آزاد ہندوستان نے ایسا احتجاج اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا .سلام شاہین ہندوستان

0
33

شاہین باغ کی خواتین کو سلام
سہیل انجم
اس وقت پورے ملک میں ایک طوفان برپا ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں بینر، پوسٹر اور جھنڈے ہیں اور زبانوں پر نعرے، نظمیں اور نغمے ہیں۔ آخر لوگ کیوں اس قدر مشتعل ہیں۔ وہ کیوں اپنے کاروبار اور ملازمتیں کو چھوڑ کر گلیوں، سڑکوں اور میدانوں، پارکوں میں نکل آئے ہیں۔ وہ کیوں اپنا نقصان کرکے مظاہرے اور احتجاج کر رہے ہیں۔ اس کی بس ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ہندوستان کو ایک سیکولر ملک دیکھنا چاہتے ہیں ہندو اسٹیٹ نہیں۔ وہ ہندوستان کو ایک فرقہ وارانہ بھائی چارے والا ملک دیکھنا چاہتے ہیں، تعصب اور نفرت پر مبنی ملک نہیں۔ لیکن حکومت بضد ہے کہ وہ اس سیکولر ملک کو ہندو راشٹر بنا کر چھوڑے گی۔ وہ ہندوستانی معاشرے پر ایک خاص مذہب کے پیروکاروں کی بالادستی قائم کرکے چھوڑے گی۔ لہٰذا عوام نے بھی ٹھان لیا ہے کہ وہ حکومت کے اس عزم کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ حکومت نے اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر پارلیمنٹ سے جو شہریت ترمیمی قانون منظور کرایا ہے وہ ہندوستانی آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسی لیے وہ لوگ بھی کھل کر باہر آگئے ہیں جنھوں نے ابھی چند ماہ قبل ووٹ دے کر اس حکومت کو دوبارہ گدی پر بٹھایا تھا۔ مذکورہ متنازعہ قانون کے خلاف جو عوامی سیلاب امڈ پڑا ہے حکومت اس کو روکنے اور سی اے اے حامی ریلیاں نکلوا کر اس سیلاب بلا خیز کے سامنے بند باندھنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ اس عوامی سیلاب میں معاشرے کا کون سا ایسا طبقہ ہے جو شامل نہیں ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ اور بالخصوص جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے اس تاریخی احتجاج کا آغاز کیا تھا مگر آج اس میں تمام تر شعبہ ہائے حیات کے لوگ شامل ہو گئے ہیں۔
اس عوامی احتجاج کا کوئی قائد نہیں ہے۔ شرکائے احتجاج خود ہی قائد ہیں اور خود ہی مظاہرین۔ البتہ اس کی قیادت دو طبقات کے ہاتھوں میں ہے۔ یعنی اس کی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی قیادت ہو رہی ہے۔ ایک طبقہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے نوجوان طلبہ کا ہے اور دوسرا خواتین کا ہے۔ اس احتجاج میں خواتین کی شرکت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور ملک کے گوشے گوشے سے عورتیں نکل کر سڑکوں پر آرہی ہیں اور سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کر رہی ہیں۔ لیکن ان خواتین کو جگایا ہے شاہین باغ کی عورتوں نے۔ شاہین باغ جنوبی دہلی کے اوکھلا کی ایک گنجان مسلم آبادی والی کالونی ہے۔ یہ کالونی اوکھلا میں واقع جامعہ نگر پولیس تھانے سے متصل ابوالفضل انکلیو کے بعد شروع ہوتی ہے اور نوئیڈا کی طرف جانے والی شاہراہ پر واقع کالندی کنج تک پہنچتی ہے۔ اس کی چوحدی یوں ہے کہ شمال میں اوکھلا گاؤں ہے۔ جنوب میں سریتا وہار ہے۔ مغرب میں جسولہ گاؤں ہے جو کہ جنوبی دہلی کی ایک اہم شاہراہ متھرا روڈ کے قریب ہے۔ مشرق میں دریائے جمنا اور کالندی کنج ہیں۔ دریائے جمنا کے فوراً بعد نوئیڈا شروع ہو جاتا ہے یعنی اتر پردیش کا علاقہ ہے۔ کالندی کنج سے لے کر سریتا وہار، اپولو اسپتال او رمتھرا روڈ تک ایک انتہائی اہم شاہراہ ہے جو کہ دہلی کو نوئیڈا سے ملاتی ہے اور آشرم، فرید آباد اور گوڑ گاؤں تک جانے کے لیے اسی شاہراہ سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس شاہراہ کے جنوب میں سریتا وہار ہے اور شمال میں شاہین باغ۔ شاہین باغ کی خواتین نے پندرہ دسمبر کو اپنے گھروں سے نکل کر اسی شاہراہ کو اپنا آشیانہ بنایا ہے جس کی وجہ سے یہ بند ہو گئی ہے۔
ان خواتین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر پندرہ دسمبر کی شام کو توڑے جانے والے پولیس ظلم کے خلاف یہاں دھرنا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ اس کی شکل و صورت بدلنے لگی۔ ایک چھوٹا سا اسٹیج بنایا گیا۔سامنے دری اور پلاسٹک بچھائی گئی۔ ڈیوائیڈر کی طرف سے برساتی کی چادروں سے گھیراؤ کیا گیا۔ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خبریں میڈیا میں آنے لگیں۔ اخباروں میں رپورٹنگ ہونے لگی اور نیوز چینلوں پر پروگرام کیے جانے لگے۔ اب تو اس نے عالمی میڈیا کا دھیان بھی کھینچ لیا ہے۔ وہاں بھی شاہین باغ چھایا ہوا ہے۔ صبح کے وقت بہت سی عورتیں حوائج ضروریہ سے فراغت کے لیے اپنے گھروں کو چلی جاتی ہیں اور بہت سی بیٹھی رہتی ہیں۔ ان کے آنے کے بعد دوسری عورتیں چلی جاتی ہیں۔ دوپہر بعد مزید آمد شروع ہوتی ہے۔ عصر بعد اور بڑھتی ہے۔ مغرب اور عشا کے بعد تو زبردست رش ہو جاتا ہے۔ ہزاروں خواتین، بچے، بچیاں اور مرد پہنچ جاتے ہیں۔ عورتیں ترپال کے سائبان کے نیچے رات بھر بیٹھی رہتی ہیں۔ ان کے ساتھ پندرہ پندرہ دن کے شیر خوار بچے بھی ہیں اور نوے نوے سال کی بزرگ خواتین بھی ہیں۔ مرد چاروں طرف سے محاصرہ کیے رہتے ہیں۔ اسٹیج سے تقریریں ہوتی رہتی ہیں۔ نظمیں پڑھی جاتی ہیں۔ نغمے گائے جاتے ہیں اور نعرے لگائے جاتے ہیں۔ یہ نظمیں، نغمے اور نعرے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ خواتین اپنی تالیوں سے اسٹیج کا ساتھ دیتی ہیں۔
یہ دھرنا مکمل طور پر سیکولر ہے۔ گزشتہ اتوار کو وہاں اتحاد بین المذاہب کا شاندار اور یادگار منظر دیکھا گیا۔ مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی مذہب کے پیشواؤں نے اپنے اپنے مذہب کی کتابوں کا ورد کیا۔ ہندو پنڈتوں نے ہون کیا۔ اس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ یہ صرف مسلمانوں کا دھرنا نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کا دھرنا ہے۔ ایک روز قبل سے ہی یہ خبر گشت کرنے لگی تھی کہ اتوار کی شام ساڑھے سات بجے اقوام متحدہ کی ایک ٹیم شاہین باغ کا دورہ کرنے والی ہے۔ پھر کیا تھا لوگ عصر بعد سے ہی اپنے گھروں کو نکل گئے۔ (حالانکہ بعد میں یہ خبر ایک افواہ ثابت ہوئی)۔جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شاہین باغ کا دھرنا تین کلومیٹر دور ہے۔ ساڑھ چھ سات بجے وہاں سے لے کر دھرنا گاہ تک لوگوں کا زبردست اژدہام ہو گیا۔ پانچ کلومیٹر کے دائرے میں کہیں بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں بچی۔ شاہین باغ کی کوئی ایسی گلی نہیں تھی جہاں انسانی سیلاب نہ پہنچا ہو۔ چاروں طرف سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ کوئی جتھہ ہاتھوں میں جلتی موم بتیاں لیے ہوئے ہے تو کوئی جتھہ ہاتھوں میں ترنگا لیے ہوئے ہے۔ سب کی زبانوں پر انقلاب زندہ باد اور ہم لے کے رہیں گے آزادی کے نعرے تھے۔ لوگ پیدل، موٹر سائیکل، گاڑی اور ٹرالی جانے کس کس ذریعے سے وہاں پہنچتے رہے۔ صرف مقامی افراد ہی نہیں بلکہ دہلی کے دور دراز کے علاقوں سے بھی لوگ پہنچنے لگے۔ مجمع اتنا زبردست ہو گیا کہ منتظمین کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ بالآخر اسٹیج سے بار بار اعلان کرنا پڑا کہ رش کم کیجیے، رش کم کیجیے۔ خطرہ اس بات کا تھا کہ کہیں اس بھیڑ میں غیر سماجی عناصر یا احتجا ج کو بدنام کرنے والے شرپسند نہ گھس جائیں۔ اگر اس دن کسی نے کسی بھی طرف ایک پتھر ہی اچھال دیا ہوتا تو حالات بے قابو ہو جاتے اور پھر اس کا جو انجام ہوتا وہ انتہائی بھیانک ہوتا۔ بہر حال خدا خدا کرکے نصف شب میں جا کر مجمع کچھ کم ہوا اور منتظمین نے اطمینان کی سانس لی۔
اس دھرنے کو ختم کرانے کی کئی بار کوششیں کی گئیں لیکن ہر کوشش ناکام ثابت ہو گئی۔ سب سے پہلے تو دو افراد نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک درخواست پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے کی وجہ سے سڑک بند ہے جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کو زبردست دشواریوں کا سامنا ہے۔ اسے کھلوایا جائے۔ لیکن عدالت نے اس درخواست کو خارج کر دیا اور کہا کہ وہ اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اگلے روز پھر ایک وکیل کی جانب سے درخواست داخل کی گئی۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے دہلی پولیس کو حکم دیا کہ مفاد عامہ کو دیکھتے ہوئے اور نظم و نسق کو برقرار رکھتے ہوئے اقدام کیا جائے۔ اب پولیس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ طاقت کا استعمال نہیں کرے گی، لوگوں کو سمجھا بجھا کر دھرنا ختم کرانے کی کوشش کرے گی۔ اس کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مساجد کے ائمہ حضرات اور معاشرے کے دیگر بااثر افراد کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ لیکن جب میڈیا کے لوگوں نے دھرنا گاہ پر خواتین سے عدالتی حکم کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بہت واضح انداز میں کہا کہ وہ اس وقت تک نہیں ہٹیں گی جب تک کہ ان کا مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا اور مطالبہ یہ ہے کہ حکومت سی اے اے کو واپس لے۔
شاہین باغ سے ترغیب حاصل کرتے ہوئے اب ملک کے دیگر علاقوں میں بھی عورتیں دھرنے پر بیٹھ گئی ہیں جن میں گیا، کلکتہ اور الٰہ آباد کے علاوہ خود دہلی میں کئی مقامات شامل ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ بھی شاہین باغ کی مانند دھرنا دے رہی ہیں اور وہ بھی مذکورہ قانون کے خلاف ہیں۔ بعض مقامات پر پولیس طاقت کا استعمال کرکے خواتین کو اٹھا بھی رہی ہے۔ خود دہلی کے خوریجی علاقے میں کئی دنوں سے دھرنے پر بیٹھی ہوئی خواتین کو پولیس نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب میں دو بجے پہنچ کر زبردستی اٹھایا۔ اس نے وہاں کی بجلی کاٹ دی۔ لیکن آناً فاناً میں علاقے کے لوگ پہنچ گئے اور خواتین نے تین بجے صبح سے پھر اپنا دھرنا شروع کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ شاہین باغ کی عورتوں نے جو شمع جلائی ہے اس سے دوسرے شہروں اور جگہوں کی عورتیں بھی اپنا چراغ جلا رہی ہیں اور مذہب کی بنیاد پر وضع کیے گئے قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ آزاد ہندوستان نے ایسا احتجاج اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ عدیم المثال احتجاج ہے جو آگے چل کر ہندوستان کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کرے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here