فصیل بند شہر میں بزم سخن دہلی کی جانب سے شاندارشعری نشست کا انعقاد

0
162
فصیل بند شہر میں بزم سخن دہلی کی جانب سے شاندارشعری نشست کا انعقاد
فصیل بند شہر میں بزم سخن دہلی کی جانب سے شاندارشعری نشست کا انعقاد

میرے ورثے میں نہ دولت ہے نہ جاگیر کوئی        میرے اجداد زمانے میں چلن چھوڑ گئے

لاک ڈاؤن کے سیاہ دنوں کے بعد زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آرہی ہے ۔شعر و سخن کی محفلیں بھی سجنے لگی ہیں دہلی میں اس کی شروعات بزم سخن کی بانی محترمہ یاسمین سیّد نے کی اور انھوں نے دریا گنج میں اپنے دولت کدہ پر ایک شعری نشست کا انعقاد کیا جس میں دہلی کے نمائندہ شعرا و شاعرات نے شرکت کی ۔ایک بے حد خوبصورت شام جس میں میزبانی بھی تھی سخن فہمی بھی اور سخن پروری بھی ۔یاسمین سیّد صاحبہ کا گھرانہ ادب اور اردو زبان کا شیدائی ہے ان کے نانا تمنّا جمالی اور چچا اکمل راہی بھی شعر و سخن میں طبع آزمائی کرتے تھے
اس شعری نشست کی صدارت مشہور و معروف شاعرہ محترمہ عفّت زرّیں صاحبہ نے کی اور مہمان خصوصی کے طور پر جامعہ کے استاد رحمان مصور صاحب نے شرکت کی ،مہمانِ اعزازی مشہور ناظم مشاعرہ اور منفرد لب و لہجے کے شاعر جناب معین شاداب تھے ۔نظامت کے فرائض نوجوان شاعر اظہر اقبال نے ادا کئے ۔دہلی کی شان اور سینئر شاعرہ راشدہ باقی حیا،چوتھی دنیا کی سابق ایڈیٹر اور صدا ٹوڈے کی چیف ایڈیٹر،مشہورشاعرہ ڈاکٹر وسیم راشد ،اور نسوانی لب ولہجہ اور دلکش ترنم کے لیے مشہور شاعرہ علینہ عترت ،ترونا مشرا ،ریشمہ زیدی ۔دانش ایوبی ،آشو مشرا،بال موہن پانڈے،طارق عثمانی ،گوہر جمالی وغیرہ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔آپ سب کے لیے اشعار پیش خدمت ہیں
میرے ورثے میں نہ دولت ہے نہ جاگیر کوئی
میرے اجداد زمانے میں چلن چھوڑ گئے
ڈاکٹر عفّت زرّیں

اسے ہم پر تو دیتے ہیں مگر اڑنے نہیں دیتے
ہماری بیٹی بلبل ہے ،مگر پنجرے میں رہتی ہے
پروفیسر رحمان مصور

وہ سنگ دل ہے مگر اسے موم کر رہا ہوں
ان ہی چٹانوں سے مجھ کو دریا نکالنا ہے
معین شاداب

صحنِ چمن میں جشنِ چراغاں کے نام پر
خود آج ہم نے اپنا نشیمن جلا لیا
راشدہ باقی حیا

نہ جانے کون سے قیدی کی بد دعا ہے وسیم
کہ سب کے گھر ہوئے تبدیل قید خانوں میں
ڈاکٹر وسیم راشد

خاک جب خاک سے ٹکرائی تو اک شور اٹھا
جان جب جان سے گزری تو اماں تک پہنچی
علینہ عترت

ابھی تو گھر میرا پوری طرح جلا بھی نہیں
جو ہاتھ سیک رہے تھے وہ اٹھ کے جانے لگے
ترونا مشرا

درختوں سے تھا اک رشتہ ہمارا
زمیں ان کی تھی سایہ ہمارا
اظہر اقبال

اداس ہیں جو حسیں چہرے
میں ان کو ہنسنا سکھا رہا ہوں
میں جب مروں گا مرے کفن سے بھی
پھول نکلیں گے دیکھ لینا
انس فیضی

جن کو دلوں سے پہلے بدن کی تلاش تھی
ان کو چراغ مل گئے پر روشنی نہیں
ٓآشو مشرا

جلاؤ دل کا دیا وحشتوں کے عالم میں
شبِ فراق یہی اک آسرا ہوگا
ریشماں زیدی
پھر اس کے بعد بدن تیرنے لگا خود ہی
ہم اس کی یاد کے دریا میں چھٹپٹائے بہت
خواجہ طارق عثمانی

مجھے پتہ ہے مسافر کہاں پہ ٹھریں گے
میں سوکھے پیڑوں کی جتنی بھی دیکھ بھال کروں
بال موہن پانڈے

اس شعری نشست کا اختتام پر لطف عشائیہ کے ساتھ ہوا جس میں یاسمین سید صاحبہ اور ان کے تمام گھر کے افراد نے بے پناہ مَحبّت کے ساتھ میزبانی کے فرائض انجام دیئے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here