سرسیّداحمد خاں کی علمی و ادبی خدمات

0
811
سرسیّداحمد خاں کی علمی و ادبی خدمات
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام آتے ہی جدید تعلیم کے محرک او ر جدید اردو نثرکے بانی سر سیّداحمد خاں کی شخصیت ہمارے سامنے مشخّص ہوجاتی ہے انہوں نے ہندستانیوں کے طرزِاحساس اور طرزِ تحریردونوں کو بدلا،عقلیت کی بنیادیں مضبوط کیںسائنسی،منطقی اور معروضی طرزِفکر کوفروغ دیا ،انہوں نے قلم کاروںکی ایک بڑی جماعت کو متاثر کیا سرسیّد احمد کا شمارہندوستان کے عظیم رفارمرس میںہوتاہے !!مسلم یونیورسٹی دنیا کا وہ واحد تعلیمی ادارہ ہے جو ایک تناور درخت کی طرح تنا کھڑاہے

 

 

صبیحہ سنبل

علی گڑھ

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام آتے ہی جدید تعلیم کے محرک او ر جدید اردو نثرکے بانی سر سیّداحمد خاں کی شخصیت ہمارے سامنے مشخّص ہوجاتی ہے انہوں نے ہندستانیوں کے طرزِاحساس اور طرزِ تحریردونوں کو بدلا،عقلیت کی بنیادیں مضبوط کیںسائنسی،منطقی اور معروضی طرزِفکر کوفروغ دیا ،انہوں نے قلم کاروںکی ایک بڑی جماعت کو متاثر کیا سرسیّد احمد کا شمارہندوستان کے عظیم رفارمرس میںہوتاہے !!مسلم یونیورسٹی دنیا کا وہ واحد تعلیمی ادارہ ہے جو ایک تناور درخت کی طرح تنا کھڑاہے جڑیں گہرائی تک زمین کو پکڑے ہوئے ہیںاور شاخیں تمام دنیا میں پھیلتی جارہی ہیںاور ملک وملت کی تعمیرو ترقی اور ذہن سازی میں معاون ہیںانہیں اکھاڑنے کی بارہا کوششیں جاری رہتی ہیں لیکن بے سود۔ سیداحمد بن متقی خاں ۱۸۱۷؁میں دہلی کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے ان کے والدسیّد متقی محمّد شہنشاہ اکبر ثانی کے مشیر تھے اور دادا بھی اونچے منصب پر فا ئز تھے ا ٓپ کی والدہ باہمّت اور حوصلہ مند خاتون تھیںسرسید کی تعلیم وتربیت میں انکا بڑا ہاتھ رہاانہوں نے سیدّ کو ایمانداری اورسچاّئی کا سبق دیا ! سرسیّد کے گھرانے کے تعلقات مغل دربار کے ساتھ مضبوط رہے اس کے بر عکس انکا جھکائو انگریزوں کی طرف رہا۔قرآن اور سائنس کی تعلیم دربار ہی میں حاصل کی اس کے بعد یونیورسٹی آف ایڈنبرانے انہیں قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد۱۸۳۸ ؁ ؁ میںایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی اور جج مقرر ہوئے انکی ایمانداری اور سچاّئی سے متا ثر ہوکر انکو انعام و اکرام سے نوازہ گیاترقی کرکے جج کے عہدے پر فائض ہوئے۱۸۵۷؁ کی جنگِ آزادی کے دوران وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے وفادارر ہے اور یورپیوں کی جانیں بچائیں یہ ان پر سرسیّد کا بڑا احسان تھا جس کو سراہا گیا اس جنگ کے بعد سرسیّدنے اپنی تصنیف اسبابِ بغاوتِ ہند کے ذریعہ ہند کی رعایا خاص کر مسلمانوں کو بغاوت کے الزام سے بری کرایا انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کی یہ شورش انگریزوںکی غلط پا لیسیوں کی وجہ سے رو نما ہوئی ہے ، اس رسالہ کا فائدہ برطانوی حکومت کو ہوا بر طانیہ نے اس کی بنیاد پر ایسٹ انڈیا کمپنی سے برِ ِصغیر کا تمام قبضہ لے لیا اور ہندوستان کے تمام معاملات ان کے قبضہ میں آگئے! ۱۸۸۸؁ میںسرسیّد کو ان کی حسنِ خدمات کی وجہ سے بر طانوی حکومت نے ، سر، کے خطاب سے بھی نوازہ سرسیدّکے بارے میں مشہور ہے کہ و ہ صرف ایک اچھیّ
مسلمان، ایک اچھیّ ایڈ منسٹریٹر اور پروگریسیوانسان تھے۔دراصل وہ قوم کے معالج تھے جنہوں نے قوم کا بروقت علاج کیا اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک پل تعمیر کر دیا ، قوم کے بیمار ذہنوں کا علاج تعلیم قرار دیا ۔ وہ اس بات سے بہ خوبی واقف تھے کہ کسی کی فکر اور سماجی حالات کو صرف اور صرف تعلیم ہی بدل سکتی ہے اور انہوں نے ثابت بھی کر دیا وہ مصلح قوم تھے جنہوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں روشنی دکھائی ۱۸۷۵؁ میں انہوں نے علی گڑھ میں مدرستہ العلوم اور پھر محمڈن آرینٹل کالج قایم کیااس کے پیچھے بھی وہی قوم کی ذہن سازی کا مقصد پو شیدہ تھا،اس کے قایم کرنے میںبڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاچندہ کی شکل میں پھٹے پرانے جوتے بھی ملے جن کو کباڑ میں فروخت کرکے انہوں نے اس کی رسید چندہ دینے والوں کو پہونچائی یہ ایک ایسا مصلح قوم ہی کر سکتا تھاجس کے سینے میں قوم کا دردموجود ہو۔ سب سے پہلی مخالفت تو مسلمانوں کی جانب سے ہی ہوئی انہوں نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندو ،سکھ ،عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے لئے تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھیّ در بدر ٹھوکریں کھائیں گالیاں کھائیں مگر ہمتّ نہیں ہاری اور کامیابی حاصل کی اورایسا ادارہ قائم کر دیا جس کا نام اینگلو اورینٹل کالج رکھاّگیاجو پہلے منٹو سرکل اسکول کی شکل میں شروع ہوا بعد میں بڑھتے بڑھتے ۱۹۲۰؁میں ایک سینٹر یونیورسٹی کی شکل اختیار کر گیا ۔مدرسہ کو قایم کرنے میںشدید مشکلات سامنے تھیں، گلیوں گلیوں دروازے دروازے چندہ اکھٹا ّکرناضرورت کے ساتھ ساتھ بہ مقصد بھی تھاوہ چاہتے تھے کہ ہر طبقہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھے اور وابستگی رکھّے آج اسکا نتیجہ مسلم یونیورسٹی ہمارے سامنے ہے جس کے ایروما سے سارا جہاں مستفید ہے ۔جب سر سیدّ ۱۸۶۶؁ میںانگلستان کے سفر پر تھے انگلینڈ میں انہوں نے وہاں کی کتابوں کا خاصہ مطالعہ کیااس کا اثر یہ ہوا واپسی پر ۱۸۷۰؁ میں اکسفورڈ جیسی یونیورسٹی بنانے کی پلاننگ کرلی اوراس وقت سب سے پہلے آپ نے رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا اسی کے ذریعہ ا نہوںنے قوم کی ذہن سازی کی انکو مغربی تعلیم سے روشناس کرایا انہوںنے تہذیب الاخلاق میں ایک مضمون،گزرا ہوا زمانہ ، لکھا اسمیں نو جوانوں کو قومی کاموں پر آمادہ کیا گیا۔عمرِ رفتہ، بحث و تکرار، امّید کی خوشی انکے وہ نمائندہ مضامین ہیںجس کے ذریعہ قوم کی ذہن سازی ہوتی ہے سر سیّد نے نوجوانوں کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی سرسیّد تعلیمِ نسواں کے مخالف تھے ان کا ماننا تھا کہ مردوںکو تعلیم دینے سے عورتیں خود بہ خود تعلیم یافتہ ہو جائیں گی !!مرادآباد سے شائع ہونے والالوحِ محفوظ ، کانپور سے شائع ہونے والانور الآفاق اور آگرہ سے شا ئع ہونے والاتیرویں صدی میں سر سیّد کے خلاف مضامین شائع ہوئے مگر انہیں اپنی قوم پر بھروسہ تھا وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے ۔سرسید کی طرزِتحریر اور خاص کر تہذیب لاخلاق پر کافی ا نگلیاںاٹھیں اعتراضات ہوئے اتنی مخالفت ہوئی مخالفت تمام ہوئی ۔اب اردو ادب اور صحافت دونوں ایک دوسرے سے مشترک ہوگئے تھے اور یہ سر سیدّ احمد خاںکی بہ طور ایک ادیب اور ایک صحافی بہت بڑی کامیابی تھی، تہذیب الا خلاق میں کبھی کبھی انگریزی میں بھی مضامین شائع ہوتے اس کا اداریہ سرسید خود لکھتے یہ رسالہ دوبار بند ہوکر پھر شائع ہوا اور آج علی گڑھ میں پھر سے جاری ہے! احمد خاں، منشی حسین، حافظ محمّد عبد الرزاق اور حافظ عبد الرحمان حیرت وغیرہ مضمون نگار تھے۔اس پرچے کی یہ خصو صیت رہی کہ خیالات کو من وعن بیان کیا جاتا اور ایک سچّے صحافی کی یہی تو خو بی ہوتی ہے، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سرسیدّ نے ایک سچّے صحافی کا کردار بھی ادا کیا، انجمنِ پنجاب لاہور نے تہذیب الاخلاق پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھامضمون و بیان کے معیار کی وجہ سے یہ قابلِ ستائش ہے یہ رسالہ ہر حیثیت سے صحت مندانہ خوبیاں رکھتا ہے ۔ تہذیب الا خلاق نے مسلمانوںکی زندگی کے ہر گوشہ کو متاثر کیا پڑھنا لکھنا اور سوچنا سکھایاایک عام ادیب کی طرح ذہنی سکون کے لئے اس میں کچھ نہیں لکھا گیا بلکہ ایک چابکدست اور بے باک صحافی کی طرح ذہن و فکر میں تبدیلیاں رو نما کر دیں! اردو صحافت کی تاریخ میںتہذیب الاخلاق کو خاص اہمیت حا صل ہے اس کے ذریعہ خالص مقصدی صحافت کا آغاز ہوا ،سر سیّد نے قوم کی اصلاح کے ساتھ صحافت کا اعلیٰ معیار بھی قایم کیا ۔آج قوم کو سرسیّد جیسے صحافی کی بھی ضرورت ہے جو صحافت کے ساتھ ہی قوم کی اصلاح کر سکے۔ یہ سر سیّد کی صحافت کا روشن باب ہے کہ انہوں نے صحافت کے قوانین کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی تہذیب الاخلاق کے مضامین پر جو بھی تبصرے کیئے جاتے وہ جوںکے توں شائع کئے جاتے سب ان کو پڑھ کر سیّد کی ہمتّ کی داد دیتے یہ بڑے حوصلے کی بات تھی کہ اپنے رسالے میں اپنے ہی خلاف مراسلے شائع ہوں،ایسے مضامین کی اشاعت نے بعدکے صحافیوں کے لئے بحث و مباحثہ کے مواقع فراہم کئے اور ادبی تحریکوںاورعام رجحانات کوبہت فائدہ پہونچایا انہوں نے صحافت کو نئی سمت دی اور ثابت کیا کہ سچّائی اور جائز اصولوںکو سامنے رکھ کر بھی صحافت کا پیشہ ا ختیار کیا جاسکتا ہے سر سیّد کی صحافت میں جہاں ادب کا گہرا شعور نظر آتا ہے وہیں مسلمانوں کی ترقی کا راز بھی پنہاں ہے سرسیّد کو اردو نثر نگاری کا بانی کہا جاتا ہے انہوںنے مغربی نثری صنف (اَیس سے) کی طرز پر مضمون نگاری کی وہ بیکن ، ڈرانڈن،ایڈیشن اور سیل جیسے مغربی نثر نگاروں سے متاثر تھے انہوں نے انگریزی انشائیہ نگاروں کے مضامین کو اردو میںمنتقل کیا انہوں نے تہذیب الا خلاق میں انشائیہ نگا روں کے اسلوب کوکافی حد تک اپنایا اور دوسروں کو بھی ترغیب دی،سرسیّد کی نثر سادہ ہوتی ہے گھما پھرا کر بات نہیں کرتے ان کی تحریروں میں آ مد ہے آورد نہیں بعض ناقدین کا خیال ہے کی ان کے یہاں بے ساختگی کی وجہ سے ادبی حسن کم ہو گیا ہے! سر سیّد ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے زندگی کے قائل تھے اور ادب کو مقصدیت کاذریعہ سمجھتے تھے!جامِ حجم سرسیّد کی پہلی تصنیف ہے جو۱۸۴۰؁ میں شائع ہوئی اس میں امیر تیمور سے بہادر شاہ تک کا تعا رف ہے سرسیّد نے مرادآباد میں فارسی مدرسہ قایم کیا یہیں ۱۸۶۴؁ ایک یتیم خانہ بھی قایم کیا غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی ا ور ایک مدرسہ قایم کیا جو آج کل وکٹوریہ ڈگری کالج کے نام سے جانا جاتا ہے سائنٹفک سوسائیٹی کا مقصد مغربی زبانوں میں لکھی ہوئی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنا تھا ، علی گڑھ میں تبادلہ کے بعد انگریزوں کی مدد سے بر ٹش انڈین ایسوسی ایشن قایم کی۱۸۶۶؁ میں علی گڑھ کے زمینداروں نے ان کی تحریک کو خوب سراہا اور مدد کا وعدہ کیااور ۱۸۸۴؁ میںایجوکیشن کانفرینس قایم کی ۔سرسیّد کو پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں میںایک موثر شخصیت تسلیم کیا گیا ہے ۔جب ہم سرسیّد کی ادبی کاوشوں کا جائیزہ لیتے ہیںتو محسوس ہوتا ہے کہ سر سیّد کی شخصیت مکمل دبستان تھی ۔انہوں نے اردوزبان کو پستی سے نکالاسر سیّد کے زمانے تک اردو کا سرمایہ قصہ کہانیوں اور داستانوں تک محدود تھا،مکاتیب اور سوا نح عمریوں کی شکل میں تھا!سرسیّد تک آتے آتے اردو نثرمیں کافی تبدیلیاں آچکی تھیں خصوصاً غالب کے خطوط نے نثر پرکافی اثر ڈالااور مقفع مسجع زبان کی جگہ سادگی اورمدعا نگاری نے لے لی اور اس سلسلے کو سرسیّد نے آگے بڑھایا ۔ سرسیّد نے اپنے زمانے کے مصنفوں ادیبوں کو نئے خیالات دئے ان کے رفقاء کے علاوہ دوسرے لوگ بھی آپ کی تحریروں سے متاثرہوئے اور ادب میںندرت وہمہ گیری پیدا ہوئی۔سرسیّد نے اکبر کے زمانے کی مشہور تصنیف آئین اکبری کی تصحیح کر کے دوبارہ شائع کیااس پر مرزاغالب نے اپنی فارسی تقریظ میں لکھا کہ،، مردہ پرستی اچھاّشغل نہیں،، حالانکہ آثار الصنادید کے آخر میںدوسری تقریظوں کے ساتھ مرزا غالب کی تقریظ نہیں ہے۔ان کی تصانیف میںآثار الصنادید،جو دہلی کی قدیم تاریخی عمارتوں کے حوالے سے ایک قیمتی دستاویز ہے،اسبابِ بغاوتِ ہنداس میں غدر کے احوال درج ہیں،خطباتِ احمدیہ ، عیسائی مصنف کا جواب ہے جس نے اسلام کی شبیہ مسخ کرنے کی کوشش کی تھی،تفسیرِ قرآن ان کی متنا زعہ کتاب ہے جسمیں انہوں نے معجزات سے انکار کیا اور عقلی تفسیر کی! سرسیّد کے افسانے اور مقالات بھی کتابی شکل میں موجود ہیں۔سرسیّد نے اپنی نثر میں سادگی کو اہم رکھاّ تصنع اور پر تکلف زبان سے گریز کیاانکے رفقا نے بھی اسی طرز کو اختیار کیااردو کی انشا پردازی کا م  جو خاص انداز ہے اس کا سہرا سرسیّد احمد خاں کے سر ہی جاتا ہےسرسیّد کے سائنس اور انگریزی پر زور دینے کی وجہ سے قوم کو آج عالمی شہرت حاصل ہو گئی سرسیّد کی تعلیمات اسلام کے خلاف نہیں تھیں ان کے مداحوں میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل تھے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here