ساوتری بائی پھلے پونے یونیورسٹی میں اردو کورس کا آغاز

0
71
’’اردو ہندوستانی تہذیب کی زبان ہے‘‘ ( وائس چانسلر ڈاکٹر نتین کرملکر کا بیان) پونے ( ۴؍ فروری ۲۰۲۰ئ) ، ساوتری بائی پھلے پونے یونیورسٹی میں تعلیمی سال ۲۱۔۲۰۲۰ سے اردو بنیادی کورس کا آغاز ہورہا ہے۔
تری بائی پھلے پونے یونیورسٹی میں اردو کورس کا آغاز

’اردو ہندوستانی تہذیب کی زبان ہے-وائس چانسلر ڈاکٹر نتین کرملکر کا بیان
پونے صدا ٹوڈے

، مہاراشٹرا میں اردو کی ترویج و ترقی کا بے مثال کام ہورہا ہے ۔وہاں کا آعظم کیمپس ایشیا میں بے مثال ہے اور وہاں بے شمار ٹیکنیکل کورسس بھی ہیں ۔اب ساوتری بائی پھلے پونے یونیورسٹی میں تعلیمی سال 2020-21 سے اردو بنیادی کورس کا آغاز ہورہا ہے۔ اس کورس میں دسویں، بارہویں اور ڈگری یافتہ طالب علم داخلہ لے سکتے ہیں ۔ اس کورس کا بنیادی مقصد اردو اور خاص طور پر غیر اردو داں طبقے کو اردو میں لکھنے ، پڑھنے اور بات کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔یہ کورس ساوتری بائی پھلے کیمپس میں شعبۂ ہندی میں منعقد کیا جائے گا جس میں زیادہ سے زیادہ تیس طلباء و طالبات داخلہ لے سکیں گے ۔ ڈاکٹر سدانند بھوسلے ، صدر شعبۂ ہندی پونے یونیورسٹی کے زیر نگرانی میں کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ڈاکٹر انجلی کُرنے، ڈین ، محترمہ عظمیٰ تسنیم صدر شعبۂ اردو عابدہ انعامدار سینئر کالج ، ڈاکٹرعبدالباری ، اسسٹنٹ پروفیسر اردو، پونا کالج اور ڈاکٹر عظمت دلال میں شامل رہے ۔نتین کرملکر، وائس چانسلر ، پونے یونیورسٹی نے اس بات کی تصدیق کرنے کے ساتھ ہی بڑے ہی مثبت انداز میں اس کورس کو شروع کرنے کی اجازت دی اور کہا کہ
’’ اردو یہ ہندوستان اور ہندوستانی تہذیب کی زبان ہے۔ ہندی اردو کے بغیر نا مکمل ہے ۔ہندوستانی تہذیب میں اردو زبان کا اہم کردار ہے ۔ دور حاضر میں ہندوستانی تہذیب و کلچر سے واقف ہونے کے لئے اردو زبان سے واقفیت ضروری ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے اسی لئے ہم نے پونے یونیورسٹی میں اس کورس کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘‘

اس ساری کاروائی کو عملی جامہ پہنانے کا سہرا پونے کے ایڈوکیٹ جناب سلیم شیخ کے سر رہا۔ ساتھ جناب عبدالکریم عطار، امتیاز شیخ اور جناب سید ریاض الدین نے بھر پور تعاون دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here