تبلیغی جماعت پر اب تک کا بہترین مضمون ۔تبلیغی جماعت پر الزامات صرف بہانہ اسلام اصل نشانہ

0
242
تبلیغی جماعت پر اب تک کا بہترین مضمون ۔تبلیغی جماعت پر الزامات صرف بہانہ اسلام اصل نشانہ
تبلیغی جماعت پر اب تک کا بہترین مضمون ۔تبلیغی جماعت پر الزامات صرف بہانہ اسلام اصل نشانہ

 

رضوان سُلطان۔بارہمولہ کشمیر
پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس نامی وبائی بیماری سے جنگ لڑ رہی ہے ۔ اور اب تک اس بیماری کی زد ہر مذہب ،ہر رنگ و نسل ،ذات پات اور لگ بھگ ہر ملک کے میں 10 لاکھ کے قریب افراد آئے ہیں اور50 ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ انڈیا میںبھی یہ مرض پھیل چکا ہے اور یہاں دوہزار سے زائدافراد میں کورونا وائرس میں مثبت پائے گئے جبکہ ستر کے قریب ہلاک بھی ہوئے ہیں ۔لیکن انڈیامیں کرونا وائرس کے پہنچتے ہی اس لا مذہب وائرس کو مذہب کا لباس بھی پہنا دیا گیا ہے ۔ہندوستان جو کہ پہلے ہی کمیونل وائرس کی لپیٹ میں جکڑ چکا ہے اس نے اب اس وائرس کو بھی امید کے مطابق مذہب کا رنگ دینا شروع کر دیا ہے اور وہ مذہب زعفرانی رنگ میں رنگے ملک میں اسلام کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے ۔ بہر حال اس بار سنگھ پریوار اور ہندو شدت پسندوں کی جانب سے کرونا وائرس کے ذریعے تبلیغی جماعت نشانے پر آئی ہے۔
تبلیغی جماعت کا مختصر سا تعارف یہ ہے کہ یہ ایک غیر سیاسی دینی جماعت ہے جس کی بنیاد1927 میںمولانا محمد الیاسؒ نے ہریانہ کے میوات علاقے میں ڈالی ۔جس کا مقصد مسلمانوں کو اسلام کے بنیادی ارکان پر عمل کرنے کی تربیت دینا ۔کیوں اس دور میں بھارت میں ہندو مہا سبھا اور دیگر ہندو جماعتیں مسلمانوں کو ہندو بنا رہی تھیں اور اسے انہوں نے ’گھر واپسی ‘ کا نام دیا تھا اور ان کے جھانسے میں وہ کم علم مسلمان جلدی آتے تھے جنہیں اسلام کا علم بہت کم تھا ۔پھر تبلیغی جماعت (جیسے پہلے کچھ سالوں میں الیاس ؒ نے ’تحریک ایمان‘ کا نام دیا تھا ) کے افراد گھر گھر جا کر مسجدوں میں لوگوں کو بلا کر انہیں دین سکھاتے تھے اور اس کی باضابطہ تربیت بھی دی جانے لگی ۔’ پیو ریسرچ سینٹر‘ کے مطابق اس جماعت کے 150 سے زائد ممالک میں 80 ملین ممبران یا پیروکار ہیں (2010)۔
اب بات کرتے ہیں اس اجتماع کی جس کو لے کر تبلیغی جماعت کو کرونا وائرس پھیلانے کے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں ۔تبلیغی جماعت کا بین الاقوامی مرکز جو دلی کے بنگلے والی مسجد ،نظام الدین مرکز کے نام سے مشہور ہے ۔یہاں 13مارچ سے تین یا پانچ روز کے لئے(یہ واضح نہیں ہو پایا) ایک اجتما ع منعقد ہوا۔ جس میں انڈیا کی لگ بھگ ہر ریاست سے تین ہزار کے قریب اور12بیرون ممالک۔۔جن میں بنگلہ دیش،سریلنکاافغانستان،ملائیشیا،سعودی عرب، انگلینڈ اور انڈونیشیا کے علاوہ دیگر ممالک کے200کے قریب افراد بھی شریک تھے ۔ اور اس بیچ میڈیا میں یہ خبر آئی کہ تلنگانہ کے چھ افراد جنہوں نے اجتماع میں شرکت کی وہ کرونا وائرس سے ہی ہلاک ہوئے۔ اور اس اجتما ع میں شامل ہونے والے کئی افراد میں کرونا وائرس کی علامات پائی گئی ۔ جس کے بعد مشتبہ افراد کو 29 اور 30 مارچ کی درمیانی رات کو دلی سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ جبکہ اسکے بعد چوبیس افراد میں کرونا وائرس نامی وبائی بیماری کا ٹیسٹ مثبت پایا گیا ،ایک ہزار کے قریب افراد کو قرنطینہ یا ہسپتال منتقل کیا گیا ۔
یہاں تک ہی اگر اس خبر کو رہنے دیا جائے تو ہر کوئی ذی شعور انسان یہی کہے گا کہ تبلیغی جماعت ہی ذمہ دار اور انکی ہی وجہ سے دیگر ریاستوں میں وائر س پھیلا ہے ۔ اور ہوا بھی یہی انڈیا کی کئی ہندی اور انگریزی ’گودی میڈیا ‘نیوز چینلز جنہوں نے جانبداری راستہ مسلمانوں کے خلاف اپنایا ہے اور اس بار بھی جب مزدور اپنے اپنے گھروںکو واپس جانے کیلئے در در ٹھوکریں کھا رہے تھے اور درجنوں راستے میں ہی دم توڑ گئے اور حکومت پوری طرح ناکام دیکھائی دے رہی تھی جبکہ ’گودی میڈیا‘ میڈیا بھی مودی سرکار کا دفاع نہیں کر پا رہی تھی تو ایسے میں تبلیغی جماعت کا اجتماع ان کے لئے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کا چارہ ثابت ہوا ۔ اس میڈیا کی جانب سے نظام الدین کو کرونا وائرس کا مرکز قرار دیا گیا ، تبلیغی جماعت پر ملک میں اس بیماری کو پھیلانے کا الزام دھر لیا گیا ۔اس جماعت پر اس گودی میڈیا کی جانب سے پابندی کی مانگیں کی جانے لگی ۔اس میڈیا نے تو مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے قصور وار کی طرح پیش کیا ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ مسلمان’ میڈیا ٹرائل ‘کے زریعے انڈیا میں پہلے مجرم ہوتے ہیں جب تک نہ وہ اپنے آپ کو بے قصور ثابت نہ کرپائے اور غیر مسلم معصوم ہوتے ہیں جب تک کہ ان پر جرم ثابت نہ ہو ۔ان چینلزپر خبریں اس طرح چلائی جا رہی ہیںکہ، کرونا جہاد سے دیش بچائو ،دھرم کے نام پر جان لیوا آدھرم ، نظام الدین کے ولن کون ؟ وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن اسی میڈیا نے وہ بیان بھی لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا جو مرکز نے اپنے دفاع میں جاری کیا ۔تبلیغی جماعت کی جانب سے ان الزمات کی تردید کرتے ہوئے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نظام الدین مرکز قریب سو سالوں سے تبلیغی جماعت کا ہیڈ کوارٹر ہے اور طے شدہ پروگراموں کے مطابق اقوام عالم سے مہمان ، عقیدت مند3 سے 5 روز تک شرکت کرتے ہیں ، جبکہ اس سلسلے میں تمام پروگراموں کو حتمی شکل ایک سال قبل ہی دی جاتی ہے ۔وزیر اعظم کے22مارچ کو ’جنتا کرفیو‘ کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی پروگرام منسوخ کیا گیا تاہم21 مارچ کو اچانک اور غیر متوقع طور پر بھارت میں ریل سروس منقطع ہونے سے ایک بڑا گروہ مرکز میں ہی درماندہ ہوا ‘۔ جماعت کی جانب سے مزید وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ 22مارچ کو جنتا کرفیو کے پیش نظر مرکز میںآنے والے لوگوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ 22مارچ شام9 بجے تک مرکز چھوڑ کر نہ جائے ، جس کے نتیجے میں ریل کے بغیر رسل وسائل سے اپنے مقامات کی طرف لوٹنے والے مہمان گھر نہ پہنچ سکے۔بیان کے مطابق اسکے اگلے روز ہی یعنی 23مارچ کو دلی کے وزیر اعلی نے صبح6 بچے سے31 مارچ تک دہلی میں لاک ڈائون کا اعلان کیا ۔ جس کی وجہ سے مہمانوں کو وہیں رہنا پڑا۔تاہم منتظمین کی جانب سے23مارچ کو 1500 کے قریب مہمانوں کے لئے کسی طرح سے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کر کے انہیں اپنے گھروں کو واپس بھیجا گیا ۔ جبکہ اسکے اگلے روز ہی قریب میں واقع حضرت نظام الدین پولیس تھانے سے مرکز کو احاطہ بند کرنے کا نوٹس ملا، جس پر اسی روز عمل بھی کیا گیا ۔ اسی طرح سے مرکز کی جانب سے متعلقہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ کو ایک خط کے ذ ریعے درخواست کی گئی کہ1500 کے قریب مہمان مرکز چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور یہاں بچے ہوئےمہمانوں کو واپس جانے کے اجازت نامے فراہم کئے جائیں ۔اس سلسلے میں مرکز کی جانب سے ایس ڈی ایم کو 17 گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرات وغیرہ بھی بھیجے گئے تھے تاکہ ان درماندہ لوگوں کو انکے گھروں تک پہنچایا جائے ۔تاہم مرکز کو اس کی اجازت ہی نہیں ملی ۔اسکے بعد 26تاریخ کو ایس ڈی ایم نے مرکز کا دورہ کیا اورمیٹنگ کے لئے بھی مرکز کو طلب کیا اور مرکز نے یہ مانگ وہاں بھی دوہرائی ۔28 مارچ کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ٹیم نے مرکز کا دورہ کیا اور33 افراد کو طبی جانچ کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا ۔اسکے بعد اسی روز بیان کے مطابق مرکز کو حیران کن طور پر اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کی طرف سے ایک نوٹس ملتا ہے ، جس میں امتناعی احکامات کی خلاف ورزی اور قانونی چارہ جوئی کیلئے مطلع کیا جاتا ہے‘۔اور اسکے بعد30 مارچ سے’ گودی میڈیا‘ پر ڈرامہ شروع ہوتاہے کہ مرکز میں کرونا وائرس سے متاثر افراد چھپے بیٹھے ہیں ۔اور دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال مرکز کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہیں ۔لیکن کیجریوال کے ہاتھ میں تب کچھ نہیں تھا جب بھاجپا کے کپل مشرا نے تشدد بھڑکانے والا بیان دیا تھا ۔
اب یکم اپریل کو ہی 2300سے زائد افراد کو مرکز سے نکالا گیا جن میں سے617 کو ہسپتال اور باقی کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے ۔ مزید پولیس نے امیر جماعت مولاناسعد اور دیگر ذمہ داران کے خلاف وبائی مرض قانون 1897 اور آئی پی سی کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کئے ہیں ۔لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا تب دلی انتظامیہ کو پھنسے ہوئے افراد کو مرکز سے نہیں نکالنا چاہیے تھا جب انہوں نے مدد کی درخواست کی تھی ۔اور کیا تب بھی جماعت کے خلاف کیس درج کرنے کا جوازبنتا ہے جبکہ وہ انتظامیہ کیساتھ 25مارچ سے ہی رابطے میں تھی ۔میڈیا یہ الزام لگا رہا ہے کہ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے تبلیغی جماعت کے افراد نے اپنے ساتھ اس بیماری کو لایا تو پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا صرف تبلیغی جماعت کے 200 افراد ہی انڈیا میں داخل ہوئے اور کوئی نہیں آیا ۔ اور بھارت نے تو 22 مارچ کو بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ۔کیا یہ اس سے پہلے نہیں ہونی چاہیے تھی؟۔مزید جماعت پر امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے تو کیا مارچ میںصرف جماعت ہی کے لوگ ایک جگہ اکھٹا ہوئے اور ملک میں کوئی بھی اجتماع یا اس طرح کی بھیڑ اکھٹا نہیں ہوئی اور کیا باقی تمام مندر بند تھے۔جی ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔

لکھنومیں جہاں دفعہ 144نافذ ہوتا ہے اور 15 مارچ کو گلوکارہ کانیکا کپور لندن سے واپس آتی ہیں اور وہاں ایک ڈنرپارٹی میں شامل ہوتی ہیں اور پارٹی میں اترپردیش کے وزیر صحت ،بھاجپا لیڈر وسندرا راجے اور ان کے بیٹے دُشینت سنگھ بھی شامل ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کے خلاف امتناعی احکامات کی خلاف ورزی میں کتنے کیس درج کئے گئے ہیں ۔جب دلی سرکار نے بھیڑ یا زیادہ لوگوں کے ایک ساتھ جمع نہ ہونے کی صلاح دی تھی تب ہی8 مارچ کو یوم خواتین کے روز دلی میں صدارتی محل میں ایوارڈ تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں لوگوں کی خاصی بھیڑ جمع تھی اور صدر ہند رام ناتھ کووند خود بھی شامل تھے ۔اسی روز کیرالہ کے پونگلہ نامی شہر میں ایک روز نہیں بلکہ دس روزہ’ مند ر تہوار‘ شروع ہوا اور اسکے لئے حکومت نے بھی منظوری دی تھی ۔لیکن جب حکومت سے اسکے متعلق پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ اس تہوار کو نہیں روکا جا سکتا کیوں کہ اس کی تیاری کچھ ماہ سے ہو رہی تھی ۔ تو پھر جماعت نے کون سا گناہ کر دیا وہ تو اپنا پروگرام ایک سال قبل ہی ترتیب دیتے ہیں ۔۱ور9 مارچ تک کیرالہ میں کرونا وائرس کے43 مثبت کیس آئے تھے۔ کیا ان کا تعلق بھی جماعت کے اجتماع سے تھا ؟۔
24مارچ کے روز جس دن اکیس روز کے لاک ڈاون کا اعلان ہو چکا تھا اسی روز یو پی کے وزیر اعلی یوگی آدیتیا ناتھ کرفیو کو توڑ کر رام نومی اجتماع میں شامل ہوئے جہاں درجنوں لوگ بھی شریک تھے ۔ 15 مارچ کو ایک طرف جہاں کرناٹکہ کی سرکارسوسے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کرتی ہے تو وہیں ریاست کے وزیر اعلی بی ایس یدورپا بھاجپا کے ایم ایل سی کی شادی میں شامل ہوتے ہیں اور وہاں300 سے زائد افراد بھی شریک ہوئے ۔جموں کشمیر انتظامیہ 18 مارچ کو ماتا وشنو دیوی یاترا پر پابندی عائد کرتی ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی لگتی ہے ۔لیکن 20 مارچ کو 400سے زائد یاتری جموں پہنچتے ہیں اور انہیں گودی میڈیا ’پھنسے ہوئے یاتری ‘ کہتا ہے ۔
اتنا ہی نہیں لاک ڈاون اعلان کے بعد گھروں کو واپس پیدل جانے کے دوران24 مزدور جن میں بچے بھی شامل ہیں ہلاک ہوئے اور آنند وہار میں ان مزدور لوگوں کا ہجوم جمع ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے اور کیا کیس کسی کے خلاف درج کیا جائے گا؟ ۔اور اگر ان مزدوروں کے ٹسٹ کروائے جائیں تو کیا ان میں مثبت نہیں ہونگے ۔ بھارت نے اب تک صرف پچاس ہزار کے قریب ہی ٹسٹ کئے ہیں جن میں سے دوہزار مثبت ہیں اور ان میں سے صرف تیس ہی تبلیغی اجتماع کے افراد ہیں ۔

اس دوہرے میعار کو سمجھنے کے لئے دماغ پر زیادہ ضرورت لگانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ایک نیوز ایجنسی نے تو تبلیغی جماعت کے دہشت گردی کے ساتھ لنک جوڑ لئے ہیں اور اس سے کسی مسلمان کو حیرانی بھی نہیں ہونی چاہیے ۔اور اگلے کچھ ماہ میں خدا نہ خواستہ اگر تبلیغی جماعت پر کسی قسم کی پابندی بھی عائد کی جاتی ہے تو اس پر بھی حیرت کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ ان کا ہدف اصل اسلام اور اسلام کی بات کرنے والا ہے۔ ہمارے سامنے ڈاکٹر زاکر نائک اور کشمیر میں جماعت اسلامی کی مثال موجود ہے۔لیکن مسلمانوں کی حالت ان چار الگ الگ رنگوں کے بیلوں کی ہوئی ہے ۔اورایک بات اس سے صاف ظاہر ہوتی ہے آپ چاہے مسئلہ کشمیر کی بات کرنے والے ہوں یا نہ ہوں ،سیاست کو دین سے الگ کرنے والے ہوں یا نہ ہوں ،زیر زمین اور زمین کے اوپر ہی بات کرنے والے ہوں یا اس کے برعکس ہوں لیکن پھر بھی آپ نہیں بچ پائیں گے ۔ہمیں اپنے اوپر انگلی اٹھانے کا موقع نہ دینا اور متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے ۔
ختم شدہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here