Home زبان و ادب ارد و ادب ترقی پسند افسانے کی ادبی و فکری اساس

ترقی پسند افسانے کی ادبی و فکری اساس

0
161

ڈاکٹر محمد اقبال خان
ہندوارہ ،کپوارہ ،جموں و کشمیر
ترقی پسند تحریک ایک ہمہ گیر تحریک تھی۔جس نے ادبی تصورات پر گہرے اثرات ثبت کئے۔ جو اصناف ادب خاص طور سے ترقی پسندی سے متاثر ہوئے ان میں افسانہ ،شاعری اور تنقید قابل ذکر ہے۔جس زمانے میں انجمن ترقی پسند مصنفین قائم ہوئی اردو افسانے میں دو غالب رحجانات پیدا ہوئے تھے ۔یعنی پریم چند کی اصلاح پسندی اور نیاز فتح پوری اور بلراج کی رومانیت پسندی موجود تھے۔اس کے بعد حقیقت نگاری کا رحجان عام ہونے لگا ۔یہ رحجان روسی اور فرانسیسی افسانہ نگاروں کے نمائندہ افسانوں کے تراجم سے مستحکم ہوتا گیا۔چناچہ چیغوف وغیرہ کے افسانوں سے اردو کے افسانہ نگار واقف ہوگئے۔ ان میں پریم چند ،احمد علی،اخترحسین رائے پوری اور سجاد ظہیر شامل ہیں ۔اس کے بعد ترقی پسند افسانہ وجود میں آنے لگا۔حقیقت پسند اور ترقی پسند افسانے میں فرق یہ ہے کہ حقیقت پسند افسانہ خارجی سچائیوں کو سائنسی قطعیت کے ساتھ پیش کرتا ہے ۔اس میں افسانہ نگاری کی ذاتی رائے و جدان اور بصیرت کا م نہیں آتی۔زیادہ سے زیادہ حقائق کی ترجمانی کرتا ہے۔ جہاں تک ترقی پسند افسانے کا تعلق ہے اس میں حقیقت نگاری کے ساتھ ساتھ حقیقت یعنی سماجی اور طبقاتی نظام کو بدلنے پر بھی زور دیا جاتا ہے ۔اس طرح سے ترقی پسند افسانہ سماجی مسائل کی عکاسی بھی کرتا ہے اور ان مسائل کا مناسب حل بھی تجویز کرتا ہے۔
ترقی پسند تحریک کے زیر اثر جو ادب تخلیق کیا گیا اس کے بارے میں منشی پریم چند نے’’ کُل ہند کانفرنس ‘‘ کے صدارتی خطبے میں کہا ہے کہ
’’ جس ادب سے ہمارا ذوق صحیح بیدار نہ ہو ،روحانی اور ذہنی تسکین نہ ملے،ہم میں قوت وحرارت پیدا نہ ہو ، ہمارا جذبہ حسن نہ جا گے ،جو ہم میں سچا ارادہ اور مشکلات پر فتح پانے کے لیے سچااستقلال نہ پیدا کرے۔وہ آج ہمارے لیے بیکار ہے۔اس پر ادب کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ ہماری کسوٹی پر وہی ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو،آزادی کا جذبہ ہو ،حسن کا جوہر ہو،تعمیر کی روح ہو،زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت ،ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے ۔سلائے نہیں کیونکہ اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔ ترقی پسند مصنفین کو یہ نکتہ پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ورنہ ان کی بہت سی محنت اکارت جائے گئی ۔ان کے خیالات کیسے ہی بلند پائیہ اور انقلاب انگیز کیوں نہ ہو ں ،پت جھڑ کی طرح ہوا میں بکھر جائیں گے ۔ ‘‘
بحوالہ خلیل الرحمن اعظمی ’’ اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک ‘‘ ص ۔۵۱
ترقی پسند افسانے نے اہل وسیع نقطہ نظر پیش کیا ہے ۔اس میں پہلی بار قومیت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامیت اور دنیا کے دبے کچلے ہوئے عوام اور ان کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ۔ ترقی پسند افسانے نے تعصبات کی دھند کو صاف کیا ۔انسانوں کے درمیان جو اونچی دیواریں کھڑی ہوگئیں تھیں انھیں ڈھا کر انسان کو بحیثیت ایک کُل کے پیش کرنے کی کوشش کی ۔ترقی پسند افسانہ عوام کی دوستی کی ایک نمایاں مثال ہے ۔اس نے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا اور انھیں اپنی خودی کا احساس دلایا ۔ترقی پسند افسانے کے بارے میں ڈکٹر صادق لکھتے ہیں
’’ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے اردو افسانے کی روایت کو نہ صرف یہ کہ آگے بڑھایا بلکہ وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ بدلتی ہوئی اقدار زندگی کے نئے مسائل اور فن کی نت نئی راہوں کو اپنے فن میں سمو کر ایک نئی روایت قائم کی ۔اپنی فکر اور فن کے زریعے ترقی پسند افسانے کی بنیاد مستحکم کرنے والے افسانہ نگاروں میںعلی عباس حسینی ، اختر حسین رائے پوری ، رشید جہاں ،حیات اللہ انصاری ، سہیل عظیم آبادی،اپندرناتھ اشک، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو ، راجندر سنگھ بیدی ، احمد ندیم قاسمی ، بلونت سنگھ، خواجہ احمد عباس، عزیز احمد، دیوایندرسیتارتھی،مہندر ناتھ اور ہنس راج رہبر کے نام خاص ہیں۔ ان میں کرشن چندر ،منٹو، بیدی، عصمت چختائی، حیات اللہ انصاری اور احمد ندیم قاسمی کو نمائندہ ترقی پسند افسانہ نگار قرار دیا جاسکتا ہے۔‘‘
بحوالہ ڈاکٹر محمد صادق،’’ترقی پسند تحریک اور اردو افسانہ ‘‘،۱۹۸۱؁ ء ص ۱۳۴
یہاں ضمنی طور پر اس بات کی وضاحت بھی مطلوب ہے کہ کیا ترقی پسندی صرف مارکسی افسانہ نگاروں تک ہی محدود و مخصوص ہے؟ظاہر ہے ترقی پسندی کا مطلب معاشرتی خرابیوں مثلاًظلم ،،پسِ ماندگی ،جہالت اور استحصال کے خلاف قلمی جہاد کرنا ہے ۔ظاہر ہے یہ ایسا انسان دوستانہ فریضہ ہے جو ہر فن کار شعوری یا غیر شعوری طور پر انجام دیتا ہے۔ایک باضمیر اور حساس فن کار رجعت پرست ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ ہمیشہ ایسی قوتوں کا ساتھ دیتا ہے جو انسانی اقدار کا تحفظ کرتی ہیں اور انسانی بھلائی اور ترقی کو اپنا نظرئیہ بناتی ہیں۔اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہر فن ترقی پسند ہے ۔ہاںیہ ضرورت ہے کہ ایسے فن کار کا شعوری طور مارکسیت کے علم کے سہارے پرانے نظام کو بدلنا چاہتا ہے اور بہتر معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے۔اول الذکر افسانہ نگاروں میں منٹو اور اور اختر نیوی کا نام لیا جاسکتا ہے۔جبکہ موخر الذکر افسانہ نگاروں میں کرشن چند ،راجندر سنگھ بیدی اور خواجہ احمد عباس کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
یہاں پر ان افسانہ نگاروں کا ایک ارتقائی جائزہ پیش ہیں جو شعوری طور ترقی پسند رحجانات کی آب یاری کرتے رہے ہیں۔ ان میں سرفہرست پریم چند کا نام ہے۔پریم چند نے ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس کی صدارت کی۔ وہ ترقی پسند ی کے مفہوم سے واقف تھے۔ انہوں نے ہندوستانی دیہات میں پیشوں اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کے بارے میں حقیقت پسند انہ افسانے لکھے۔موصوف نے اردو افسانے کو داستانی ماحول کی خواب آوری سے نکال کر زندگی کی ٹھوس حقیقت سے سامنا کرایا۔
دسمبر ۱۹۳۲؁ء میں ترقی پسندافسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’انگارے‘‘شائع کیا ۔ انگارے کی اشاعت ترقی پسند افسانہ نگاری کا ایک تاریخی موڑہے۔اس میں سجاد ظہیر ،احمد علی ،رشید جہاں اور محمود الظفر کے افسانے شامل ہیں۔ان افسانہ نگاروں کو ملک کی سیاسی و معاشی پس ماندگی ،بھوک ،استحصال اور جنسی گھٹن کا گہرا احساس تھا۔ انہوں نے لوگوں کے جنسی اور نفسیاتی مسائل اور الجھنوں کو پیش کیا ہے۔
پریم چند کے بعد دوسرے بڑے ترقی پسندافسانہ نگاروں میں کرشن چندکا نام بطور خاص لیا جاتا ہیں۔ابتدائی دور میںوہ رومانیت اور جذباتیت کے دائرے میں محصور رہے لیکن ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ان کے نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلی آگئی۔کرشن چند اور ترقی پسند تحریک کو اکثر ایک ہی سکے کے دو پہلو قرار دیا جاتا ہے کیونکہ موصوف نے مارکسی نظریات کو ادب میں ایک مشن کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوںنے گردوپیش کے حقائق کا مشاہدہ کیا۔انھوں نے گہرے طور پرمحسوس کیا کہ ملک استحصالی نظام کے ہاتھوں مفلسی ،فاقہ کشی اور پسماندگی کے دلدل میںگرفتا رہے۔وہ ظلم واستحصال کی تاریک قوتوں کے خلاف صف آرا ہوئے ہیںاور محبت ،مساوات اور انسانیت کی قدروں سے معمور ایک نئی دنیا کی تعمیر کرتے رہے۔ کرشن چند کے مشہور افسانوں میں زندگی کے موڑ پر ، دوفرلانگ لمبی سڑک،ٹوٹے ہوئے تارے،بالکنی، جنت وجہنم،پشاور ایکسپریس،برہم پتر،پھول سرخ ہے،مرنے والے ساتھی کی مسکراہٹ،بت جاگتے ہیں،مہالکشمی کا پل وغیرہ قابل قدر کارنامے ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی نے نچلے اور متوسط طبقے کے لوگوں کے دکھوں،پریشانیوں اور الجھنوں کو اپنے افسانوی میں پیش کیا ہے۔وہ صف اول کے افسانہ نگار ہیں۔ان کی کامیابی کے دو اہم اسباب ہیں۔ایک وہ افسانے کی تخلیق میں گہرے غور و فکر سے کام لیتے ہیں وہ کسی سماجی موضوع کاانتخاب کرکے اسے شخصیت کی داخلی بھٹی میں پگھلادیتے ہیں اور پھر ضبط وتفکر کے ساتھ اسے افسانوی قلب میں ڈھالتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ وہ جذبات نگاری سے پرہیز کرکے ایک معروضی انداز ِنظر کو روارکھتے ہیں۔بیدی کے افسانوں میں گرہن، گھر میں بازار میں، لاجونتی ، اپنے دکھ مجھے دے دو،لمبی سڑک،چیچک کے داغ، رحمن کے جوتے ،تلادان ،حجام آلہٰ آباد وغیرہ ایسے مشہور افسانے ہیں جن میں موصوف نے شعوری یا غیر شعوری طور پر مارکسی نظریات کو پیش کیا ہے۔پروفیسر آل احمد سرور ان کے افسانوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ بیدی نے جب کہانیاں لکھنا شروع کیں تو پریم چند اور ترقی پسند تحریک کے اثر سے سماجی موضوعات بہت مقبول تھے۔یہ اور بات ہے کہ ان میں رومانیت ،جذباتیت اور خطابت تھی۔بیدی کی کہانیاں روحانی ہونے کے بجائے حقیقت پسند ،جذباتی ہونے کے بجائے ایک گہری سوچ کی آئینہ دار اور خطبانہ ہونے کے بجائے ایک لطیف طنز کی حامل تھیں۔‘‘
مرتبہ گوپی چند نا رنگ ’’ترقی پسند اردو افسانہ اور اہم افسانہ نگار ‘‘ مطبوعہ ۱۹۸۱؁۔ ص ۳۸۰
خواجہ احمد عباس بھی ترقی پسند افسانہ نگار ہیں۔ وہ مارکسی نظریات سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔انہوں نے زندگی ،معاشرے اورتہذیب کو مارکسی نقطہ نظر سے دیکھا ہے اور اسی نظرئیے کے مطابق اپنے موضوعات کو چنا ہے۔وہ گردوپیش کی زندگی کے ہرنئے واقعے پر افسانہ لکھ دیتے ہیں۔ان کے افسانوں میں اِن کے نظریات بے پناہ سامراج دشمنی اور اقتصادی مساوات اور ہندوستانی عوام میں آپسی بھائی چارہ حاوی رہتے ہیں۔وہ بنیادی طور پر صحافی ہیں ۔اس لیے ان کے اکثر افسانے فن سے زیادہ صحافت کا احساس دلاتے ہیں۔تاہم ان کے یہاں ایسے افسانے ملتے ہیں جو ان کے تاریخی اور سیاسی شعور کے غماز ہیں۔ان میں ایک لڑکی ،سردار جی ،انتقام،ایک پٹلی چاول،اجنتا،میں کون ہوں اور شکر اللہ خاص طور پر قابل ذکر کارنامے ہیں۔
عصمت چغتائی مشہور خاتون افسانہ نگار ہیں۔وہ عورت ہونے کے ناطے جنس لطیف کی جذباتی ،جنسی اور ذہنی الجھنوں سے قریبی واقفیت رکھتی ہیں۔اس کے علاوہ وہ عورتوں کی گھریلوزندگی کے مسائل پر نظر رکھتی ہیں۔عصمت نے اپنے افسانوں میں حقیقت نگاری کے تحت عورتوں کے گھریلو جذباتی اور جنسی مسائل اور الجھنوں کو پیش کیا ہے۔ان کے افسانوی مجموعے (کلیاں ،چوٹیں ،ایک بات ،چھوئی موئی، دوہاتھ ،بدن کی خوشبو، امربیل،تھوڑی سے پاگل،آدھی رات آدھا خواب اور دوزخی) ایسے کارنامے ہیں جس سے اردو فکشن کی دنیا میں ان کا نام رہتی دنیا تک زندہ جاوید رہے گا۔
احمد ندیم قاسمی ترقی پسندی کے دور میںایک اور اہم اور معروف نام ہیں۔انہوں نے پنجاب کی زندگی کے دلکش مرقعے پیش کئے۔ ان کی نظر سماجی حقائق پر رہی تاہم ان کی طبعیت میں خاصی جذباتیت ،شعریت اوررومانیت رچی بسی ہے۔احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں میں پسماندہ طبقے کو اس کی تمام تر کمزوریوں ،مجبوریوں ،محبتوں اور نفرتوں کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ان کی مفلسی اور بے حسی کی تصویریں پیش کی ہیں۔ساتھ ہی اس طبقے کی جدوجہد اور استحصال کرنے والی طاقتوں سے اس کے تصادم کی مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ اس احساس اور معاشی استحصال کو ظاہر کرنے والے اِن کے افسانے جلسہ، گنڈاسا،شیش محل، بھاڑا،اصول کی بات،وحشی اور آتش گل وغیرہ ہیں۔
ترقی پسند افسانہ نگاری کے ارتقائی سفر میں پریم چند کی روایت کا توسیع کرنے والوں میں حیات اللہ انصاری کا نام نمایاں ہے۔’’آخری کوشش‘‘ ان کا مشہور افسانہ ہے۔ جبکہ افسانہ ’’ ڈھائی سیر آٹا‘‘ کو ادبی حلقوں میں کافی سراہا گیا۔ اس افسانے کو اردو کا اولین مرکسیٹ افسانہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے افسانے زندگی کی بنیادی سچائیوں کو ایک منفرد زاویہ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ وہ افسانوں میں افسانویت کے عنصر کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں د لکش بناتے ہیں۔ڈاکٹر صادق ان کی ترقی پسند افسانہ نگاری کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ حیات اللہ انصاری کے افسانوں کا اولین مجموعہ ’’ انوکھی مصیبت‘‘ (۱۹۳۹؁ء )میں شائع ہوا۔اس وقت تک وہ ایک اہم ترقی پسند افسانہ نگار کی حیثیت سے اردو دنیا میں کافی شہرت حاصل کر چکے تھے ۔اس مجموعے میں شامل ان کے تمام ا فسانے اسی بے لاگ حقیقت نگاری کے بہترین نمونہ ہیں۔جس کے فروغ کے لیے ترقی پسند تحریک کوشاں تھی ،کمزور پودا،ڈھائی سیر آٹا اور بھرے بازار میں جیسے افسانوں میں حقیقت جس رنگ اور انداز میں جلوہ گر ہوتی ہے وہ حیات اللہ انصاری کا منفرد رنگ و انداز ہے جس پر کسی ملکی یا غیر ملکی افسانہ نگار کی حجاب نظر نہیں آتی ۔‘‘
ڈاکٹر محمد صادق ،’’ترقی پسند تحریک اور اردو افسانہ‘‘ِ۱۹۸۱؁ء ص۱۴۹
سعادت حسن منٹو اس دور کے اہم اور معتبر افسانہ نگار ہیں۔وہ ترقی پسند وں کی منظوری کی پرواہ کئے بغیر افسانوں میں ترقی پسند تصورات کو پیش کرتے رہے۔ منٹو کی شخصیت انسان دوستی کے جذبے سے بھری ہوئی ہے۔انہوں نے بعض موضوعات پر خاص توجہ مرکوز کی۔ان میں عورت ،جنس ،فسادات ،طوائف ،اجنبیت اور افلاس خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
خواتین افسانہ نگاروں میںاس دور میں ہاجرہ مسرور ،خدیجہ مستور،شکیلہ اختر ،رضیہ سجاد ظہیر، صالحہ عابدحسین، سرلادیوی،صدیقہ بیگم،جیلانی بانو اور قرۃ العین حیدرکے نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ ان افسانہ نگاروں میں قرۃالعین حیدرکا اسلوب سب سے جدا گانہ ہے۔ وہ فن کا حقیقت پسندانہ نقطہ رکھتی ہیں۔ساتھ ہی وہ تاریخ اور سماجیت کا گہرا مطالعہ رکھتی ہیں۔لیکن ان چیزوں سے زیادہ اہمیت ان کے تخلیقی ذہن کی ہے ۔وہ سب عناصر کو اپنی تخلیقی توانائی سے ہم آمیز کرکے اہم افسانوںکو خلق کرتی ہیں۔
تقسیم ملک کے بعد کئی ترقی پسند افسانہ نگار سامنے آئے ۔انہوںنے انسانیت کش ، فسادات ،ہجرت ،بے وطنی ،ذہنی کرب افسانے لکھے۔ ان میںشوکت صدیقی ،ابو الفضل صدیقی،پریم ناتھ در،دیو ندراسر،انور عظیم،کشمیری لال ذاکر،غیاث احمد گدی،ستیش بترہ،کلام حیدری پرکاش پنڈت،ابن الحسن ،مسیح الحسن رضوی، جوگندل پال،رام لال ،اقبال مجید،رتن سنگھ ،بلراج منیر ا،عابد سہیل اور انور سجاد خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان افسانہ نگاروں نے فن کے تقاضوں کو سمجھا ہے۔ وہ سماجی حقیقت نگاری کے مائل ضرور ہیں۔لیکن افسانے کی تخلیقی حیثیت کو نظر انداز نہیں کرتے ۔وہ موضوع اور ہیئت کے امتزاج کو پیش نظر رکھتے ہیں۔
بحیثیت مجموعی ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ۱۹۳۶؁ء سے ۱۹۶۰؁ء تک کے دور میں اردو افسانہ موضوع اور تکنیک کی سطح پر ایک انقلابی تبدیلیوں سے روشناس ہوا اور ایسے تجربات کیے گئے جس نے اسے اعتبار اور وقار بخشا۔ترقی پسند تحریک سے وابستہ افسانہ نگاروں نے بے باکی اور صاف گوئی کو اپنا نصب العین قرار دیا ۔حق اور انصاف کی حمایت کی ۔اس کا لازمی نتیجا یہ ہوا کہ ترقی پسند افسانہ اپنے عہد کی سماجی ،سیاسی اور تہذیبی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گیا ۔اس دور کے تقریباًسبھی افسانہ نگاروں نے اپنی حقیقت نگاری کے زیر اثر افسانوں میں ہندوستان کی مشترقہ تہذیب و ثقافت کے بہترین عناصر اور اقدار کے تقریباًتمام پہلو سمٹ کو جلوہ گر ہوئے ۔غرض ترقی پسند افسانہ نگاروں نے جہاں ایک طرف اپنی حقیقت نگاری کے زیر اثر ہم عصر ادبی اور سیاسی مسائل کی حقیقی اور فن کارانہ پیش کش سے اپنے عہد کے تقاضوں اور اپنے منصبی فرائض کو ادا کیا ہے وہیںانھوں نے اپنی کہانیوں میں ہم عصر سماجی زندگی کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کر کے مشترکہ تہذیب و ثقافت کی تاریخ بھی قلم بند کی ہے۔ اس لیے اردو افسانے کی تاریخ میں یہ دور کافی اہمیت کا حامل ہے۔
۱۹۶۰؁ء کے بعد ترقی پسند افسانہ نگاری کی اہمیت گٹھنے لگی ۔پھر جدیدیت کے تحت علامتی افسانے کا رحجان سامنے آیا ۔ جبکہ اب موجودہ دور میں مابعد جدیدیت کے زیر اثر ایسے تجریدی اور علامتی افسانے لکھے جارہے ہیں جو مابعد جدیدیت کے تقاضوں ،نوعیت اور اغراض ومقاصد کو مدِنظر رکھتے ہیں۔

Name: Dr. Mohd Iqbal Khan
Address: Challpora ,Wadipora Tehsil ( Handwara) District ( Kupwara)
Jammu and kashmir,india .Pin Code 193221
Ph. No: +917006615906
Email: iqbalrasool434@gmail.com

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here