امت کے زوال کا سفرحیدرآباد قتلِ عام 1948 سے دہلی 2020 تک

0
68
امت کے زوال کا سفرحیدرآباد قتلِ عام 1948 سے دہلی 2020 تک
امت کے زوال کا سفرحیدرآباد قتلِ عام 1948 سے دہلی 2020 تک
ّّّآج سے ٹھیک 72 سال پہلے حیدرآباد میں  جو کچھ ہوا، اس کو دیکھنے والوں نے قیامتِ صغریٰ سے تعبیر کیا۔ مسلمانوں کے گاؤں کے گاؤں تباہ کردیئے گئے، لاکھوں مسلمانوں کو شہید کردیا گیا اور باؤلیوں اور تالابوں میں اپنی عصمت و وقار کی حفاظت کرنے کی خاطر کتنی عورتوں نے کود کر جان دے دی اس کا آج بھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اس پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ مجبوری قلم روک دیتی ہے کہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کرنا نہ صرف یہ کہ ظالم کی ہمت اور طاقت کو خراج پیش کرنا ہے بلکہ اپنی ذلّت اور شکست کو تسلیم کرنا ہے۔خوددار قوموں کو یہ زیب نہیں دیتاکہ وہ بیوا کی طرح آہ وِزاری اور نوحہ گری کریں۔ 1857 سے لے کر آج تک، اور بالخصوص آزادی کے بعد سے آج تک ہونے والے فسادات کی تاریخ پڑھیں تو پتہ چلے گا کہ جتنے فسادات ہوے ہیں، ان میں اکثریت فسادات نہیں بلکہ نسل کشی تھے۔ ہر فساد کی ایک ہی نوعیت، ایک ہی سازش، اور ایک ہی نتیجہ یعنی مسلمانوں کی تباہی و بربادی۔ چاہے وہ حیدرآباد کا قتلِ عام ہو، گجرات، مظفرنگر ہو کہ حالیہ دہلی فساد ہو، سازش برہمن کی، ہاتھ نچلی ذاتوں کے اور پشت پناہی پولیس اور قانون کی۔
یہ نسل کشی اس بات کی غمّازی کرتی ہے کہ اب اس امت کے مکمل زوال کا سفر اپنے فطری انجام کی طرف بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ کسی بھی قوم کے فطری زوال کو روکنا ویسے بھی ممکن نہیں۔ اس زوال کا آغاز بلکہ سہرا انگریزوں کے سر ہے جنہوں نے 1857 کا بدلہ اس طرح لیا کہ وہ مسلمان جنہوں نے  ہندو عوام کی قیادت کرتے ہوئے انگریزوں کے خلاف جنگِ آزادی برپا کی تھی، ان سے انگریزوں نے اس طرح  انتقام لیا کہ مسلمان اب کبھی نہ ہندو کی قیادت کرسکیں اور نہ ہندو انہیں برداشت کرے۔ تاریخ وار جتنے بدلے وہ لیتا گیا اور برہمن کو اپنے ساتھ لے کر مسلمانوں کو تباہ و تاراج کرتا گیا، اس کا تذکرہ ہماری کتاب ”وندے ماترم ۔  قومی ترانہ یا دہشت گرد  ترانہ“ میں تفصیل سے موجود ہے۔
آج مسلمان جس حال میں کھڑے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ کسی نے انہیں خبردار نہیں کیا تھا۔ ہر دور میں علما اور دانشوروں نے قدم قدم پر انہیں خبردار کیا تھا کہ”وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے۔۔۔ تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں“۔پولیس ایکشن سے بہت پہلے قاسم رضوی کو بھی اور نظام کو بھی خبردار کردیا گیا تھا۔ لیکن قاسم رضوی نے وہ خط بغیر پڑھے پھاڑ دیا تھا اور نظام کو پورا یقین تھا کہ انگریز ان سے وفاداری کرے گا۔ آج ہم جو کچھ ہیں یہ ہمارے بڑوں کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ ہر خبردار کرنے والے کی بات سن کر وہ یہی کہتے رہے کہ:یہ اولیا اللہ کی سرزمین یہاں کچھ نہیں ہوگا،ولا تہنوا ولا تحزنوا و انتم الاعلون ان کنتم مومنین،ہم بابری مسجد کی طرف اٹھنے والی آنکھوں کو پھوڑ دیں گے،گولیاں کھائیں گے، شریعت میں کسی کو دخل اندازی نہیں کرنے دینگے۔اب حال یہ ہے کہ مسلمانوں سے جائدادیں، انڈسٹری، اعلیٰ عہدے، نوکریاں سب کچھ چھینی جاچکی ہیں، میڈیا میں ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جاچکا ہے۔ کسی بھی حکومت کو چلانے کے لیئے تین اہم شعبے ہوتے ہیں۔ لیجسلیچر، قانون اور ایڈمنسٹریشن۔ ان تینوں سے مسلمانوں کا مکمل صفایا کیا جاچکا ہے۔ برسہابرس سے آریس یس نے محنت کرکے اپنے وفادار سیوکوں کو ہر ہر کرسی پر بٹھادیا ہے، اب اگرآریس یس ختم بھی ہوگی تو اس کے بوئے ہوئے یہ نفرت کے بیج ختم ہوتے ہوتے پچاس ساٹھ سال لگیں گے۔ اب آپ کو کن مسائل پر سوچنا ہے، کیا بولنا ہے کیا لکھنا ہے کیا جلسے کرنے ہیں کیا کھانا ہے اور بچوں کو کیا پڑھانا ہے ان تمام باتوں کا فیصلہ آریس یس کررہی ہے۔انصاف ملنے کے امکانات دور دور تک معدوم ہوچکے ہیں، اب کسی نے منہ کھولا تو عمرخالد، ڈاکٹر کفیل، صفورہ وغیرہ کے واقعات ہر شخص کو بری طرح خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہیں۔ نہ آپ اب جلسہ کرسکتے ہیں نہ جلوس نکال سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کا احتجاج آپ کو UAPA میں بند کرواسکتا ہے۔ آپ پر ایسے ایسے جھوٹے الزامات لگا دیئے جائنگے کہ کئی سال آپ صرف مقدمات لڑتے ہوئے گزار دینگے۔ آپ اگر کسی ایسی جماعت یا فرد کا ساتھ دینگے جو فاشسٹوں کی نظر میں کھٹکتے ہیں تو پھر پولیس والے آپ کے خاندان کے لوگوں کو اس قدر ہراس کرینگے کہ آپ کے اہلِ خاندان خود پولیس بن کر آپ کے جانے آنے پر پابندی لگادیں گے۔
اس  انجام کو پہنچنے کا پہلا سبب ہمارے باپ دادا کی غفلت ہے جن کو خبردار کیا گیاتھا لیکن ناعاقبت اندیش مولویوں اور لیڈروں کی بھڑکانے والی جوشیلی تقریروں اور نعروں میں انہیں مستقبل کے خطرات بالکل محسوس نہیں ہوتے تھے، بلکہ وہ خود بھی ایسے جھوٹی تسلی دینے والوں کو دل سے چاہتے تھے جو انہیں فکروعمل کی زحمت سے بچادیں۔ اب اگر آج ہم فوری طور پر ایکشن میں نہ آئیں تو ہمارے بچے، پوتا پوتی جن حالات سے گزرنے والے ہیں وہ آج سے بھی بدتر ہوں گے۔کل ہماری نسلیں ہمیں کوسیں گی۔
آج جب ہم اپنی قوم کی اخلاقی حالت کو دیکھتے ہیں تو یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ کیا یہ قوم دوبارہ کبھی عروج حاصل کرسکے گی۔ سلام ہے آر یس یس کے جان نثار سیوکوں کو کہ جنہیں پتہ ہے کہ ان کا لیڈر ایک جعلی ڈگری رکھنے والا ہے، انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ ان کی پارٹی میں کئی لیڈر بدکردار ہیں، لیکن وہ افراد سے بے نیاز ہوکر جماعت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، پوری سمع و طاعت کے ساتھ اپنی جان و مال کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ پولیس کانسٹبل ہو کہ فوجی جنرل، اسلام میں جماعت کا جو حکم ہے، وہ حکم اُن لوگوں نے مضبوطی سے تھام لیا ہے۔ لیکن ایک ہماری قوم ہے کہ معمولی آٹو والا ہو کہ بڑے سے بڑا عالم، دانشور یا تاجر، سب اپنے آپ کو جماعت سے بے نیاز یا مستثنیٰ سمجھتے ہیں، کیونکہ ہر شخص اپنی جگہ خود بہت بڑا لیڈر، دانشور اور عالم ہے۔ اس لیے حیدرآباد سے لے کر حالیہ دہلی فساد تک جو کچھ بھی ہوا، ایسا لگتا ہے کہ واجبی ہوا۔ کیونکہ جو جماعت سے نہیں جڑتا احادیث میں اس کی سزا کی پیشن گوئی کردی گئی ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ”جو جماعت سے ایک بالشت بھی دور ہوا وہ جہالت کی موت مرا“۔ اگر ایک ایک فرد کسی نہ کسی جماعت سے مکمل تن دہی کے ساتھ مکمل سمع و طاعت کا ثبوت دے کر جڑ جائے تو اور نیت صرف اور صرف دین کی سربلندی ہو تو جو فاشسٹ قوتیں ستّر سال کے بعد اقتدار تک پہنچی ہیں، وہ ہم سات سال میں پہنچ سکتے ہیں۔ اب ہمیں عقیدوں اور فقہی مسائل پر لڑنے والے مسلک کی جماعتوں کی ضرورت نہیں بلکہ دینی اور سیاسی طاقت رکھنے والی جماعتوں میں فوری شامل ہونا لازمی ہے۔ خطرات اوپر بیان کردیئے گئے ہیں، آج ان خطرات کا مقابلہ کرنے ہمت کے ساتھ آگے آئیں گے تو کل آنے والی نسلیں سر اٹھا کر چلیں گی، ورنہ جس خوف میں آج ہم جی رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ خوف میں وہ مبتلا کردی جائینگی۔ یونیفارم سیول کوڈ نافذ کیا جائیگا، ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی دھمکیاں ملنی شروع ہوچکی ہیں۔ اگر بی جے پی کا اقتدار اگر اور دس سال چلے تو یہ بھی ممکن ہے۔ ہر ہر شہر میں ایک اور دہلی یا حیدرآباد ہونے کے پورے پورے امکانات ہیں۔
دین میں ہر دور میں پیش آنے والے حالات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے، واضح طور پر موجود ہے۔ قرآن ہمیں یہ گائیڈ کرتاہے کہ یہ صرف عہدِ نبوی کے لیئے نہیں تھابلکہ 2020 میں بھی 2030 میں بھی جو حالات پیش آئیں گے ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اس کی رہنمائی کے لیئے بھی تھا۔ لیکن دین کو عوام کے ذہنوں میں بٹھانے والے مدرسوں سے نکلنے والے حضرات جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح دین کو دنیا کے سامنے پیش کریں، ان کے مدرسوں کے نصاب میں قرآن بمشکل دس فیصد ہے، باقی نوّے فیصد فقہ  ہے، منطق یا فارسی ہے یا پھر قصص النبین، صرف و نحو وغیرہ جیسے مضامین ہیں۔ وہ فقہ جو آدمی کو غسل یا تیمم، لونڈی اور غلام، طلاق یا خلع، کے احکامات تو سکھاتی ہے لیکن اس دنیا میں سیاسی، معاشی یا اخلاقی طور پر کس طرح کھڑا ہونا ہے، کس طرح خود امت اور غیر قوموں کو صحیح اسلام سے روشناس کروانا ہے، یہ چیزیں ان کے داخلِ نصاب نہیں، یہ وجہ ہے کہ اہلِ مدرسہ نہ کسی کے پیچھے چل سکتے ہیں اور نہ دوسرے ان کے پیچھے چلنے تیار ہیں، جمعہ کے خطبے سننے کوئی نہیں آتا، خطیب خالی دیواروں یا ستونوں کو مخاطب کرتے رہتے ہیں، یا پھر ان ضعیف بوڑھوں کو جو اولِ وقت آکر دائیں اور بائیں جانب کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔ آج علما کو سننے والوں کی تعداد پچھلے دس سال یا بیس سال کے مقابلے میں کئی گنا گھٹ چکی ہے، آئندہ دس بیس سال میں یہ اور بھی تیزی سے گھٹے گی۔ اب وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ پورے نصاب کو بدل کر ایک مکمل دعوتی نصاب ترتیب دیا جائے۔ سود پر کتابیں بہت لکھی جاچکیں اب بنک اور انشورنس کا ایک ایسا ماڈل جو کشمیر سے کنیاکماری تک دوسرے بینکوں کی طرح قائم ہوسکے، اس کی تیاری کی جائے، اگر ممکن نہیں تو موجودہ لائف انشورنس سے مجبوری کے تحت کس طرح فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، اس کی راہیں نکالی جائیں تاکہ ہر سال لائف انشورنس کی معلومات نہ ہونے کے سبب قوم جو ہزاروں کروڑ روپئے کا نقصان کررہی ہے، اس نقصان سے بچ سکے۔ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی
9642571721
حیدرآباد

Article on Muslims downfall by Dr.Aleem Khan Falki

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here