عرفان خان اور رشی کپور دو عظیم فنکار رخصت ہوئے۔ہم تو چلے پردیس

0
39
عرفان خان اور رشی کپور دو عظیم فنکار رخصت ہوئے۔ہم تو چلے پردیس
عرفان خان اور رشی کپور دو عظیم فنکار رخصت ہوئے۔ہم تو چلے پردیس

پرویز ملک ذادہ

کل عرفان خان اور آج رشی کپور چوبیس گھنٹے کے اندر دونوں اداکاروں کو ایک ہی مرض نے اپنا شکار بنایا ویسے بھی پچھلے ایک مہینے سے موت کا بازار اتنا گرم ہے کی کوئی ایسا دن نہیں جا رہا ہے جب موت کا ذکر نہ ہو رہا ہوں کرونا نے لاکھوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔۔۔ رشی کپور کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے تھا جس کے ذکر کے بغیر ہندی فلموں کی کوئی بھی تاریخ نہیں لکھی جا سکتی ہے ایک عظیم باپ کے بیٹے ہونے کے ناطے ان کو اپنا کیریئر بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی بحیثیت ہیرو ان کی پہلی فلم بابی تھی جس کے ہدایت کار ان کے والد راج کپور تھے اس فلم نے کامیابی کی نئی تاریخ لکھ دی اپنی پچھلی فلم میرا نام جوکر سے جو مالی نقصان راج کپور کو ہوا تھا اس کی بھرپائی بابی نے کر کردی کہا یہ جا سکتا ہے کی کی راج کپور نے اپنے بیٹے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھا دیا اب فلم انڈسٹری میں ٹکے رہنا اور اپنے کو ثابت کرنا رشی کپور کا کام تھا اور یہ کام انہوں نے بخوبی انجام دیا تقریبا 47 سال کا فلمی کیریئر اور بہت ساری ہٹ فلمیں اور ہر فلم میں دیکھنے والوں پر اپنی اداکاری کا اثر چھوڑنا رشی کپور کو اچھی طرح آتا تھا ان کی بہت ساری فلموں میں دوسرے اداکار بھی ہوتے تھے جیسے امیتابھ بچن ونود کھنا ششی کپور سنجیو کمار اور شتروگھن سنہا ان سب کے بیچ میں بھی رشی کپور دیکھنے والوں کا دھیان اپنی طرف کھینچ لیتے تھے
عرفان خان کی آنکھیں ان کی اداکاری میں ان کا بہت ساتھ دیتی تھی بولتی ہوئی آنکھیں تھیں اور بہت کچھ ان میں دیکھا اور سمجھا جا سکتا تھا۔ پچھلی دو دہائیوں میں جن دو اداکاروں کی آنکھوں نے مجھے بہت متاثر کیا ان میں اجے دیوگن اور عرفان خان تھے میرا یہ خیال ہے کی ان دونوں کی آنکھیں ان کی اداکاری میں ان کا بہت ساتھ دیتی تھی خوشی اور غم کا تصور ان دونوں اداکاروں کی آنکھوں سے ظاہر ہو جاتا تھا عرفان خان کے دور میں ہیں کچھ ایسے اداکار تھے جنہوں نے پانچ سو فلموں میں بھی کام کیا لیکن آپ ان کی فلمیں جو آپ کو یاد رہ گئی ہو انگلی پر بھی نہیں گن سکتے ہیں عرفان خان نے بالی ووڈ اور ہالی ووڈ دونوں ملا کر صرف 49 فلموں میں کام کیا لیکن اپنی اداکاری کا اثر انہوں نے کتنا چھوڑا اس کا اندازہ ہم سب صبح سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھ رہے ہیں لگاتار ان کی فلموں پر بات چیت ہو رہی ہے اور لوگ ان کے انتقال پر افسوس ظاہر کر رہے ہیں وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے لے کر ایک عام فلموں کا شوقین بھی ان کو یاد کر رہا ہے یہ ان کی ہر دل عزیزی کا کھلا ثبوت ہے

رشی کپور کے بارے میں میں یہ کہوں گا کہ ان کے چہرے کے تاثرات ان کی اداکاری کا خاصہ تھے اس کا ثبوت میں ایک فلمی سین کو بتا کر دوں گا بہت بڑے ہدایت کار بی آر چوپڑا نے ایک فلم بنائی تھی طوائف جو کی ایک مشہور اردو ناول بہت دیر کردی پر بنی تھی اس میں ایک سین ہے جو بہت سال گزرنے کے بعد بھی میں نہیں بھولا ہوں ایک سین میں فلم کے ہیرو رشی کپور فلم کی ہیروئن کو یاد کر رہے ہیں تقریبا پانچ منٹ کے اس سین میں رشی کپور کے چہرے پر جو تاثرات ہیں وہ غضب کےہیں طوائف رشی کپور کی شاندار فلموں میں سے ایک ہے جس کے لیے انہیں فلم فیئر کا بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ بھی ملا تھا اس کے علاوہ بدلتے رشتے، دوسرا آدمی، کبھی کبھی،رفو چکر،  قرض، امر اکبر انتھونی نصیب ،ہم کسی سے کم نہیں، زہریلا انسان ،جھوٹا کہیں کا، سرگم ،دیدار یار، اور ایک سال پہلے کی فلم ملک ان فلموں میں نبھائے گئے اپنے کرداروں کی وجہ سے رشی کپور ہمیشہ یاد کیے جائیں گے ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم تھی لیلا مجنوں لیلا مجنوں نام سے کی فلمیں پہلے بھی بن چکی تھی لیکن سب سے بڑی ہٹ رشی کپور کی لیلامجنوں تھی 47 سال فلموں میں اپنے کو ثابت کرنا یہ کسی معمولی اداکار کا کام نہیں ہو سکتا اداکاری ان کے خون میں تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عمر کے حساب سے تو نہیں لیکن فلموں میں کام کرنے کے حساب سے بہت لمبی پاری کھیلی رشی کپور ہندی فلموں کے پہلے اداکار تھے جنہوں نے 24 نئی اداکاراؤں کی پہلی فلم میں ہیرو کا کردار نبھایا اور ایک کے بعد ایک سپر ہٹ فلمیں دیتے رہے خوبصورت شخصیت کے مالک تھے قد کم تھا لیکن اس کے باوجود بھی اسکرین فیس غضب کا تھا اور اسمارٹ بھی تھے ان کی فلموں کے گانے بھی بہت ہٹ ہوتے تھے فلم سرگم میں مرحوم محمد رفیع کا گایا ہوا گانا مجھے یاد آرہا ہے
ہم تو چلے پردیس ہم پردیسی ہو گئے

چھوٹا اپنا دیس کہ ہم پردیسی ہوگئے
پرویز ملک زادہ
[3:59 PM, 4/30/2020] Parvez Malikzada:

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here