روہنگیا برمی مسلمان دنیا کی مظلوم ترین اقلیت ہیں: مولانا غیو راحمد قاسمی

0
50

موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے
دہلی واطراف دہلی میں پناہ گزیں برمی مسلمان اصحاب خیر کی امداد کے منظر

نئی دہلی: نورانی مسجد کجھوری میں برمی مہاجرین کی امداد اور خبرگیری کرنے کے لئے مولانا غیور احمد قاسمی کی قیادت علماء کرام کا وفد پہونچا اور ان لوگوں میں اصلاح معاشرہ تعلق سے بیان کیا مولانا اسلام الدین قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء دہلی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی زندگی کو اسلامی طریقہ پر گذارنا ہے برائیوں اور جھگڑوں سے دور رہنا ہے اپنے پاس پڑوس میں اخلاقی نبوی کو پھیلانا ہے اور بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے قاری محمد ہارون اسعدی نے کہا کہ دہلی واطراف دہلی میں رہ رہے برمی مہاجرین کی دینی خبر گیری کرنا اس حلقہ کے مدارس اور مساجد کے ذمہ داروں پر فرض ہے ان حضرات کو اپنی مساجد اور مدارس سے وابستہ کریں تاکہ یہ حضرات دینی ماحول میں زندگی گذاریں معروف عالم دین مولانا غیور احمد قاسمی نے کہا کہ روئے زمین پر برمی مسلمان سے زیادہ کوئی پریشان وبے حال نہیں ہے دنیا بھر میں یہ لوگ بے وطن اور زمین قوم ہے ہر مسلمان پر ہی نہیں بلکہ انسانیت کے ناطے ہر انسان پر ان کی حمایت اور مدد لازم ہے تاکہ انسانیت کا احترام باقی رہے اور دنیا میں امن وامان کی فضاہموار ہو انہوں نے کہا کہ برمی پناہ گزینوں کی ضروریات کو نظر انداز نہ کریں ہر مسلمان صاحب خیر کو اس مشکل گھڑی میں ان حاجت مندوں کی مدد کرنی چاہئے ان لوگوں کی بے روزگاری کیوجہ سے گذر بسر مزید مشکل ہوگئی ہے یہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زندگی کی گاڑی کھنچنے کے لئے تگ ودو میں مصروف ہیں شریعت اسلامی کا اہم سبق ہے کہ مسلمانوں کو مسلمانوں کا سہارا بننا ہے۔ہمارے دین ومذہب نے ہمیں بتایا اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات وسیرت نے ہمیں سکھایا ہے کہ سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے، لوگوں کے دلوں میں خوشیاں بھرسکے، ان کی زندگی کے لمحات کو رنج وغم سے پاک کرسکے اور چند لمحوں کے لئے ہی کیوں نہ ہو انہیں فرحت ومسرت اور شادمانی فراہم کرکے ان کے درد والم اور حزن وملال کو ہلکا کرے، انہیں اگر مدد کی ضرورت ہوتو ان کی مدد کرے او راگر وہ کچھ نہ کرسکتا ہوتو کم ازکم ان کے شاتھ میٹھی بات کرکے ہی ان کے تفکرات کو دور کرے، اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’بہترین انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کے لئے نافع ومفید ہو، جب انسان کسی انسان کی مدد وحاجت روائی کرتا ہے تو فطری طور پر دونو ںکے درمیان اخوت وبھائی چارگی کے جذبات پیدا ہوتے اور الفت ومحبت پروان چڑھنے لگتے ہیں، اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: والذی نفسی بیدہ لا یؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ (بخاری، ایمان) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ جب کوئی مسلمان کسی دوسرے کے کام آتا، اسے فائدہ پہنچاتا اور اس کی کسی مشکل کو دور کرکے اسے راحت وسکون بہم پہنچاتا ہے تو خو داپنے اندر فرحت وانبساط اور مسرت وانشراح محسوس کرتا ہے۔
واضح ہو حلقہ پسونڈہ سے ان لوگوں کے لئے گرم جیکٹ او ربچوں کے لئے نئے سوٹ دعوت وتبلیغ کے ذمہ دار حاجی محمد اقبال نمبردار اور حاجی قمر الدین صبح دین اور ان کے ساتھیوں نے کھجوری برمی مہاجرین کو ہدیہ کئے۔ اہم شرکاء,حاجی سعید الدین، نسیم احمد، مولانا تنویر قاسمی، قاری شاہنواز، حاجی رئیس احمد، حاجی محمد فاروق احمد، نور محمد اور محمد سلیم وغیرہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here