شاہین باغ کا وہ نظارہ جو کسی نے نہ کبھی دیکھا ہوگا نہ سنا

0
53
انون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے اپنے جمہوری فرض (ووٹ ڈالنے)ادا کرنے کے بعد کہاکہ خاتون مظاہرین نے پوری شدت کے ساتھ ووٹ دیا ہے کیوں کہ یہ لڑائی ووٹنگ کی ہے جسے موجودہ حکومت چھین لینا چاہتی ہے۔ سماجی کارکن اور مظاہرین شامل محترمہ ملکہ نے کہاکہ ہم نے ووٹ ڈال کر اپنا جمہوری فرض ادا کیا ہے جسے قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے سہارے موجودہ حکومت چھین لینا چاہتی ہ
شاہین باغ ایسا منظر نہ آپ نے دیکھا نہ سنا

 

شاہین باغ آنکھوں دیکھی ۔میں بھی حاظر تھی وہاں

شاہین باغ اس وقت پوری دنیا میں چھایا ہوا ہے برٹش پارلیمنٹ میں بھی شاہین باغ کی عورتوں کی تعریف کی جارہی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ فاشزم کے خلاف یہ لڑائی ہے جو عورتیں لڑ رہی ہیں ۔آج الیکشن کے دن شاہین باغ کی فضا ہی بدلی ہوئی تھی قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے اپنے جمہوری فرض (ووٹ ڈالنے)ادا کرنے کے بعد کہاکہ خاتون مظاہرین نے پوری شدت کے ساتھ ووٹ دیا ہے کیوں کہ یہ لڑائی ووٹنگ کی ہے جسے موجودہ حکومت چھین لینا چاہتی ہے۔

سماجی کارکن اور مظاہرہ میں شامل محترمہ ملکہ نے کہاکہ ہم نے ووٹ ڈال کر اپنا جمہوری فرض ادا کیا ہے جسے قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے سہارے موجودہ حکومت چھین لینا چاہتی ہےاس کے علاوہ آج شاہین باغ میں سکھوں کے ٹینٹ میں ایک منظر نے آنکھیں نم کردیں ۔ایک سکھ بزرگ لیٹے ہوئے تھے اور دوسرے مسلمان بزرگ ڈاڑھی والے ان کے پیر دبا رہے تھے ۔اس کے علاوہ ایک لڑکی سیاہ حجاب میں کھڑی ہوئی تھی اور اس نے سیندور ۔بندی لاگئی ہوئی تھی اور  وہ کراس بھی پہنے ہوئے تھی ۔سردار بڑی محبت سے لنگر پکا بھی رہے تھے اور تقسیم بھی کر رہے تھے ۔شکریہ مودی ججی آپ نے ہم سب کو ایک کردیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here