شطرنج کی بازی

0
288
شطرنج کی بازی

رمّانہ تبسم
پٹنہ سٹی
رابطہ۔9973889970

’’ہمری بلی ہمرے میائوں۔۔۔۔۔!‘‘
یہ سالی رینوا بیچ میں کیسے ٹپک پڑی ۔۔۔۔۔اور یہ کیسے ہو سکتا ہے میرے بدلے اس کوٹکٹ کیسے مل گیا جبکہ پی۔کے۔کھرانہ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اس بار جہاں سے چاہوں الیکشن لڑ سکتا ہوں اور میری سیٹ محفوظ تھی۔۔۔۔۔اچانک اس طرح کا فیصلہ لینے سے پہلے مجھ سے بات کرنی چاہئے تھی میرے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے ۔۔۔۔۔ای سالی بڑی چالاک نکلی اس کی اوقات دکھا کر رہیں گے۔‘‘ شری نے کمرے کا فاصلہ طے کرتے ہوئے مٹھی بھیجتے ہوئے دانت پیس کر کہا۔
شری کا رینو کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ تھا ۔پارٹی کا ہر لیڈر ان دونوں کے بیچ کے رشتہ کو جانتا تھا ۔اس نے رینو کی طرف دوستی کا ہاتھ اسی لئے بڑھایا تھا۔
اس روز وہ مایوس نائیٹ کلب میں ٹیبل پر بیٹھا تھا ۔ یہاں اونچے طبقے کے لوگ آتے تھے ۔تبھی اس کی نظر مینی اسکارٹ میں ملبوس رینو پر جا کر ٹھر گئی جو ہاتھ میں جام کا گلاس لئے میوزک کے دھن پر آہستہ آہستہ تھرک رہی تھی۔ اس کے ہونٹ جام کے گلاس سے وفائی کر رہے تھے۔ اس وقت اس کے سامنے شراب اور شباب دونوں تھی۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کس کی طرف ہاتھ بڑھائے۔
’’ہیلو مسٹر۔۔۔۔۔!یہاں لوگ مایوسی دور کرنے آتے ہیں ۔‘‘اس نے اس کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے ڈانس کی درخواست کی تو وہ چونک پڑا۔
’’اپنے ہونٹوں کو تکلیف دیں اور دنیا کے ٹنشن کو بائی کریں۔‘‘رینو نے شر ی کے سامنے جام رکھتے ہوئے کہا۔
جام کی بوتل میں اس کا دھندھلا عکس نظر آرہا تھا ۔۔۔۔۔یہ تو پوری نشیلی ہے۔اس نے بوتل سامنے سے ہٹاتے ہوئے آہستہ سے کہا۔
’’ہوش آنے پر ۔۔۔۔۔!‘‘
’’خود کو سنبھالناسیکھیں۔۔۔۔!‘‘اس نے گلاس میں وہسکی انڈیلی سائفین سوڈا ڈالا اور چسکیاں لینے کے بعد مسکرا کر بولی۔
’’اگر سنبھالنے والا نہ ہو۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔!‘‘
’’ٹرائی اگین۔۔۔۔۔!‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اٹھ کر کنکھی مارتے ہوئے چلی گئی۔
’’یہ سالی میرے بہت کام آسکتی ہے۔۔۔۔۔‘‘شری نے کنکھیوں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے ہونٹوں میں کہااور ایک طویل انگرائی لی اور سیدھا کھڑا ہو گیا۔ہر بارپی۔کے۔کھرانہ جی الیکشن سے پہلے اسے ٹکٹ دینے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن عین وقت پر اسے مایوسی ہاتھ لگتی ہے۔ اس کی آدھی عمر کھرانہ کے آگے پیچھے کرتے گزر گئی ۔یہاں تک کہ گھر اور بیوی بچوں کو بھی چھوڑ دیا لیکن جب رینو پر اس کی نظر پڑی تو اس کی نا امیدی امید میں بدلنے لگی۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس بار شطرنج کی چال چلے گا اور اس کھیل میں رینو کو رانی کے طور پر استعمال کرے گا اور کسی بھی طرح اس رانی کواپنی طرف راغب کرے گا ۔اس سے ملنے کے بہانے روز نائیٹ کلب میںجاکر بیٹھ جاتا ۔وہ کلب آنے والی سب سے ہاٹ لڑکی تھی۔دونوں شناساانداز میں مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔
شری اسے لے کر سبھی راجیہ نیتی پاڑٹی میں جانے لگا ۔اس نے رینو سے وعدہ کیا کہ پی۔کے۔کھرانہ اسے الیکشن میں کھڑا ہونے کا ٹکٹ دے دیتے ہیں اور وہ ایم ۔پی بن گیا تو بہت سارے فنڈ اس کی جھولی میں ڈال دے گا اور اس سے دھوم دھام سے شادی کرے گا۔اب دونوں ایک دوسرے سے اتنا قریب آچکے تھے کہ وہ بستر کرم کرنے میں بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔
الیکشن قریب آتے ہی عظیم اتحاد کے امیدواروں کے نام کا اعلان کیا گیا۔اب بقیہ سیٹوں کے تعن اور امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا جانا تھا۔ ان میں تقریبا نصف درجن سیٹوں پر رسہ کشی برقرار ہے ۔۔۔۔۔کل امیدواروں کا اعلان کئے جانے کا امکان ہے ۔اس بار پی۔کے۔کھرانہ کے سامنے اس طرح تاش کا پتہ پھینکے گا کہ وی۔آئی ۔پی سیٹ کا ٹکٹ اس کی جھولی میں آجائے گا لیکن کس طرح پھینکے یہ سوچ کر وہ بیقراری کے عالم میں بالوں میں انگلی پھیرتا ہوا ٹہل رہا تھا۔
’’شری ڈارلنگ۔۔۔۔۔!‘‘رینو نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
رینو کی آواز پر وہ چونک پڑا اور اس کے قدم رک گئے۔پی۔کے۔کھرانہ کے لئے اسے کسی طرح تیار کرنا پڑے گا۔اس نے دل میں کہا اور کشن لے کر صوفہ پر نیم دراز ہو گیا اور ہلکی سی آنکھ بند کر کے اس کی طرف دیکھتا رہا۔
’’کیا بات ہے شری؟تم پریشان لگ رہے ہو ۔۔۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نہ۔‘‘ رینو نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’رینو!دنیا سے دور جانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔۔لیکن جا نہ سکا۔‘‘
’’کیا۔۔۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہو شری۔۔۔۔۔ تمہارا دماغ صحیح ہے نا؟‘‘
’’ہاں رینو!لیکن اب تم آگئی ہو تو میری پریشانی چھو منتر۔۔۔۔۔‘‘اس نے رینو کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ سیدھا اس کے سینہ پرآکر گری۔اس نے اپنے گرم ہونٹ سے اس کے ہونٹوں کو ثبت کیا تو اس پر نیم سی کیفیت طاری ہو گئی۔ اس نے اس کے بالوں میں شانہ کرتے ہوئے کہا۔
’’رینو! آج ہماری محبت کا امتحان ہے اور اصل محبت کی پہچان مصیبت کی گھڑی میں ہوتی ہے ،چاہے وہ مصیبت کسی بھی شکل میں ہو۔ اگر آج تم سے کچھ مانگیں تو دے سکتی ہو۔‘‘
’’شری! کبھی انکار کیا ہے۔۔۔۔۔شادی سے پہلے بستر گرم کرنے میں تمہارا ساتھ دے چکی ہوں۔‘‘
’’ہاں رینو ! میرا ایک کام کر دو پلیز۔۔۔۔۔۔اس کے لئے تمہاراہمیشہ احسان مند رہوں گا۔‘‘
’’بول کر دیکھیں شری ۔۔۔۔۔جان نکال کر تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی۔‘‘
’’نہیں رینو !تمہاری جان میرے لئے بہت قیمتی ہے ۔۔۔۔۔ ایک چھوٹا سا کام ہے۔‘‘
’’کیا۔۔۔۔۔؟‘‘
’تم پی۔کے۔کھرانہ کو کسی طرح خوش کر دو تاکہ خوش ہو کر اس بار الیکشن کا ٹکٹ میری جھولی میں ڈال دیں۔۔۔۔۔کھرانہ صاحب وعدہ کرتے ہیں لیکن عین وقت پر ان کا ارادہ بدل جاتا ہے۔۔۔۔۔ابھی مہاگٹبندھن میں موٹے طور پر سیٹوں کا اعلان ہو چکا ہے کچھ گانٹھیں ابھی کھلنی باقی ہے اور سب سے بڑا پیچ سیمانچل کو لے کر ہے۔۔۔۔۔سب کی نظر اسی سیٹ پر رہتی ہے۔ یہاں کا ٹکٹ کھرانہ صاحب اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اور ای سالا مکیشوا کون سا پتی کھرانہ صاحب کے سامنے پھینکتا ہے کہ اسے ہری جھنڈی مل جاتی ہے۔ ہر بار اس کی سیٹ محفوظ رہتی ہے ۔سالالمبے سمئے سے سیمانچل کے سیٹ پر راج کر رہا ہے۔۔۔۔۔رینو ڈارلنگ اس بار مکیشوا کا پتہ صاف کرنے میں میرا ساتھ دو۔۔۔۔۔رینو ڈارلنگ پی۔کے۔کھرانہ کو کسی طرح اپنی مٹھی میں کر لو۔‘‘
’’مٹھی میں۔۔۔۔۔مطلب۔۔۔۔۔!‘‘
’’مٹھی میں ۔۔۔۔۔یعنی۔۔۔۔۔‘‘شری نے شطرنج پر مہرے رکھتے ہوئے کہا۔
’’ڈارلنگ !اسے دھیان سے دیکھو۔۔۔۔۔ہاتھی دونوں جانب ۔۔۔۔۔سب سے کونے میں ہوتے ہیں ،ہاتھی کے بعد گھوڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔اس کے بعد اونٹ ۔۔۔۔۔یعنی توپیں رکھی جاتی ہیں اور ان دونوں کے درمیان راجہ ۔۔۔۔۔اور رانی ۔۔۔۔۔سفید اور سیاہ کھلاڑیوں پر کھیل شروع کرتی ہے یعنی سفید رانی سفید خانوں پر اور سیاہ خانہ پر رکھی جاتی ہے اور بادشاہ ہر طرف ایک خانہ حرکت کر سکتا ہے اور اپنے قریب والے خانہ میں موجود مخالف کھلاڑی کو کسی بھی بے سہارا مہرا کو ختم کرتا ہے۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ اس بار سالا مکیشوا کو شہ اور مات دونوں دینا ہے تاکہ سالا اٹھ کر پانی بھی نہ پی سکے آج کل سالا روز مندر جا رہا ہے ،ایسے مندر میں پائوں نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔اس بارسالے کا دانت کھٹا کر دیں گے ۔
’’اوکے شری۔۔۔۔۔!جیسا تم کہو گے۔۔۔۔۔ویسا کروں گی۔
’’دھنیواد رینو! کل پی۔کے۔کھرانہ جی فیصلہ سنائیں گے اس بار وی۔آئی۔پی ٹکٹ کسے ملے گا ۔۔۔۔کھرانہ صاحب کو فیصلہ سنانے سے پہلے ابھی اسی وقت ہم ا ن کے گھر جائیں گے۔
’’اوکے۔۔۔۔۔‘‘رینو نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ رینو کو پی۔کے۔کھرانہ کے بنگلہ میں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔۔کھرانہ صاحب نے صبح شری کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
’’شری!اب تم نے راجیہ نیتی کے گن سیکھ لیا ہے،کس کوکیا چاہئے نبض کی پکڑ ہو گئی ہے ۔
دھنیواد کھرانہ صاحب ۔۔۔۔۔۔‘‘شری نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
’’نا۔۔۔۔۔۔ دھنیواد میرا نہیں بلکہ رینو کا کرنا چاہئے۔‘‘پی۔کے۔کھرانہ نے ہنستے ہوئے رینو کی طرف دیکھ کر کہا تو رینو کے لب پر پھیکی مسکراہٹ دوڑ گئی۔
’’شری !پلیز اب مجھ سے شادی کر لو ۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔کیوں کہ عورت جتنی بھی مارڈن بن جائے ہمارے ہندوستان میں شادی سے پہلے مرد کے ساتھ وقت گزارتی ہے تو لوگ اسے۔۔۔۔۔‘‘اس نے شری کے گلے لگ کر کہا۔
’’رکھیل کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘شری نے اس کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے کہااور زور دار قہقہہ لگانے لگا۔
’’شری!یہ تم کیا کہہ رہے ۔‘‘اس نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’کھرانہ کے ساتھ رات گزار کر آئی اور ابھی بھی تمہارا دل نہیں بھرا۔۔۔۔۔مجھ سے اب دور رہو تم نہ میری بیوی ہو اور نہ معشوقہ ۔۔۔۔۔بلکہ رکھیل ہو ۔۔۔۔۔جیسے استعمال کرو اس کے بعد باہر پھینک دو۔‘‘شری نے ماچس کی تیلی جلائی اور اسے پھونک کر باہر پھینکتے ہوئے کہا۔
’’کل کھرانہ صاحب وی ۔آئی ۔پی ٹکٹ کا اعلان کریں گے ۔‘‘اس نے رینو کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔ اگلے دن جب پی۔کے۔کھرانہ نے وی۔آئی۔پی سیٹ کے لئے ٹکٹ شری کی جگہ رینو کو دیا تو اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی۔
’’ارے تو تو بڑی حرامی نکلی۔۔۔۔۔‘‘اس نے رینو کا بال کھینچتے ہوئے دانت پیس کر کہا۔
’’شری!میرابال چھوڑو۔۔۔۔۔ابھی تم شطرنج کے کچے کھلاڑی ہو۔۔۔۔۔مطلب نکالنے کے بعد رانی کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینک رہے تھے لیکن شاید تمہیں نہیں معلوم کہ رانی دونوں ہاتھی اور توپ کی طاقت کو جوڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔رانی آڑھی ٹیڑھی بھی ایک طرح سے یہ راجہ کی طرح کسی بھی جانب چال چل سکتی ہے لیکن راجہ کے برعکس یہ دور تک جا سکتی ہے۔۔۔۔۔رانی خانوں کے کسی بھی طرف چال چل سکتی ہے اور اپنے مخالف پر حملہ بھی کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔سمجھ میں آئی بات۔۔۔۔۔ مائی ڈیر شری ۔۔۔۔۔ رانی کس طرح طاقتور ہوتی ہے۔‘‘رینو نے اس کی آنکھوں میںدیکھتے ہوئے کہا۔
’’بازی جیتنی ہو تو رانی کو اتنی جلدی دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینکنے کی کوشش نہ کریں۔۔۔۔۔ کیونکہ اگر رانی ہار گئے تو ۔۔۔۔۔کھیل میں ہارنے کے امکان ہیں ۔۔۔۔۔‘‘اس نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔اس کی ایک ایک بات اس کے کان میں شیشے کی طرح پیوست ہو رہے تھے۔وہ اسے آنکھیں پھاڑ کر گھور رہا تھا۔
’’شری! عورت بہت معصوم ہوتی ہے اور اس کے معصو م جذبات سے کھلوار کرنا بڑی مشکل ہے ۔۔۔۔۔۔اگر یہ چھڑیہ گئی تو بڑے بڑے حکمرانوں کے تخت و تاج کو پیروں سے کچل ڈالتی ہے۔‘‘ اس نے نفرت و حقارت سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’نہیں معلوم تھا کہ تو اتنی حرامی نکلے گی۔۔۔۔۔تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔۔۔۔۔یاد رکھنا۔‘‘ شری نے آنکھیں پھاڑ کر اسے گھورتے ہوئے کہا۔
اس لائق بچو گے تب نہ۔۔۔۔۔شطرنج کی بازی اتنی جلدی نہیں چلی جاتی ۔۔۔۔۔بلکہ ۔۔۔۔۔بہت سوچ سمجھ کر ایک ایک چال چلنا پڑتا ہے۔تمہاری شہ اور مات دونوں ۔۔۔۔۔۔منہ کے بل کیسے گرے۔۔۔۔۔ مجھے بیوقوف بنانا اتنا آسان نہیں۔‘‘اس نے غراتے ہوئے کہا۔
’’ شری !تم نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے ۔۔۔۔۔۔‘‘ اس نے بلائوز سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر ایک سگریٹ سلگایا اور پرس لہراتے ہوئے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔جہاں سیکڑوں کی تعداد میں جمع لوگ پھولوں سے اس کا استقبال کر رہے تھے ۔۔۔۔۔اور ڈھول تاشوں کے ساتھ رینو کو ٹکٹ ملنے کی خوشی میں تھڑک رہے تھے۔
شری کو اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ چھتس کے چھتس گولی اس کے سینے میں اتار دے۔

ؤؤؤ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here