رمضان عبادت کے ساتھ دوسروں کے دکھ دردکااحساس پیدا کرنے والا مہینہ ہے

0
48
رمضان عبادت،کی ساتھ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس پیدا کرنے والا مہینہ ہے
ممبئی:ماہ رمضان عبادت،انسانیت،مساوات کے ساتھ ساتھ دوسروں کے دکھ دردکو محسوس کرنے والا مہینہ ہے ،اس میں ہمیں اللہ رب العزت کے احکامات کے تحت مختلف عبادات اور سنتوں کی ادائیگی کے ساتھ ہی ایسے مستحق افراد کا بھی خیال رکھنا چاہیے جوکہ کسی وجہ سے محروم ہیں۔ہمیں ضرورت مندوں کے ساتھ ہی ایسے اداروں اور تنظیموں کے لیے مالی اعانت کی فراہمی کے لیے منصوبہ بندی کرنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار عروس البلاد ممبئی سے تعلق رکھ نے والے علمائے کرام ،سماجی رہنماؤں اور مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات نے کیا ہے۔ان شخصیات میں صدرانجمن اسلام ڈاکٹر ظہیر قاضی بھی شامل ہیں۔ان کا خیال ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایسے بچے کو بھی کفالت کا قوم کو خیال رکھنا چاہئے جوکہ فیس دینے اورنصابی کتابیں خریدنے سے قاصر رہتے ہیں

ہمیں مختلف شکل میں مستحقین کی مالی اعانت کرنی چاہئیے :مسلمان معززین کا خیال

ممبئی:ماہ رمضان عبادت،انسانیت،مساوات کے ساتھ ساتھ دوسروں کے دکھ دردکو محسوس کرنے والا مہینہ ہے ،اس میں ہمیں اللہ رب العزت کے احکامات کے تحت مختلف عبادات اور سنتوں کی ادائیگی کے ساتھ ہی ایسے مستحق افراد کا بھی خیال رکھنا چاہیے جوکہ کسی وجہ سے محروم ہیں۔ہمیں ضرورت مندوں کے ساتھ ہی ایسے اداروں اور تنظیموں کے لیے مالی اعانت کی فراہمی کے لیے منصوبہ بندی کرنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار عروس البلاد ممبئی سے تعلق رکھ نے والے علمائے کرام ،سماجی رہنماؤں اور مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات نے کیا ہے۔ان شخصیات میں صدرانجمن اسلام ڈاکٹر ظہیر قاضی بھی شامل ہیں۔ان کا خیال ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایسے بچے کو بھی کفالت کا قوم کو خیال رکھنا چاہئے جوکہ فیس دینے اورنصابی کتابیں خریدنے سے قاصر رہتے ہیں۔
ڈاکٹر ظہیر قاضی نے مبارک مہینے کے لیے قوم مبارک پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عبادت کا مہینہ ہے ،اس کے ساتھ ہی اکثر اسی ماہ میں زکوةبھی زائد ثواب کی نیت اداکرتے ہیں،رمضان میں ایک صاحب حیثیت مسلمان دل کھول کر لوگوں کی امداد کرتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ اس کے غریب ومستحق رشتہ دار،آس پاس کے لوگ اور جاننے والے بھی اس ماہ کی برکتوں اور رحمتوں کا فیض حاصل کریں۔
انہوںنے کہا کہ ایک تعلیمی ادارے کے صدرہونے کی وجہ سے انہیں اس بات کا علم ہے کہ بہت سے لوگ اپنے بچوںکی تعیم کے اخراجات نہیں اٹھاسکتے ہیں،فیس کی ادائیگی اور کتابوںکی خریداری سے محروم رہتے ہیں،لیکن وہ زکوة بھی نہیں لینا چاہتے ہیں ،اس لیے ہمارے صاحب حیثیت افراد کو چاہئے کہ وہ ایسے خاندانوں کی بھی فیس اور نصابی کتابوںکی خریداری میں مدد کریں ۔ ڈاکٹر قاضی کے مطابق مسلمان ماہ مقدس میں جس طرح زندگی گزارتے ہیں ،اگر سال بھر یہی معاشرے میں یہی ماحول بنارہے تو دوسرے لوگ کہیں گے کہ اسلام اور اس کے ماننے والوں جیسا کوئی نہیں ہے۔
اس موقع پر ملت اسلامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاءبورڈ مجلس عاملہ کے سنیئر رکن حافظ سیّداطہرعلی نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ رمضان صبر وتحمل کا مہینہ ہے اور اس میں تقویٰ حاصل کرو۔اس لیے ہر ایک مسلمان کو چاہئے کہ ماہ مبارک میں نہ صرف صبروتحمل کا مظاہرہ کروبلکہ اس ماہ میں مسلمان اللہ کی رضا کے لیے عبادات اور فرض اداکرے گا اور اپنے چھوٹے بڑوںکا خیال رکھے گا تو اسے اپنے اندرتبدیلی محسوس ہوگی اور دینی جذبہ پیدا ہوگا۔ہمیں ہرحال میں اپنے آس پاس دبے کچلے افراد کا حوصلہ بڑھانا چاہئے اور ان کی مالی اعانت کرنا چاہئے ۔
اس سلسلہ میں ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشن کے صدرعامرادریسی نے کہا کہ ماہ رمضان سے دوتین روز قبل ہی ان کے ادارہ نے زکوة کی تقسیم کے سلسلہ میں ایک رپورٹ پیش کی ہے اور ایک ایسے منصوبہ پر جلد عمل پیراں ہوں گے ،جس کے تحت زکوة لینے والوں کو ان کے پیروںپرکھڑا کرکے انہیں زکوة دینے والا بنادیں اور یہ کوشش جاری رہیگی ۔اس موقع پر انہوںنے مطلع کیا کہ گذشتہ اے ایم پی پانچ برسوں سے زکوة کے مرکزی نظام کے لیے جدو جہد کررہی ہے تاکہ معاشی طور پر کمیونٹی کے پسماندہ افراد کی زندگیوں میں بہتری لائے جاسکے اور انھیں ”زکوة لینے والوں سے زکوة دینے والوں“ میں تبدیل کیا جاسکے، اورتنظیم گزشتہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے تعلیم اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے اور زکوة کے نظام کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر انہوں نے زوردیا۔تاکہ مستحق اور ضرورت محروم عام زندگی اور تہواروںکے موقعہ پر محروم نہ رہ جائیں۔
Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here