری اور وسیع ذخیرہ ادب رکھتی ہے۔ خاص کر جنوبی ایشیائی زبانوں میں اردو اپنی شاعری کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور اس کا استعمال عام طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اردو ہندوستان کے خمیر میں شامل ہے ، اس کا اثرنظر آتا ہے اور اُن جگہوں میں بولی اور استعمال کی جاتی ہے جہاں مسلمان آباد ہیں اور ان خطوں اورشہر وں میں جو ماضی میں مسلمان حاکمین کے مرکز رہے ہیں۔ اِن میں اُتر پردیش کابڑا علاقہ شامل ہے اور خصوصی طور پرلکھنؤ، دہلی، بھوپال، حیدرآباد، بنگلور، کولکتہ، مہارشٹر میں اورنگ آباد،میسور ،پٹنہ، اجمیر اور احمد آباد اور بھٹکل بھی شامل ہیں۔ آج بھی مہاراشٹرمیں ہزاروں اسکولوں میں اُردو کو پہلی زبان کے طور پر پڑھایا جارہا ہے اور یہاں تک کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں ایک لاکھ سے زیادہ بچے اردو ذریعہ سے زیر تعلیم ہیں۔کئی مرتبہ اردو میڈیم بچے دسویں جماعت کے بورڈ میں میرٹ امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہاں متعدد اداروں کا اپنا خاکۂ نصاب اور طریقۂ امتحانات ہیں ، ملک بھر میں دینی مدرسے عربی اور اُردو میں تعلیم دیتے ہیں۔ جبکہ اُردو اخباروں کی تعداد 350 سے زیادہ ہے۔جوکہ ہندی اور انگریزی کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

حقیقت یہ ہے آج بھی ملک کا اردو کے بغیر گزارہ نہیں۔ ملک میں گزشتہ 70 سال پہلے ہندی کو سرکاری زبان ضرور بنا لیا گیا لیکن اسے عام لوگوں کی زبان بنایا جا سکے۔ ایسی کوشش نہیں ہوئی،ہندی کے کئی الفاظ تو خود ہندی بولنے والوں کی سمجھ میں بھی نہیں آتے۔ اس لیے انھیں آپس میں بات چیت کے لیے عام۔فہم زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ اردو کے لفظ سادہ اور عام فہم ہیں جن کو سمجھنا اور بولنا بہت آسان ہے۔ ہندوستانی فلم انڈسٹری جو کہ دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریز میں سے ایک ہے اور جہاں ہر سال اربوں روپے کی فلمیں بنتی ہیں۔ وہاں بھی ہر جگہ اردو ہی بولی جاتی ہے۔ فلموں کے مکالمات اور نغموں میں اردو زبان کا ہی استعمال کیا جاتا ہے،معروف گلو کارہ لتا منگیشکر نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہیں اردو کی وجہ سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے،حال کے چند سال میں مکالموں میں ہندی کا اثر نظر آنے لگا ہے ،لیکن نغموں اور گیتوں میں سو فیصد اردو زبان ہی استعمال کی جاتی ہے۔جنوبی ایشیاء سے نکل کراُردو زبان خلیجِ فارس اور سعودی عرب وغیرہ میں، بلکہ برطانیہ، امریکا، کینیڈا، جرمنی، ناروے اور آسٹریلیا میں مقیم جنوبی ایشیائی مہاجرین اردو ہی بولتے ہیں۔پاکستان کو چھوڑ دیتے ہیں جہاں اردو سرکاری حیثیت حاصل کئے ہوئے ہیں اور پشت پناہی بھی ملی ہوئی ہے۔برطانوی راج میں فارسی کی بجائے ہندوستانی کو فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور ہندو مسلم دونوں اس پر عمل کرتے تھے۔ لفظ اردو کو شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780ء کے آس پاس سب سے پہلے استعمال کیا۔ تیرہویں سے اٹھارویں صدی تک اردو کو عام طور پر ہندی ہی کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ اسی طرح اس زبان کے کئی دوسرے نام بھی تھے جیسے ہندوی ،ریختہ یا دہلوی۔ اردو اسی طرح علاقائی زبان بنی رہی پھر 1837ء میں فارسی کی بجائے اسے انگریزی کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اردو زبان کو برطانوی دور میں انگریزوں نے ترقی دی تاکہ فارسی کی اہمیت کو ختم کیا جا سکے۔ اس وجہ سے شمالی اور شمال مشرقی ہندوستان کے ہندوؤں میں تحریک اٹھی کہ بجائے فارسی رسم الخط کہ اس زبان کو مقامی دیوناگری رسم الخط میں لکھا جانا چاہیے۔ نتیجتاً ہندوستانی کی نئی قسم ہندی کی ایجاد ہوئی اور اس نے 1881ء میں بہار میں نافذ ہندوستانی کی جگہ لے لی۔ اس طرح اس مسئلہ نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستانی کو دو زبانوں اردوکو مسلم اور ہندی کو ہندوکے درمیان تقسیم کر دیا۔ اور اسی فرق نے بعد میں ہندوستان کو دو حصوں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ،اگرچہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے ہندو شعرا و مصنفین اردو سے سے جڑے رہے اورنئی نسل۔بھی شاعری کی جانب راغب ہے۔ اردو زبان میں اسلامی ادب اور شریعت کی کئی تصانیف ہیں۔ اس میں تفسیر القران، قرآنی تراجم، احادیث، فقہ، تاریخ اسلام، روحانیت اور صوفی طریقہ کے بے شمار کتب دستیاب ہیں۔ عربی اور فارسی کی کئی کلاسیکی کتب کے بھی تراجم اردو میں ہیں۔ ساتھ ساتھ کئی اہم، مقبول، معروف اسلامی ادبی کتب کا خزینہ اردو میں دستیاب ہے۔

ملک کے موجودہ حالات میں اردو زبان کے سلسلہ میں حوصلہ افزا ء خبریں موصول نہیں ہورہی ہیں۔پنجاب یونیورسٹی میں جوکھیل کھیلا گیا ،اس کا ذکر کیا جاچکا ہے۔ اترا کھنڈ میں سنسکرت کو سرکاری زبان بنائے جانے کے بعد ریلوے اسٹیشنوں کی تختیوں سے اردو مٹانے کی مہم چلی لیکن فی الحال اس پر قابو پالیا گیا ہے،لیکن بہار میں آثار ٹھیک نظر نہیں آرہے ہیں کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ پتہ چلتا ہے کہ فرقہ وارانہ ذہنیت نے کام شروع کردیا ہے اور اردو کو تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،بہارمیں وزارت برائے تعلیم کے ذریعے ایک متنازع اردو مخالف سرکلر جار ی کیاگیا ہے، تمام ہائی اسکولوں کو جاری کیے گئے اس سرکلر کو واپس لینے کے۔مطالبے نے شدت اختیار کر لی ہے، مذکورہ سرکلر بے حد متنازع ہی نہیں بلکہ اردو مخالف بھی ہے اور بہار میں اردوکو حاصل دوسری سرکاری زبان کے حاصل شدہ درجہ اور ضابطہ کے سراسر خلاف بھی ہے۔
سرکلر میں بڑے شاطرانہ انداز میں اردو کے ساتھ ساتھ ساتھ عربی اور فارسی کو بھی نصاب سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور اس کے ذریعے اردو کو کو نشانہ بنانے کی سازش رچی گئی ہے اور یہ سب بہار محکمہ تعلیم کے متعصب افسران کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ہائی اسکول کی سطح پر پہلے اردو ذریعہ تعلیم کو ختم کرنا ہے، سازش کے تحت اردو کوسرکاری زبان کو لازمی درجے سے نکال کے اختیاری مضمون کی فہرست میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے تحت محکمہ کا منشاء سمجھ میں آجاتاہے۔حالانکہ حکومت کی ایماء پر پورے اسکول میں اردو اساتذہ کا تقرر ہوا تھا لیکن سازش کے تحت محکمہ تعلیم کے ذریعہ ایسا نہ کرتے ہوئے،پہلے ان کی تعداد میں کمی کی جارہی ہے بلکہ جہاں اردو طلبہ کی تعداد زیادہ ہے وہاں بھی اساتذہ کا فقدان ہے۔

نئے سرکلر کے مطابق ہر ایک ہائی سکول میں چھ اساتذہ ہوں گے ،ہندی انگریزی حساب اور سماجیات شامل ہیں ،لیکن اردو کو بنگلہ اور سنسکرت سے جوڑ دیا گیا ہے۔جبکہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کادرجہ حاصل ہے۔اور اردو استاد کی تقرری الگ سے ہونا چاہئیے۔بنگلہ اور سنسکرت کے ساتھ ڈال کر اسے اختیاری زمرے میں شامل کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ نتیش سرکار تک احتجاج پہنچایا جاچکا ہے ۔
ملک گیر سطح پر بھی اردو پر ایک اور تلوار لٹکا دی گئی ہے اور سب سے بڑے نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو نے اپنی اردو سروس لاک ڈاؤن کے بہانے سے محدود کردی ہے ،حالانکہ اے آئی آر جس کےسامعین کی بڑی تعداد ہندوستان کے علاوہ پاکستان اور خلیج میں بھی موجود ہے کہ نشریاتی وقت کو گزشتہ ماہ سے 18 گھنٹوں سے گھٹا کر صرف تین گھنٹوں تک کے لیے محدود کر دیا گیا ہے ،یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستانی ریڈیو اسٹیشنوں کی طرف سے پروپیگنڈا میں اضافہ ہوا ہے جس میں بنیادی طور پر لائن آف کنٹرول (ایل اے سی ) پر ہندوستان اور چین کے مابین کشیدگی کا ذکر بار بار کیا جا رہا ہے ۔
آل انڈیا ریڈیو کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے بہت سارے شارٹ ویو اور میڈیم ویو ٹرانسمیٹر جو پاکستان اور دیگر ممالک میں ریڈیو سگنل پہنچاتے ہیں،فی الحال بند ہیں جس سے نہ صرف نشریاتی وقت میں کمی آئی ہے بلکہ پاکستان کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے میں بھی مواد کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔اور بجلی اردو سروس پر گری ہے۔آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس بیرونی خدمات ڈیویژن کے تحت آتی ہے ۔ دنیا بھر میں غیرملکی سامعین کے لیے 28 غیر ملکی زبانوں میں نیوز بلیٹن اور پروگرام نشر کرتا ہے۔اسے عوامی سفارت کاری کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی پہنچ تقریبا ایک سو پچاس ممالک تک ہے۔
لاک ڈاون۔نے ایسے حالات پیدا کیے کہ اس کی وجہ سے اردو سمیت کئی زبانوں کی نشریات بند پڑی ہیں۔اردو سروس کا آغاز1965 میں ہندوستان- پاکستان جنگ کے بعد آل انڈیا ریڈیو کی ایک کل وقتی اہم سروس کے طور پر ہوا تھا ۔حالاں کہ اس سے پہلے ہی آل انڈیا ریڈیو نے اردو مواد کو نشر کرنا شروع کر دیا تھا اردو سروس سے وابستہ آل انڈیاریڈیو کے ایک سابق عہدیدار نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے خلاف بڑے پیمانے پر پروپیگنڈاجاری ہے۔ اردو سروس کو محدود کرنے کے بجائے اور مضبوطی سے بڑے پیمانے پر نشر کرنے کی ضرورت ہے اردو سروس کے پروگرام بند کر دیے گئے ہیں،آل انڈیا ریڈیو سے اردو سروس کو مناسب طریقے سے بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے،لیکن موجودہ حکومت کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ اس کا کیا منصوبہ ہے۔
جبکہ اردو یہ کہہ رہی ہے،
اردو ہے میرا نام
میں خسرو کی پہیلی،
مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے توکبھی خود کو مسلماں نہیں مانا،
میں نے بھی دیکھا ہے خوشیوں کا زمانہ

عہدیدار نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے خلاف بڑے پیمانے پر پروپیگنڈاجاری ہے۔ اردو سروس کو محدود کرنے کے بجائے اور مضبوطی سے بڑے پیمانے پر نشر کرنے کی ضرورت ہے اردو سروس کے پروگرام بند کر دیے گئے ہیں،آل انڈیا ریڈیو سے اردو سروس کو مناسب طریقے سے بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے،لیکن موجودہ حکومت کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ اس کا کیا منصوبہ ہے۔
جبکہ اردو یہ کہہ رہی ہے،
اردو ہے میرا نام
میں خسرو کی پہیلی،
مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے توکبھی خود کو مسلماں نہیں مانا،
میں نے بھی دیکھا ہے خوشیوں کا زمانہ

article on Urdu by Javed Jamaluddin

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here