شیراز دستی کا ناول “ساسا۔سحر انگیزاور محبت کا استعارہ

0
501
شیراز دستی کا ناول
شیراز دستی کا ناول "ساسا" اور سیمیں درانی
شیراز دستی کا ناول Seemeen Durrani's Photo'“ساسا” اور سیمیں درانی
میں ایک قدامت پسند قاری ہوں اور نئےمصنفین پر مشکل سے ہی اعتماد کرکے وقت دیتی ہوں کیونکہ پرانے موضوعات کو آج کی دہائی کے ساتھ لیکر چلنا ہر ایک کا خاصہ نہیں۔ لکھاری یا،تو خود پیچھے رہ جاتا،ہے یا قاری۔ دونوں کی فکری ہم آہنگی کے بغیر کتاب کے ساتھ انصاف نہیں ہو پاتا یہی وجہ ہے کہ بہت سی کتابوں کی ورق گردانی کے بعد انکو میں یا تو رد،کردیتی ہوں یا شرف قبولیت بخش کر مکمل توجہ سے پڑھنے کیلیے سنبھال لیتی ہوں۔
شیراز دستی کا “ساسا” ہاتھ میں آیا. چند صفحے پڑھے اور فیصلہ کیا،کہ اسکو وقت دینا وقت کا ضیاع ہرگز نہیں۔ کیونکہ ساسا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ اور قاری کو ساتھ لے چلتا ہے۔ مجھ جیسی عمومی قاریہ بھی اسکے سحر میں جکڑی گئی اور میں نے بہت عرصے بعد،کوئی کتاب چکھ چکھ کر پڑھی۔
ناول کا مرکزی کردار ایک Seeker. ہے۔ جو کہ محبت کی تلاش میں کتنی ہی محبتوں سے گزرتا ہے۔ انکا تجربہ کرتا،ہے اور رد اور رد عمل کے مسلسل سفر پہ رہتا ہے۔ اس تمام تر سفر کے دوران محبت خوبصورت الفاظ کے ساتھ اذہان پہ حاوی رہتی ہے۔ مشرق ہو یا مغرب یہ Seeker . کو تنہا نہیں چھوڑتی۔ مسلسل سانس،سانس،ساتھ چلتی ہے۔
ناول نگار ایک حسن پرست شخصیت اور قلم کے مالک جناب دستی صاحب نے جس طور قدرت کی صناعی کا نمونہ عورت اور قدرت، دونوں کی صورت میں پیش،کیا،ہے قابل داد ہے۔ بہت خوبصورتی سے امیجری کی اور الفاظ کی وہ پرکاری جو کہ پڑھت کو بوجھل نہ کرے بلکہ روانی قایم رہے ایک مشاک تجزیہ نگار ہی ایسے تجربات کو انہی سے متناسب الفاظ میں ڈھال سکتا ہے۔
ناول کے آغاز،سے محسوس،ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسی ٹرین میں سفر کر رہے ہیں جو محبت کی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ شروع میں آہستہ آہستہ،انسانوں،چرند پرند کو اپنی مختلف بوگیوں میں سوار کرواتی آہستہ آہستہ سفر شروع کرتی ہے اور پھر ایک متوازن آڑان بھرتی الفاظ کی قوس و قزح کی پٹڑی پہ چلنا شروع کر دیتی۔
مشرق و مغرب کا موازنہ نہایت ہموار ہے”۔ ساسا”۔ جو کہ محبت کا استعارہ ہے انسان کی محبت کے ہر رنگ سے آشنا کرواتا ہے۔ اس ٹرین کی ہر بوگی کی سواری ایک مختلف محبت کے تجربے کا،سامان لادے ٹرین پہ سوار ہوتی ہے۔ اسمیں کونج، گھوڑے بھی سوار ہیں تو توتا اور توتی بھی۔ ۔ جس براقی کے ساتھ انسان و حیوان کے جزبات کی منظر کشی کی گئی اور انکے جزبات کو پیرایہ دیا گیا۔ یہ میرا اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔مشرق کی پٹڑی سے مغرب کی پٹڑی۔ کمال مہارت سے بدلی گئی ہے اور تہزیب و تمدن کا موازنہ بھی ہے۔ اور ایک نوحہ بھی۔ انسانیت کا نوحہ۔ مشرق کا نوحہ اور تیسری دنیا کی بے بسی۔
بہت سے کردار قاری کو خود،سے قریب محسوس،ہوتے ہیں اور کچھ سے قاری،خود،ہی قربت میں مبتلا ہوجاتا ہے. اگر کوئی مبتلائے عشق ہو کر مبتلا نہیں ہوتا،تو وہ ہے اس کا مرکزی کردار سلیم. جو کہ اس،ٹرین کا ڈرائیور ہے اور،اسکے ذمے تمام کرداروں کو انکی منزل تک پہنچانا ہے۔
شیریں حلاوت گھولتے سادہ سے جملے زندگی کی تلخ حقائق سے آگاہی دیتے ہیں۔ محبت خواہ بچپن کی ہو یا جوانی کی ۔ ہم جنس پرست کی ہو،یا ایک کم ذات کی،چرند کی ہو یا پرند کی۔۔ محبت مکمل طور،پہ اس ٹرین کو ایندھن فراہم کرتے آگے بڑھتی ہے.
اسکے مرکزی کردار،کی کھوج جہاں سے شروع ہوتی ہے،وہ،اس،ٹرین کا پہلا سٹیشن ہے. ۔ کئی ایک مقامات پہ میں کتاب بند کرکے حسب عادت کتاب میں جا بسی جو کہ میرے نزدیک ایک بہترین کتاب کی خوبی ہے کہ قاری اسی میں سانس لینا شروع کردے۔ چند،ایک مقامات پہ شدت محبت کی سیٹی ایسی شدید اور پرکیف تھی کہ میں نے آنکھوں میں نمی محسوس کی. سوچ میں کھو گئی اور،ان کرداروں کی دھڑکنوں کو محسوس کرنا شروع کردیا. سلیم اس،دوران اپنے آپ میں گم ایک Seeker. کی حیثیت سے ان تمام حادثات سے آشنا ہوکر بھی آگے بڑھتا،رہا۔
میرے نزدیک اس ٹرین کے سب سے خوبصورت سٹیشن کا نام ہے۔
“”We Will Be Together In Paradise””
ہر کردار کی نفسیات کو،اسکے مطابق الفاظ میں ڈھالا گیا ہے۔ میرا مزہ تب دوبالا ہوا جب میری لغت میں ایک نئے لفظ. “دھاڑوے” کا اضافہ ہوا۔
میں جان بوجھ کر کرداروں پہ تفصیلی تبصرہ نہیں کر رہی۔ کیونکہ اس سے ناول پڑھنے کا مزا جاتا رہے گا۔ ہر قاری اپنی شخصیت کے حساب سے کردار چنتا ہے اور انکے ساتھ چلتا ہے۔ مگر سلیم آپکو تمام کرداروں کے ساتھ گھماتا،ملواتا ہے اور کئی بار آپ انسے اسقدر آشنا ہوجاتے ہیں کہ انہی سے باتیں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ میں اس ناول کے مختصر ترین مہمان کردار
“ساسی” کے ساتھ گویا ہوئی تھی۔
محبت کی سواریاں لادے یہ ٹرین جب اپنی منزل کو پہنچی تو تمام کردار بھی نہایت سلیقے کے ساتھ اپنی اپنی لگن کا حصول اسی لگن کے تہیں کرکے منزلوں کو سدھارے
لیکن
ناول کا اختتام میرے نقطہ نظر کے مطابق قابل بحث بھی ہے اور ایک Seeker کیلیے باعث راحت تو ہرگز نہیں۔ کیونکہ
Satisfaction is not the Ultimate Goal of Seeker.
وہ تمام دوست جو محبت کرتے ہیں۔ محبت پہ ایمان رکھتے ہیں یا محبت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ناول ضرورپڑھیں۔
سیمیں درانی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here