حقیقت خرافات میں کھو گئی

0
10

فیروز عالم ندوی
معاون اڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی
دینی علوم تجربات ، سائنس، فلسفہ ،سیاسیات، معاشیات اور دانش و حکمت سے الگ نہیں ہیں۔ ان کے حصول کے لیے آپ ﷺ نے بہ نفس نفیس اپنی حیات مبارکہ میں عمل کیا اور صحابہ کو اس کی ترغیب دی۔ آپ نے صرف دور جاہلیت کے علوم کی تحصیل سے امت کو منع فرمایا جن کی بنیاد توہم پرستی اور جھوٹی روایات پر قائم تھیں ، جن کو جعلی سائنس بھی کہا جاتا ہے ۔ اسلام میں معلومات اور قیاس کو بھی علمی اساس و تصدیقات میں شامل کیا گیا ہے اور اس کی صحت مندی کا معیار مقرر کیا گیا ہے۔اسلام میں اجتہاد کا مطلب ہی رجعت قہقری اور تضادات کا خاتمہ ہے ۔ مسلمانوں نے کھلے بندوں اپنے عہد میں دوسری اقوام کے علوم سے استفادہ کیا اور انہیں فتووں کا انتظار نہیں کرنا پڑا ۔ اس بنا پر اخلاقیات اور معاملات کے موضوعات میں اجتہاد سے کام لینے کا درس دیا گیا۔ اجتہاد کا مفہوم علوم و فنون کو معاشرتی تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ کیوں کہ جمود ،تقلید اور ان معاملات میں تقدیس کو قائم رکھنے سے اسلام کی حرکیاتی فکر پر کاری ضرب لگتی ہے ۔
اسلام کے تصور علم یا نظریہ علم میں اتنی وسعت ہے کہ اس میں تمام عقلی و تجرباتی علوم اور نظریات کو بلا جھجھک حاصل کرنے کی نہ صرف یہ کہ پوری گنجائش موجود ہے بلکہ اس کی ترغیب بھی ہے۔ اگر کہیں کسی علم کے حاصل کرنے سے منع کیا گیا تو وہ دور جہالت کے علوم ہیں جن کا تعلق توہم پرستی ، جادو ٹونہ علم نجوم وغیرہ ہیں ۔ علوم کے حصول کے لیے اتنے فکری دروازے کھلے رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اسلام میں روشن خیالی،وسعت نظری ارادے و عمل کی آزادی کا تصور جو قران نے دیا ہے ۔ اس کی بنیاد انسان کے ارادے اور عمل پر رکھی گئی ہے۔ارادے اور عمل کی آزادی کا تصور ہر طرح کی غلامی سے انسان کو نجات دلاتا ہے اور اس کے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرتا ہے نہ کہ تقدیر کا بہانہ بنا کر عمل سے بیگانہ کرتا ہے ۔ بارہویں صدی عیسوی تک دنیا پر مسلمانوں کی برتری قرانی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی علمی ترغیبات کا نتیجہ تھا۔
کسی بھی نظام فکر کو قیادت و سیادت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو ، سائنس اور اخلاقیات کی تمام شعبہ ہائے حیات پر اس کی کار فرمائی ہو۔ اس معاملے میں موجودہ اور رائج الوقت اسلامی فکر وہ تقاضے پورے نہیں کر رہی ہے جس کی بڑی وجہ علوم وفنون کی ترقی اور فروغ سے بھی زیادہ ہمارے تصور علم میں ابہام ہے اور قطعیت کا فقدان ہے ۔ رونا تو اس بات کا ہے مسلمانوں کے نزدیک علم کا حصول عبادت کا درجہ رکھتا ہے اور اس میں یہ اتنے ہی بودے ثابت ہوئے ہیں ، بہر کیف ایک بات مسلم ہے مسلمانوں نے ساتویں صدی عیسوی سے لے کر سولہویں صدی عیسوی تک جو بھی ترقی کی ایک نظریہ علم کے تحت تھی کہ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے اس کو جہا ں کہیں سے بھی ملے حاصل کرلے اور بہتر علم وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ بارہویں صدی عیسوی تک پیغمبر اسلام کا نظریہ علم جو اپنے اند ر ایک انتہائی وسعت کا حامل تھا ،جہاں علم کے دروازے چاروں اطراف سے کھلے تھے اور کسی بھی علم کے حصول کی تخصیص مقرر نہیں تھی، علم کی بنیادی تعریف جو دوسروں کو نفع پہنچائے کی ترغیب دی گئی تھی۔ جو سائنسی بھی تھا اور روحانی بھی ، جو انسانی زندگی کے ہر دائرہ کار کا احاطہ کرتا تھا۔
علم کے حصول اور ترغیبات کے بارے میں ایسی جاندار انقلابی روح پھونکی گئی تھی کہ مسلمانوں نے اپنے ذاتی تجربات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جہاں کہیں سے بھی علمی خزینہ موجود تھا اٹھا کر لے آئے ۔ صفحہٗ کائنات اور تاریخ عالم میں اتنی جامع شخصیت آج تک پیدا نہیں ہوئی جس کی تعلیمات کے اتنے گہرے اثرات انسانی تمدن پر مرتب ہوئے ہوں اور اس کے ماننے والے اس کے عشق کا دم بھرتے ہوں۔ علم کے فروغ میں روشن خیالی وسعت نظری ، عقلیت پسندی اور رواداری کا کلچر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کا مرہون منت ہے ، جس میں غیر مسلموں اور اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی آپ کا برتاؤ اعلٰی اخلاقی اقدار کا امین تھا۔بارہویں صدی عیسوی تک مسلمانوں نے صرف اکیلے ہو کر علمی ترقی نہیں کی بل کہ غیر مسلموں اور اہل کتاب بھی مسلم حکماء اور فلاسفہ کے ساتھ باہم مل کر کام کرتے رہے۔ اس رواداری کا نتیجہ تھا کہ اسپین میں عیسائی علما نے مسلمانوں سے سائنسی و دیگر تمدنی علوم سیکھے اور یورپ کو جدید علوم سے روشناس کرایا اور یورپ پھر ترقی کر کے نشات ثانیہ میں داخل ہوا۔
فقہا نے اسلامی تعلیمات کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن علمی و دینی معاملات میں اختلافات کا سلسلہ خلفائے راشدین کے دور سے ہی شروع ہو چکا تھا ۔ مگر بعد ازاں سائنسی و علمی علوم کو ترقی کرنے کے لیے ساز گار مواقع بھی مل گئے تھے۔بارہویں صدی عیسوی تک دوسری اقوام پر مسلمانوں کی برتری کے بنیادی اسباب میں ایک بڑا سبب علم نافع یعنی افادی علم تھا جس میں تجرباتی سائنس اور فلسفہ پیش پیش تھے ۔ بارہویں صدی عیسوی کے بعد جہاں ایک طرف اہل یورپ مسلمانوں سے اکتساب کر کے نشات ثانیہ اور روشن خیالی جیسی تحریکات میں داخل ہوئے،دوسری طرف اسلامی اذہان کو فرقہ پرستی،نسلی عصبیت اور عقل دشمنی کی مذہبی اور صوفیانہ تحریکیں لے ڈوبیں۔
ہم نے اسلاف پرستی کا غلط مفہوم اخذ کیا۔ ہم نے ان کی جوں کی توں نقالی کرنے کو وفاداری سمجھا اصل میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی طرح ہم بھی روایات شکن بنیں اور علوم وفنون کی نئی طرح ڈالیں ۔ قرون اولیٰ کی بنیادی اور سادہ دانش کی راگ الا پنے سے بہتر ہے کہ اسی فکری روش یعنی علم کی پیاس بجھانے کے لیے تحقیقی و تنقیدی فکر اور حکمت کو اپنا معنوی کلچر کا حصہ بنایا جائے کیوں کہ قران و حدیث کی رو سے کسی بھی قسم کے علم کے حاصل کرنے پر پابندی نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here