یہ عالمی لاک ڈاؤن خود ساختہ نہیں خدا ساختہ ہے۔یاور رحمان کی وال سے

0
188
یہ عالمی لاک ڈاؤن خود ساختہ نہیں خدا ساختہ ہے۔یاور رحمان کی وال سے
یہ عالمی لاک ڈاؤن خود ساختہ نہیں خدا ساختہ ہے۔یاور رحمان کی وال سے

یاور رحمان

Yawer Rahman's profile photo, Image may contain: 1 person, smiling

 

 

 

ہمارے گھر کی بالکنی میں پڑے شو ریک Shoe rack کو کبوتر وں نے اپنا آشیانہ بنا رکھا ہے۔ میں نے اپنے اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے جبریہ طور پر خالی کرا نے کے لئے انکروچمنٹ کا فیصلہ کیا مگر میرے بچوں کی کیبنٹ نے متفقہ فیصلہ سنا دیا کہ شو ریک میں بس چکے کبوتروں کو کسی بھی حال میں بے گھر نہیں کیا جاۓ گا۔ اس طرح اک کبوتر اور ایک کبوتری نے بغیر کسی فیملی پلاننگ کے چند ہی دنوں میں چھوٹی سی ایک فوج کی صورت اختیار کر لی۔ میں جز بز ہونے کے سوا اور کر ہی کیا سکتا تھا۔

کل جب لاک ڈاون کی سرکاری میعاد بڑھا دی گئی تو اپنا ‘مختار’ ہونا بیحد یاد آیا اور اپنی بے بسی کا احساس شدید تر ہوا تو بالکنی کے کبوتر یاد آ گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بڑی آزادی سے باہر گھوم رہے ہیں، کبوتر جتنی بار چاہتا ہے بنا کسی روک ٹوک کے بڑے طمطراق سے آنا جانا کر رہا ہے۔ اس کے بچے بھی پرواز کی مشق میں خوب چہچہا رہے ہیں۔ حیران نظر نیچے جھکی تو دیکھا کہ چٹکیوں میں آسانی سے مسل دی جانے والی چیونٹی نام کی ننھی سی یہ مخلوق بھی خوب آزادی کے ساتھ اپنے بلوں سے باہر گھوم رہی ہے، سوشل ڈسٹینسنگ تو دور کی بات ہے، چینی کے ایک دانے سے سنیکڑوں لپٹی ہیں۔ کچھ دوسرے کیڑے مکوڑے بھی بلا خوف و خطر ادھر ادھر گھوم رہے ہیں۔ اپنے اور ان سب کے رب سے شکایت کے لئے نگاہ آسمان کی جانب اٹھائی تو دیگر پرندوں کے غول کے غول آسمان سر پہ اٹھاۓ گویا زمین والوں کی بے بسی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ شرما کے سر ذرا نیچے جھکا تو نظر سامنے والے نیم کے درخت پر اٹک گئی۔ ایک مینا انگڑائی لیتے ہوئے اپنے ساتھی سے بڑے رومانٹک لہجے میں کہ رہی تھی،
“چلو اوکھلا برڈس سینچری چلتے ہیں”۔
“وہاں تو جاتے ہی رہتے ہیں، چلنا ہے تو جی آئ پی نوئیڈا چلو۔ آج کل وہاں الو بستے ہیں”۔ ساتھی نے جواب دیا۔
“کیوں ؟ تمہارا دل الوؤں پر کب سےآ گیا؟” مینا نے تیوری چڑھائی۔
” تم نے مجھے ایل جی بی ٹی (LGBT) سمجھ رکھا ہے کیا ؟ بھئی میں آدمی نہیں ہوں بلکہ ہر قسم کی آدمیت سے پاک ایک آزاد پرندہ ہوں بس۔ خواہ مخواہ موڈ خراب کر دیتی ہو تم۔” ساتھی نے تلخی سے کہا اور چہرہ گھما لیا۔
“اچھا چلو، جانے دو ۔ مینا اپنے ساتھی کو مناتے ہوئے بولی، تمھیں کل کا ایک واقعہ سناتی ہوں۔”
پھر مزید توقف کیے بغیر خلا میں گھورتے ہوئے بولی، ” کل میں نے بڑی عجیب چیز دیکھی، وہ ایک انسانی لاش تھی، پورا جسم مسخ تھا، ایسا لگتا تھا جیسے وحشی جانوروں نے اسے فٹبال کی طرح کھیل کھیل کر مار ڈالا ہو۔ وہ مسخ شدہ لاش ایک درخت کے نیچے پڑی تھی اور اس کے قریب ہی دو گدھ آپس میں باتیں کر رہے تھے، ایک کہ رہا تھا کہ اسے مت کھاؤ، اسے کورونا کے وائرس نے مارا ہے۔ ہو سکتا ہے اس کا وائرس ہمیں بھی نقصان پہنچا دے۔ دوسرے نے کہا، نہیں ، اسے نفرت کے وائرس نے مارا ہے کورونا نے نہیں۔ پہلا جھٹ سے بولا، ہاں ہاں ٹھیک ہے مگر مارنے والوں نے یہی کہ کہ کے تو اسے مارا تھا کہ یہ کورونا پازیٹو مسلمنٹا ہے اور جان بوجھ کر ہندوؤں میں وائرس پھیلا رہا تھا۔ دوسرے نے کہا، چلو کھاتے ہیں، ویسے بھی یہ وائرس ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے! اس لاش کو ہم نہیں کھائیں گے تو مٹی اسے کھا جاۓگی۔ ویسے بھی جب سے دہلی کے سلاٹر ہاؤس بند ہوئے ہیں، شاکاہاری بن گیا ہوں۔۔۔ اور فساد کے بعد کی مستیاں بھول گئے ؟ پہلے نے اسے ٹوکا، کھا کھا کے پھول گئے ہو تم۔۔۔ویسے تم چاہو تو کھا لو، میں نہیں کھاؤں گا۔ ابھی تو لاشوں کا موسم شروع ہی ہوا ہے۔ کورونا رہے چاہے جاۓ ، تازہ لاشوں کی بارش ہونے ہی والی ہے۔ کھانے پینے کی کمی نہیں ہونے والی۔ نفرت کے خداؤں نے نیا آسمان تیار کر رکھا ہے۔ ”

مینا نے خاموشی اختیار کی تو اس کی سانسیں پھول رہی تھیں۔ اسکا ساتھی اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
تبھی “بابا” کہکر میرا چھوٹا بیٹا اچانک آ کر مجھ سے چمٹ گیا۔ میں چونک کر عالَم تصورات سے پلٹا۔ پرندوں کا وہ جوڑا بھی بیٹے کی چیخ سے سہم کر اڑ چکا تھا۔ میں حیرت زدہ تھا کہ ان معصوم پرندوں کی زبان آخر میں کیونکر سمجھ رہا تھا ؟ پھر خیال آیا کہ سوچیں کبھی کبھی لفظوں میں ڈھلنے کے لئے ایسا ہی کوئی منظر تلاش لیتی ہیں۔

خیر ، تاریخ کے اس عالمی لاک ڈاؤن نے جب سے انسانوں پر خود ان ہی کے سجائے ہوئے شہر، ان کی سڑکیں، گلیاں ، عمارتیں، بازار اور تفریح گاہیں ان ہی پر بند کر دی ہیں تب سے جنگل کے جانوروں، کیڑے مکوڑوں اور پرندوں نے شہروں کو اپنی تفریح گاہ بنا لیا ہے۔ ایسی کئی تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

کہنے کو یہ عالمی لاک ڈاؤن خود ساختہ لگتا ہے، مگر خدا کی قسم یہ خدا ساختہ ہے۔ اور یہی بتانے کے لئے ہے کہ انسان جب بھی خدا کے دئے ہوئے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا، اپنا ہی نقصان کرے گا۔ ایک وائرس کے خوف سے اپنے بلوں میں دبک جانے والے مغرور اور متکبر انسانوں کو سمجھنا چاہیے کہ خدا کی طاقت اور اس کا اقتدار اسے اس حال میں بھی لا سکتا ہے کہ یہ اشرف المخلوقات خود اپنے جسم کی بوٹیاں نوچ کر اپنی بھوک مٹانے پر مجبور ہو جاۓ !

یہ بات ہمارے ملک کے انسان دشمن ان جابروں کو بھی سمجھنی چاہیے جو اقتدار کے ناپاک نشے میں اتنے چور اور بدمست ہو رہے ہیں کہ وہ بھگوان اور ایشور کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ انکی سیاسی لیبارٹری سے نفرت کا جو وائرس انتہائی خطرناکی سے بڑھ رہا ہے، اس نے کورونا سے زیادہ بھیانک رخ اپنا لیا ہے۔ اگر اس پہ ہائی کمان نے بروقت کاروائی نہیں کی تو کورونا سے ہونے والی اموات کے شور میں نفرت کا شکار بننے والے مظلوموں کی آہیں کوئی سنے نہ سنے ، خدا تو سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔ پھر تخت بھی اچھالے جائیں گے اور تاج بھی گراۓ جائیں گے!

یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ ظلم کا دیمک خود ظالم کو اندر سے کھوکھلا کر دینے میں کبھی کوئی رعایت نہیں برتتا۔ ظالم اور مظلوم کے درمیان عدل کی یہ تحریک خالص خدائی ہوتی ہے جس کا ادراک تباہی کے دہانے پر ہی ہوتا ہے۔ اس سے پہلے تو اس کے قدموں کی ہلکی سی چاپ تک سنائی نہیں دیتی۔ حالانکہ کہ ابھی تو تمام کرّہ ارض ہی تخریب کی زد پر ہے۔ قدرت کے ہاتھوں میں سزا کا کوڑا دیکھ لینے کے بعد بھی اگر ظالم اپنی روش نہیں بدلتا تو خدا کا بے لاگ عدل اسے اپنے عذاب کا epicentre بنا دیتا ہے۔ سوچنا چاہیے کہ زمین پر حکمرانی کی تمام سیاسی، سماجی اور معاشی قوتوں کے باوجود خود اپنی آزادی کیسے سلب ہو گئی؟ کس قادر و قاہر ہستی نے یہ حال کر دیا کہ ایک میڈیکل رپورٹ حاکم وقت کو بھی self corantine میں بھیج دیتی ہے ؟ اب کیا زمین پر کوئی ہے اس دعوے کی پوزیشن میں کہ اس کا یہ ‘سیاسی اختیار’ کبھی بھی سلب نہیں ہوگا ؟

یاور رحمٰن

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here