سچن پائلٹ پرجوش، کہا:کانگریس راجستھان میں اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی

0
7

راجستھان کانگریس کے صدر سچن پائلٹ کے چہرے پر خوشی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کے ساتھ کہا کہ کانگریس اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔
جےپور،11دسمبر(یواین آئی)راجستھان کے سابق وزیراعلی اشوک گہلوت نے عوامی حمایت کانگریس کے حق میں بتاتے ہوئے دعوی کیا کہ اب رجحانوں سے واضح ہوچکا ہے کہ ریاست میں کانگریس مکمل اکثریت سے حکومت بنائے گی۔ادھر گہلوت نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی سے ملے رجحانوں کے بعد آج یہاں میڈیا سے کہا کہ کانگریس کو مکمل اکثریت ملے گی لیکن اس کے باوجود کوئی آزاد امیدوار یا دیگر پارٹیوں کا جیتا ہوا امیدوار حکومت کی حمایت کرنا چاہے تو ان کا استقبال ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔اس الیکشن میں جو ماحول بنا ہے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بھی تبدیلی ہوگی،کیونکہ بی جےپی کے ذریعہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔
سچن پائلٹ نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ووٹوں کی گنتی کے رجحان سے واضح ہوچکا ہے کہ کانگریس ریاست میں مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ پائلٹ نے ووٹوں کی گنتی کے رجحانات کے بعد آج یہاں میڈیا سے کہا کہ اگرچہ حتمی نتیجہ آنے تک انتظار کرنا چاہیے لیکن جس طرح کے رجحان مل رہے ہیں اس سے راجستھان سمیت مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ تینوں ریاستوں میں کانگریس کی حکومت بننا طے ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کانگریس کارکنوں اور عوام کی جد وجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام بی جے پی حکومت سے گزشتہ پانچ برس سے پریشان رہے ہیں جس سے ان میں غصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ جن معاملوں پر ہم نے جد وجہد کی ، ان پر عوام نے اپنی مہر لگائی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہی راہل گاندھی کانگریس کے صدر بنے تھے اور آج تین ریاستوں میں کانگریس کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ ان کے لئے اس سے اچھا تحفہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی اور کانگریس کے دیگر لیڈران کے عوام کے معاملوں کے ساتھ انتخابی تشہیر میں اترنے کا اثر بھی رہا ہے۔
جبکہ گہلوت نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے گجرات الیکشن کے وقت بھی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امت شاہ کو ان کی آبائی ریاست میں عوام کے مسئلوں پر اس طرح گھیرا تھا کہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں بچا تھا۔حالانکہ مسٹر مودی کی زبان کی وجہ سے وہ وہاں الیکشن جیت گئے۔انہوں نے کہا کہ اب راجستھان ،مدھیہ پردیش اورچھتیس گڑھ انتخابات میں بھی مسٹر گاندھی نے بدعنوانی ،مہنگائی اور دیگر عوامی مسئلوں کو اٹھایا اور انہیں عوامی کی حمایت ملی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here