سہ روزہ قومی سمینار موضوع بحث شخصیات کے شایان شان:پروفیسرجینابڑے

اردو اکادمی کے زیراہتمام اینگلوعربک سینئر سیکنڈری اسکول ،اجمیری گیٹ میں سہ روزہ قومی سمینار کا انعقاد

نئی دہلی:اردو اکادمی،دہلی کے زیر اہتمام سہ روزہ قومی سمینار بیاد رفتگاں(ڈاکٹر تنویر احمدعلوی،پروفیسر عنوان چشتی،ڈاکٹر خلیق انجم،جناب زبیر رضوی،ڈاکٹر اسلم پرویز اور جناب مخمورسعیدی)کا انعقاد آڈیٹوریم،اینگلوعربک سینئرسیکنڈری اسکول،اجمیری گیٹ،دہلی میں ہوا۔سمینار کا پہلا اجلاس ’’بیاد ڈاکٹر تنویر احمد علوی‘‘ منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر محمد ذاکراورپروفیسر معین الدین جینابڑے نے کی اورنظامت کے فرائض ڈاکٹرنوشاد عالم نے اداکیے ۔سمینار کے پہلے اجلاس میں اپنی استقبالیہ تقریر کے دوران اردو اکادمی کے وائس چیئرمین اور معروف شاعر پروفیسر شہپررسول نے کہا کہ اس سمینار کی تیاری بہت پہلے سے ہورہی تھی،اسی دوران ضابطۂ اخلاق نافذ ہوگیا، ہمیں الیکشن کمیشن سے خصوصی اجازت لینی پڑی،جس کی وجہ سے ذرا تاخیر بھی ہوئی،خیر یہ مرحلہ طے ہوا اور یہ سمینار منعقد ہورہاہے۔اس سمینار میں اردو اکادمی کی طرف سے میں آپ سب کا صمیم قلب کے ساتھ استقبال کرتاہوں۔دہلی کی شخصیات بہت ہیں،جن پر سمینار ہوناچاہئے۔اس وقت ہم نے چھ اہم شخصیات پر سمینارکے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے،آئندہ بھی اس طرح کے سمینار ہوتے رہیں گے۔مجھے امید ہے کہ ان شخصیات پر اس سمینار میں اہم باتیں نکل کر آئیں گی۔ہم نے کوشش کی ہے کہ اس سمینار میں ایسے اسکالرز کو زحمت دی جائے،جو کسی نہ کسی طرح ان شخصیات سے وابستہ رہے ہیں۔یہ سمینار دہلی کے تاریخی ہال میں منعقد کیا گیا ہے،اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول سے دہلی کی زیادہ تر شخصیات وابستہ رہی ہیںاور علم وادب کے میدان میں تاریخ رقم کرتی رہی ہیں۔سمینار کے پہلے اجلا س کاپہلا مقالہ ڈاکٹر مظہر احمد نے تنویر احمد علوی کی تدریسی خدمات سے متعلق پیش کیا،دوسرا مقالہ پروفیسر سراج اجملی نے تنویر احمد علوی اور مطالعۂ ذوق کے عنوان سے پیش کیا۔ڈاکٹرخالدعلوی نے تنویراحمدعلوی کی تنقیدنگاری،ڈاکٹر شمس بدایونی نے تنویر احمد علوی بحیثیت محقق اور ڈاکٹر فیروزدہلوی نے تنویراحمدعلوی: سوانح اور شخصیت کے عناوین پر مقالے پیش کیے۔
اپنی صدارتی تقریرمیں پروفیسرمعین الدین جینابڑے نے کہا کہ میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ اس سمینار میں میں شریک ہوں۔ہمارے زمانے میں مرحوم اکلوتے تھے ،جو کلاسک کے حوالے سے علوم متداولہ پر دسترس رکھتے تھے۔جن شخصیات پر سمینار کا انعقاد ہورہاہے قرارِواقعی وہ اس کے مستحق ہیں ۔ یہ بات یہیں رکنی نہیں چاہئے اور بھی شخصیات پر پروگرام ہونے چاہئیں۔اکادمی کی جانب سے دلی والے کے عنوان سے جو پروگرام شروع ہواتھا اسے کبھی بھی ختم ہونا ہی نہیں چاہئے۔مجھے امید ہے کہ یہ پروگرام بھی شروع کیا جائے گا ۔تمام مقالہ نگاروں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے مقالہ لکھا ہے میں تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد پیش کرتا ہو ں۔ اس اجلاس کے دوسرے صدرپروفیسر ذاکر نے کہا کہ جن شخصیات پر اس سمینار کا انعقاد ہواہے،انہیں رفتگاں کہنے کو دل نہیں چاہتا۔مبارک ہیں وہ شخصیات جنہوں نے اردو کو فروغ دیا ہے۔
دوسرا اجلاس پروفیسر عنوان چشتی کی یاد میں منعقد کیا گیا،جس کی صدارت پروفیسر قاضی عبیدالرحمان ہاشمی اور پروفیسر وہاج الدین علوی نے کی اور نظامت کے فرائض نورین علی حق نے ادا کیے۔اس اجلاس کا پہلامقالہ عمران عظیم نے عنوان چشتی بحیثیت استادسخن پیش کیا،دوسرامقالہ ڈاکٹر رشیداشرف خان نے عنوان چشتی بحیثیت شاعر پیش کیا۔ ڈاکٹر صفدرامام قادری نے عنوان چشتی کی تنقیدنگاری،پروفیسرشہنازانجم نے عنوان چشتی کی خاکہ نگاری اورپروفیسر احمدمحفوظ نے عنوان چشتی اور علم عروض کے عناوین پر مقالات پیش کیے۔
دوسرے اجلاس کی صدارتی تقریرمیں پروفیسر وہاج الدین علوی نے کہا کہ گفتگو اسی پر ہوتی ہے،جس کی کوئی حیثیت ہوتی ہے اور جس شخصیت کی اتنی جہات ہوں،ان پر اگر کسی طرح کی کوئی تنقید ہوتب بھی اس کی حیثیت مسلم ہوتی ہے,،جب کوئی شخصیت بن جاتا ہے وہ پبلک پراپرٹی ہوجاتا ہے،عنوان صاحب جہاں ناقد ہیں وہیں وہ عروض داں بھی ہیں،جس عہد میں عنوان چشتی نے ہیئتوں پر گفتگو کی ہے اس زمانے میں اس طرح کے ہیئتوں کے ماہر شاید کم لوگ ہوں گے۔ان کے کارنامے انہیں دوسروں سے منفرد بناتے ہیں۔ایک اور مقالہ ہونا چاہئے تھا تصوف پر،چوں کہ عنوان چشتی نے تصوف پر بھی کافی کام کیے ہیں۔
اپنی صدارتی تقریر میںپروفیسر قاضی عبیدالرحمان ہاشمی نے کہا کہ تمام مقالے اہم تھے اور بڑی محنت سے لکھے گئے تھے ،میں تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد پیش کرتاہوں ۔عنوان چشتی صاحب نے خاکے بھی لکھے تھے ،ان کے خاکوں پر مشتمل مقالہ اہم تھا ،احمد محفوظ کا مقالہ قابل دیدوداد تھا۔آخر میں اردو اکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمد نے تمام صدور ،مقالہ نگاراور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر اکادمی کی سمینار کمیٹی کے کنوینر جناب صلا ح الدین بطور خاص موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے