طرحی غزل۔۔۔آج بھی جوش جوانی کا بھرا ہے مجھ میں

0
522
طرحی غزل۔۔۔آج بھی جوش جوانی کا بھرا ہے مجھ میں
طرحی غزل .
آگ ہے پانی ہے مٹی ہے ہوا ہے مجھ میں۔
آج بھی جوش جوانی کا بھرا ہے مجھ میں ۔
کسی سنت پہ عمل کرنا ہے مقصد میرا۔
شوق یوں شادیوں کا پیدا ہوا ہے مجھ میں۔
جھریاں آج بھی چہرے پہ نہیں ہیں میرے ۔
نوجوانوں کی سی اے یار ضیا ہے مجھ میں ۔
ہر گھڑی ڈھونڈتا رہتا پوں حسیں چہروں کو ۔
ہر گھڑی پیار کا طوفان بپا ہے مجھ میں۔
اس بدلتی ہوئی  دنیا میں نہ بدلا میں ہی۔
  ایک عاشق ہے جو بچپن سے چھپا ہے مجھ میں ۔
یوں تو ڈرنے کو کسی سے بھی نہیں ڈرتا میں
یا تو بیوی کا ہے یا خوف خدا ہے مجھ میں ۔
کہتا ہوں اپنی نواسی کو میں 89 (ایٹ ٹی ناین)
پیار اس ننھی سی بلبل کا بسا ہے مجھ میں ۔
شاعری ہی سے نہیں ہے مجھے نسبت اے رضی۔
ٹپیکل کام بھی کرنے کی ادا ہے مجھ میں
ڈاکٹر رضی امروہوی
ghazal by razi amrohvi
sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here