کیا راہل گاندھی کو شہریت ثابت کرنے کی ضرورت ہے؟؟؟

الیکشن کے وقت جو کرتب بازی اور بیان بازی ہوتی ہے وہ کبھی کبھی مضحکہ خیز سی لگتی ہے راہل گاندھی کی شہرہت پر بی جے پی کے ایم پی ڈاکٹر سبرامنيم سوامی نے سوال اٹھایا ہے انھوں نے ہوم منسٹری کو خط لکھ کر شکایت کی ہے کہ مسٹر گاندھی 2003 میں برطانیہ کے ہمپشائرمیں واقع ایک کمپنی کے بورڈ آف ڈائرکٹرز میں شامل تھے۔ کمپنی کی 2005 اور 2006 میں دائر سالانہ رٹرن میں مسٹر گاندھی کی تاریخ پیدائش 19 جون 1970 بتائی گئی ہے اور انہوں نے خود کو برطانوی شہری بتایا ہے. سال 2009 میں بھی اسی کمپنی کے دستاویزات میں مسٹر گاندھی کو برطانوی شہری بتایا گیا ہے. ڈاکٹر سوامی نے اسی تناظر میں وزارت  داخلہ کو  یہ شکایت کی تھی. وزارت نے شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے راہل کو نوٹس بھیجا ہے   سپریم کورٹ میں پہلے بھی یہ معاملہ گیا تھا مگر سپریم کورٹ نے اس کو خارج کردیا تھا
ہمیں اس بات پر بڑی حیرت ہے کیا گاندھی پریوار کو بھی اپنی شہریت ثابت کرنی ہوگی یہ وہ خاندان ہے جسکے بچے ہندوستان کی مٹی سے گندھے ہوئے ہیں اس خاندان نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو فرغ دینے میں قربانیاں دی ہیں ۔کسی کی پیدائش اگر اتفاق ۔سے کسی دوسرے ملک میں ہوجائے تو کیا اسکی شہریت بدل جاتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے