شگفتہ غزل کی تلخ تند و شیریں شاعری

0
28

 

 

 

 

 

 

 

 

(ہندی مجموعئہ کلام ” خاموش لہریں” کے حوالے سے )
اسلم چشتی پونے 09422006327
( چیئرمین ‘صدا ٹوڈے اُردو نیوز ویب پورٹل)
آجکل کی خاتون شعراء میں شگفتہ غزل کا نام اپنی ایک الگ چمک دمک اور وقار رکھتا ہے – اعلٰی تعلیم یافتہ اس خاتون نے مشاعروں کے حوالے سے بھی خوب نام کمایا اور ادبی میدان میں بھی اپنا سکّہ جمایا ہے – اُردو اور ہندی کے رسائل و جرائد میں ان کا کلام عرصے سے چھپتا رہا ہے – ان کی شاعری کے مجموعوں کے علاوہ افسانوں کے بھی مجموعے چھپ چکے ہیں – ہندی اور اُردو حلقوں میں ان کی مقبولیت مثالی ہے –

شگفتہ غزل اور ان کے کلام سے میں اچھّی طرح واقف ہوں -میں انہیں سنتا بھی رہا ہوں اور پڑھتا بھی رہا ہوں – میری ان سے پہلی ملاقات حضرت عنوان چشتی کے دولت خانے پر دہلی میں ہوئی تھی – لیکن ان کی شاعری کے بارے میں اظہارِ خیال کا موقع اب ملا ہے – میں چونکہ ہندی رسم الخط سے بھی واقف ہوں اس لیے ان کے ہندی نظموں کے مجموعۂ کلام کا مطالعہ کر سکا یہ مجموعہ صرف 60 صفحات پر مشتمل ہے اس میں مُختلف موضوعات کے تحت کہی گئی مُنتخب نظمیں ہیں یہ کلام اُردو زبان میں ہی ہے – جو دیوناگری رسم الخط میں شاید اس لیے چھاپا گیا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھ سکیں – کلام کی زبان ہندی والے بھی سمجھ سکتے ہیں اور اُردو والے بھی کیوں کہ یہ کلام سلیس زبان میں رقم کیا گیا ہے – مشمولات میں آزاد نظمیں بھی ہیں اور پابند نظمیں بھی – نمونتاً ایک پُر اثر آزاد نظم مُلاحظہ فرمائیں –

ایک پل : اکثر / سیاہ رات کے گہرے سنّاٹے میں / میرا ماضی / میرے سامنے آ کر / پوچھتا ہے……. / طنزیہ انداز میں / کیوں؟ / کیسی ہو تم؟ / اور میں…… / جیسے کوئی تصویر / بے بسی اور مایوسی کی / پتھرائی آنکھوں سے / اسے دیکھا کرتی ہوں / کیوں کہ وہ / ایک پل ہے / گذرا ہُوا / اور جواب میں….. / گر جاتے ہیں / میری آنکھوں سے / چند قطرے آنسو /
غزل کی ہییت میں ایک نظم ” تنہا تنہا” اس کتاب میں شامل ہے اسے پڑھ کر مشہور فلم اسٹار مینا کماری مرحومہ کا ایک مشہور شعر ( مطلع) یاد آ گیا – مینا کماری شاعرہ بھی تھیں ” ناز” تخلص کرتی تھیں ،. مُشاعروں میں بھی شرکت کرتی تھیں، ان کی شاعری کا مجموعہ بھی شایع ہو چکا ہے – مطلع مُلاحظہ فرمائیں –
چاند تنہا ہے آسماں تنہا
دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا
” تنہا” ردیف میں ان کی اس غزل کے بہت چرچے ہوئے تھے – کہا تو بہت گیا ہوگا لیکن کسی اور غزل کی اتنی مقبولیت نہیں ہوئی، بہت دن بعد قافیے کی تبدیلی کے ساتھ نظم کی شکل میں شگفتہ غزل کی یہ نظم سامنے آئی ہے – شاعرہ نے اس میں تنہائی کے کئی پہلو کئی رنگ پیش کر کے ” تنہا ” ردیف کے ساتھ انصاف کیا ہے اور ” تنہائی” کے درد کا شدّت کے ساتھ اظہار کیا ہے – ان کا مقطع مُلاحظہ فرمائیں –
کیوں غزل بے سبب پریشاں ہو
تم کو رہنا ہے عمر بھر تنہا
یہ دراصل شگفتہ کی غزل ہی ہے جسے غزلِ مسلسل کا نام دیا جا سکتا ہے – شاعرہ نے اسے اپنی نظم کی کتاب میں شامل کر دیا ہے – اس کا مطلع دیکھئے کہ جس میں تنہائی کا کرب کس شدّت سے ابھرتا ہے –
وہ اُدھر اور ہم اِدھر تنہا
خواب دیکھا کیے مگر تنہا
ان کی پابند نظمیں بھی خوب رنگ جماتی نظر آتی ہیں – خیالوں میں الجھی جا رہی ہوں ، یہ کرم کر ، حسرتیں ، میری قسم ، بے چین نیندیں ، اُمّید کا دیا عمدہ مثالیں ہیں – ان کی پابند نظموں میں کہیں کہیں گیت کا رنگ بھی آیا ہے – جیسے” سُن دیوانے” کا مُکھڑا –
سُن سن سن دوانے سن سُن سُن + سن تجھ سے کہے کیا بانسریا کی دھن
یہ نظم پڑھنے سے زیادہ سننے سے تعلق رکھتی ہے بلکہ ترنم میں اچھّی لگتی ہے – اس کے لفظیات میں مُجھے سنگیت کی جھنکار بھی سنائی دیتی ہے – اس کے دو بند ملاحظہ فرمائیں –
دُنیا کے بازار میں دیکھی ہم نے ہر شئے فانی
دُنیا کا غم مت کر پیارے دنیا آنی جانی
تو جیون کی اس بگیا سے سکھ کی کلیاں چُن
چن چن چن خوشی کی ساری کلیاں چن
اس جھوٹی دنیا کے ان جھوٹے رشتوں کا کیا ہے
باتیں لوگ بناتے رہتے ہیں باتوں کا کیا ہے
جھوٹی رسموں کے تو کاہے تانے بانے بُن
بُن بُن بُن نہ جھوٹے تانے بانے بُن
شگفتہ غزل کی نظموں میں پیار مُحبّت کی رنگیلی جھلکیاں بھی ہیں،. جدائی اور تنہائی کا کرب بھی ، آس اُمّید کی بات بھی ، انجانے چھپے دبے جذبات بھی، ان کا مطالعہ کلاسیکی گیتوں کا گہرا معلوم ہوتا ہے جس کا اثر ان کی نظموں پر ہے – ان کی گیت نُما نظمیں یا نظم نُما گیتوں کی پذیرائی ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی کیونکہ شگفتہ غزل نے نظم کے لیے جو اپنا راستہ چُنا ہے وہ سبھی کا پسندیدہ راستہ ہے –
اس کتاب کی نظموں کے انتخاب میں دو ایسی نظمیں ہیں جو ہر ایک کے من کو چھونے کی قوّت رکھتی ہیں – دونوں نظموں کے شروع کے مصرعوں کو پڑھئے اور داد دیجئے –
مہنگائی :
دیکھو دیکھو ہند واسیو بڑی مصیبت آئی
آج یہاں ہر ایک چیز پر بڑھی چڑھی مہنگائی
سبزی منڈی کی جانب جب ہم نے قدم بڑھایا
دیکھی سبزی کی مہنگائی اپنا دل گھبرایا
آلو پیاز ٹماٹر مہنگے مہنگی ہے چولائی
دیکھو دیکھو…………………
کارگل شہیدوں کے نام
اے کارگل کے راہی جاں باز اے سپاہی
تونے وطن پرستی کس شان سے نباہی
تو ہے وطن کی عزّت تو ہے چمن کی زینت
تو دیش کی امانت فوجوں کی تو ہے طاقت
ہر لمحہ کر رہا ہے اُمیّدِ صبح. گاہی
اے کارگل کے راہی……………
” خاموش لہریں” کی تلخ تند و شیریں شاعری شگفتہ غزل کی نظمیہ صلاحیتوں کو شگفتگی عطا کرتی نظر آتی ہے تبھی تو 2005. ء میں شایع ہوئی اس کتابی گلدستے کے ہر پھول میں تازگی ہے 2018.ء کی یہ تازگی آگے بھی برقرار رہے گی ایسا میرا دل کہتا ہے – ان ہی کے ایک خوبصورت شعر پر میں اپنی گُفتگو ختم کرتا ہوں –
اُٹھا ہے طوفان کسی کے دل میں
خموش لہریں. مچل رہی ہیں
Aslam Chishti Flat No 404 Shaan Riviera Aprt 45 /2 Riviera Society Wanowrie Near Jambhulkar Garden Pune 411040 Maharashtra

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here