سائنا نہوال پر چڑھا رنگ زعفرانی۔بی جے پی میں شامل

0
224
بیڈ منٹن کی مشہور کھلاڑی سائنانہوال بی جے پی میں شامل

یڈ منٹن کی مشہور کھلاڑی سائنانہوال بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔ہریانہ میں پیداہوئی 29سالہ سائنا نہوال، حیدرآبادمیں رہتی ہیں۔وہ ہندوستان میں مشہور کھلاڑیوں میں شمار کی جاتی ہیں اور ان کے مداحوں کی تعداد بھی کافی ہے۔سابق نمبر ون کھلاڑی کو کھیل میں ملک کے سرکردہ ایوارڈس راجیو کھیل رتن اور ارجن ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔انہوں نے 24بین الاقوامی خطابات پر اپنا قبضہ جمایا۔لندن اولمپکس میں انہوں نے برونز میڈل حاصل کیاتھا۔نہوال 2009میں عالمی نمبر دو کھلاڑی رہ چکی ہیں اور 2015میں انہوں نے ورلڈ نمبرون کھلاڑی کا مقام حاصل کیا تھا۔

دہلی الیکشن میں ہوسکتی ہےسائنا کی شمولیت

سائنا نہوال کی بی جے پی میں شمولیت دہلی انتخابات سے پہلے ہوئی ہے۔گزشتہ سال کئی کھلاڑیوں بشمول کرکٹر گوتم گمبھیر،ببیتا پھوگاٹ نے بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ہریانہ انتخابات سے پہلے ریسلر سشیل کمار اور ببیتا پھوگاٹ نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ان کے ساتھ ہاکی ٹیم کے کپتان سندیپ سنگھ بھی بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔سنگھ کو انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر بنایاگیا ہے۔آج سائنا نہوال کے ساتھ ان کی بہن چندرن شو نے بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ کی موجودگی میں سائنا نہوال نے اپنی بہن کے ساتھ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔اس موقع پر ان کو گلدستہ پیش کیاگیا اور پارٹی کا کھنڈوا پہنایاگیا۔

میں مودی کو ان کے کاموں کو پسند کرتی ہوں

امکان ہے کہ بی جے پی،سائنا نہوال کی خدمات دہلی اسمبلی کے انتخابات کی مہم میں حاصل کرے گی۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نہوال نے کہا ”میں نے ملک کے لئے میڈلس جیتے ہیں۔میں کافی سخت محنت کرتی ہوں اور میں سخت محنت کرنے والوں کو پسند کرتی ہوں۔میں نے یہ دیکھا ہے کہ وزیراعظم مودی نے ملک کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔میں ان کے ساتھ مل کر ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔مجھے نریندر سر سے کافی جذبہ حاصل ہوتا ہے۔“نہوال نے کہا کہ ان کے لئے یہ سب کچھ نیا ہے لیکن انہیں سیاست کا علم رکھنا اچھا لگتا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے کھیل کود کے فروغ کے لئے کافی کام کیا ہے۔کھیلو انڈیا ایسا پروگرام ہے جس میں کافی حد تک کھلاڑی حصہ لیتے ہیں،کامیاب ہونے والوں کو بڑی بڑی اکیڈیمیوں میں شمولیت اور ملک کیلئے کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم مودی کی ستائش میں قبل ازیں کئے گئے نہوال کے ٹوئیٹس سے یہ سمجھاجارہا تھا کہ ان کا جھکاو زعفرانی جماعت کی طرف ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here