Home مزید تہذیب و ثقافت یوم اساتذہ کے موقع پر خصوصی پیشکش۔فاروق بخشی

یوم اساتذہ کے موقع پر خصوصی پیشکش۔فاروق بخشی

0
116
یوم اساتذہ کے موقع پر خصوصی پیشکش۔فاروق بخشی
یوم اساتذہ کے موقع پر خصوصی پیشکش۔فاروق بخشی
یوم اساتذہ سبھی کو مبارک
فاروق بخشی
ہر سال 5 ستمبر کا دن یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے یہ اس لیے خصوصیت کا حامل ہے۔ اسی دن ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سروے پلی رادھا کرشنن کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی کے مد نظر اس دن کو پورے ملک میں ’’یوم اساتذہ‘‘ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے۔
پورے ملک میں اس سلسلے میں تقریبات کے انعقاد ہوتے ہیں۔ طلبہ اس دن اساتذہ کو گلدستے اور تحائف پیش کرتے ہیں جبکہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے عمدہ خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو خصوصی انعامات دیے جاتے ہیں۔اسی یوم اساتذہ کی مناسبت سے فاروق بخشی جو اردو کے بہترین استاد اور شاعر ہیں ان کے علمی سفر اور ان کے استذہ کے بارے میں یہ مضمون پیش کیا جارہا ہے
اس برس دسمبر میں میرے تدریسی سفر کے چالیس برس پورے ہو جائیں گے پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو کل کی سی بات لگتی ہے سب کچھ ایک کھلی آنکھوں سے دیکھا ہوا خواب سا۔لیکن روح کی گہرائیوں سے اعتراف کرتا ہوں کہ آج جو بھی ہوں اپنے اساتذہ کی بدولت ہوں ورنہ جیسے کچھ پودے کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتے ہیں وہی حال میرا بھی ہوتا۔اپنے ٹیچرس کو یاد کرتا ہوں تو سب سے پہلا چہرہ یعقوب صاحب کا آنکھوں میں پھر جاتا ہے دوسری کلاس میں وہ مجھے حساب پڑھاتے تھے پہاڑے ایسے یاد کرائے کہ mental mathsمیں اج بھی دس سے بہتر ہوں ان کی قمچی سے ہتھیلیاں سرخ ہو جاتی تھیں کوئی ایک دہائی قبل تک حیات تھے حاضری کو جاتا تو بہت خوش ہوتے۔دوسرا نام ماسٹر عبدالطیف صاحب کا ہےوہ اسی اسکول کے پرنسپل تھے بے انتہا مشفق و مہربان چونکہ والد محترم کے حلقہء احباب میں تھے اس لئے مجھ پر خاص نظر رکھتے تھے ریسس میں اپنے ناشتہ میں مجھے بھی شریک رکھتے تھے بس ایک ہی جملہ دہراتے ٹیچر اگر دوسروں کے بچوں کو محنت سے پڑھائے گا تو اس کی اولاد بھی قابل ہوگی ان کے دو بیٹے تھے اس زمانے میں ایک انجینیئر اور دوسرا ڈاکٹر بنا۔مڈل درجات میں مٹھن لال جی ٹھاکر شیام سنگھ جی پنڈت آسا رام جی اور امیر احمد صاحب سوچتا ہوں تو یقین نہیں آتا بغیر کسی ٹیوشن فیس کے دو دو گھنٹے ایکسٹرا صرف اس لئے کہ ان کے طلباء ان کا نام روشن کریں گے۔میرٹھ کالج پہونچے تو بشیر بدر جیسا جہان دیدہ استادملاجس نے احساس دلایا کہ تم صرف اردو کے لئے بنے ہو میں نے ایم اے انگریزی کے لئے فارم بھرا تھا خود فیکلٹی جا کر اس پر اپنے ہاتھ سے اردو لکھا۔زندگی کو اس طرح جینا سکھایا آج بھی جاہل سے جاہل شخص کے ساتھ نباہ کر لیتا ہوں ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہیں جیسا بے باک صاف گو اور ہر طرح کی مصلحت سے پاک استاد ملا جس نے زندگی کا نقشہ ہی بدل دیا۔کٹھن سے کٹھن حالات میں اپنی بات سے پیچھے نہ ہٹنا۔ہماری زندگی کے راستے بدلتے دیکھے تو خود میرٹھ سے قمر رئیس صاحب کے سامنے دہلی لےجاکر کھڑا کردیا ان کی تربیت اور شفقت نے اس سنگریزے کو ہیرے میں تبدیل کردیا آج جو کچھ ہوں سب ان کی شفقتوں کے طفیل ہوں۔ٹیچرس ڈ ے پر اس اعتراف سے کتنا خوش ہوں میرا خدا جانتا ہے
عاصی
فاروق بخشی

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here