مدھیہ پردیش حکومت کا’ لو جہاد’کے خلاف قانون قابل مذمت

0
40
مدھیہ پردیش حکومت کا' لو جہاد'کے خلاف قانون قابل مذمت
مدھیہ پردیش حکومت کا' لو جہاد'کے خلاف قانون قابل مذمت

مدھیہ پردیش حکومت کا’ لو جہاد’کے خلاف مجوزہ قانون قابل مذمت۔ ایس ڈی پی آئی
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بی جے پی کے زیر اقتدار مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے غیر موجود اور نام نہاد ‘لو جہاد’معاملے کے خلاف مجوزہ قانون سازی کی مذمت کی ہے۔ یہ اقدام آسام، ہریانہ، اتر پردیش اور کرناٹک ریاستوں میں بھی بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے اسی طرح کے قانون سازی کے اعلان کے فورا بعد ہی سامنے آیا ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ ‘لوجہاد’ایک ایسی اصطلاح نہیں ہے جس کو ہندوستان میں کسی بھی قانونی نظام نے تسلیم کیا ہے۔ سنگھ پریوار تنظیموں نے ہندو خواتین کو اسلام میں تبدیل کرنے کی خیالی مسلم سازش کا یہ شوشہ چھوڑا ہے۔ رواں سال فروری میں مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ‘لو جہاد’کی اصطلاح کسی موجودہ قانون کے متعین نہیں کی گئی ہے اور کسی بھی مرکزی ایجنسی کی طرف سے اس معاملے کی کوئی اطلا ع نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت پہلی بار سرکاری طور پر اس نظریے سے دور ہوگئی کہ خواتین کے مذہب کو بدلنے کیلئے شادی کو بطور طریقہ استعمال کیا جارہا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا کہ اس طرح کا قانون خطرناک ہے۔ خاص طور پر کسی ایسے تجرباتی اعداد وشمار کے بغیر جو اس طرح کا رجحان قائم کرتا ہے۔ اور یہ زیادہ تر دو افراد کے مابین باہمی ذاتی تعلقات کے بارے میں بے بنیاد باتوں پر مبنی ہے۔ جس کی ہماری آئین میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس طرح کے زہریلے تعصبات کو پھیلانے اور ان کو قانون میں ڈھالنے کی تمام کوششیں مجموعی طور پر آئین اور ریاست کی بے عزتی ہے۔ حکومت کی جانب سے، رضامند بالغوں کے مابین ازدواجی تعلقات کو منظم کرنے کیلئے قوانین پر غور کرنا نہ صرف آئین کے منافی ہے بلکہ انفرادیت اور بنیادی آزادی کے تصورپر بھی سخت ضرب ہے۔ اس طرح کے ایجنڈوں کو ترقی مخالف سمجھنا ہے کیونکہ بین برادری تعلقات میں شبہ سے ریاستوں پر بہت زیادہ بوجھ پڑجائے گا۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ ‘لو جہاد’کا اصطلاح دو رضامند بالغوں کے مابین ذاتی انتخاب کے معاملے کو فرقہ وارانہ اور مجرمانہ بنا دیتا ہے۔ اس طرح کے قوانین اگر منظور ہوئے تو آئین مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ ان قوانین کا جان بوجھ کر غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ خواتین مخالف بھی ہوگا کیونکہ اس سے ہندو خواتین کو اپنے مردوں کی ‘ملکیت’سمجھے گی اور اس طرح ان کی جنسیت پر قابو پایا جائے گا۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ اس قانون کی حمایت میں جو عجیب و غریب داستان پیش کی جارہی ہے کہ وہ یہ ہے کہ ہندو خواتین بے قصور شکار ہیں کیونکہ انہیں راضی کیا گیا ہے اور انہیں اپنی برادری یا مذہبی طبقے سے ہٹانے پر راضی کیاجارہا ہے، او ر انہیں اس طرح کی اضطراب سے یہ قانون ان کی حفاظت کیلئے ڈھال ثابت ہوگا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آئین کے تحت وہ بالغ افراد کو اپنی پسند کا انتخاب کرنے کا حق نہیں دیا جارہا ہے۔ اس طرح کا خیال، حقیقت میں تمام معاشروں کو اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر قابو پانے کیلئے طاقت فراہم کرتا ہے۔ جن کو کھبی بھی خود مختار خواتین کے طور پر نہیں دیکھا جائے گااور ان کی جنسیت کو پدرانہ نظام کے ذریعہ کنٹرول کیا جائے گا۔

یس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی

Sada Today web portal

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here