اس تحریک کو “لاالہ الا اللہ” کے کفن میں مت لپیٹے۔

0
8
ی الحال جو لڑائی پورے بھارت میں زوروشور سے چل رہی ہے وہ سی اے اے ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف چل رہی ہے ۔۔۔ یہ بتانا اس لیے ضروری تھا کہ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے یہ ہمارے
اس تحریک کو "لاالہ الا اللہ" کے کفن میں مت لپیٹے۔

 

اس تحریک کو “لاالہ الا اللہ” کے کفن میں مت لپیٹے۔

فی الحال جو لڑائی پورے بھارت میں زوروشور سے چل رہی ہے وہ سی اے اے ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف چل رہی ہے ۔۔۔ یہ بتانا اس لیے ضروری تھا کہ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے یہ ہمارے “پہچان” کی لڑائی ہے ۔۔۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کس طرح کے پہچان کی لڑائی ہے ۔۔۔؟
لوگ کہتے ہیں کہ سی اے اے میں بھید بھاو کیا گیا ہے وہ ہماری پہچان کی وجہ سے ہی کیا گیا ہے ۔۔۔ یقینا پہچان کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔۔۔ آپ کی ایک الگ پہچان ہے اس لیے ہی باہر کیا گیا ہے اگر پہچان نہیں ہوتی تو جیسے چھ لوگوں کو شامل کر لیا گیا ہے ، اسی طرح آپ کو بھی شامل کرلیا جاتا ۔۔۔ آپ کو آپ کی پہچان کی وجہ سے ضرور باہر کیا گیا ہے مگر کس لیے کیا گیا ہے یہ اہم سوال ہے۔
یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ کی ایک پہچان ہے اس لیے باہر کیا گیا ہے مگر پہچان مٹانے کےلئے نہیں وجود مٹانے کیلئے باہر کیا گیا ہے۔ پہچان راستہ ہے منزل آپ کا وجود ہے ۔۔۔ اسی لیے لڑائی راستے کی نہیں منزل کی لڑیے راستے خود بخود پیدا ہونگے۔
ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ پہچان ہے کیا ۔۔۔؟
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ گھرواپسی کا ایک راستہ ہے کیونکہ جو این آرسی میں باہر ہوگا اس کو اسی بنیاد پر دوبارہ شہریت ملے گی کہ وہ سی اے اے میں مذکورچھ دھرموں میں سے کسی ایک قبول کرے ۔۔۔ تو یاد رہے یہ صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہوگا ۔۔۔ ان چھ دھرموں کے علاوہ بھی اس دیش میں بہت سے مذاہب ہیں ۔۔۔ پھر بھی اگر آپ کو اس بات کا ڈر ہے کہ بہت سے مسلمان مجبورا گھرواپسی کرلیں گے ۔۔۔ تو یہ بھی آپ کے پہچان کا نہیں وجود کا مسئلہ ہے کیونکہ مذہب وجود کا حصہ ہے ۔۔۔ مذہب جب وجود میں اترتا ہے تب پہچان بنتا ہے ۔۔۔ صرف پہچان سے مذہب نہیں ہوتا۔
آپ کی ظاہری پہچان یہی ہے کہ آپ ٹوپی لگاتے ہو ، داڑھی رکھتے ہو ، برقع پہنتے ہو وغیرہ اور اگر آپ کا وجود ہی نہیں رہا تو یہ سب کیسے بچا پاو گے۔۔۔؟
چلو پھر بھی مان لیتے ہیں کہ آپ کے پہچان ہی کی لڑائی ہے تو کس سے لڑیں گے ۔۔۔ کیا آرایس ایس اور بی جے پی حکومت آکر ہر ہفتے آپ کی داڑھی منڈوا دیتی ہے ۔۔۔؟ کیا بازار میں برقع اتار کر جانے پر پولیس آپ کو مجبور کررہی ہے ۔۔۔؟ رہی بات تکبیر کی تو کس مسجد میں پانچ وقت کی اذان نہیں ہورہی ہے ۔۔۔؟
اس لیے کہتا ہوں حکومت اور آرایس ایس سے وجود کی لڑائی ہے اور اپنے آپ سے پہچان کی لڑائی ہے۔
آپ کی پہچان کیا تھی ۔۔۔؟ اعلی اخلاق ۔۔۔ 90 فیصد سے زائد مسلمانوں کے پاس اخلاق کے نام پر کیا ہے ۔۔۔؟
آپ کی پہچان کیا تھی ۔۔۔؟ “اللہ کے رسول نے کہا مومن سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہوسکتا” ۔۔۔ کوئی ایک مسلمان بتا دو جو جھوٹ نہ بولتا ہو ۔۔۔ کیا آپ سے جھوٹ حکومت بولوا رہی ہے ۔۔۔؟
آپ کی پہچان کیا تھی ۔۔۔؟ امانت داری ۔۔۔ کتنے مسلمان ہیں جو امانت دار ہیں۔۔۔؟
آپ کی پہچان کیا تھی ۔۔۔؟ حسن سلوک ۔۔۔ کتنے لوگ ہیں جن کے اندر حسن سلوک ہے ۔۔۔؟ وغیرہ
اس لیے کہتا ہوں پہچان کی لڑائی لڑنی ہے تو خود سے لڑو سرکار سے نہیں سرکار سے ہمارے وجود کی لڑائی ہے۔
جوآپ کو بتار ہے ہیں کہ یہ آپ کے پہچان کی لڑائی ہے ان کے بیک گراونڈ پر ایک نظر ڈالیے ۔۔۔ یہ آپ کی لڑائی کو اپنے سیاسی مفادات کےلئے اچکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چلو ٹھیک ہے آپ کے حساب سے یہ پہچان کی لڑائی ہے تو ٹھیک ہے آپ لڑیے مگر اس اسٹیج سے نہیں۔۔
آخر کیوں۔۔۔؟
یہ تحریک جامعہ کی قربانی سے شروع ہوئی ہے اور پورے بھارت میں پھیلی ہے ۔۔۔ جامعہ میں اس دن قربانی دینے والوں میں صرف مسلمان نہیں تھے ۔۔۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی اور ناستک طلبہ بھی تھے ۔۔۔ خدا را ان کی قربانیوں کو اپنے مفاد کےلئے لاالہ الا اللہ کے کفن میں مت لپیٹے۔

سیف ازہر
فیکلٹی آف ایجوکیشن
جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی

Saif Azhar
Jamia millia islamia,New Delhi ,110025 
Mo:- +919599442099
3 Attachments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here