گلناز کے قاتلوں کو سزاکے مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئ کا مظاہرہ

0
35
گلناز کے قاتلوں کو سزاکے مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئ کا مظاہرہ
گلناز کے قاتلوں کو سزاکے مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئ کا مظاہرہ
گلناز کے قاتلوں کو سزاکے مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئی اور ڈبلیو آئی ایم کاراجستھان میں احتجاجی مظاہرہ
بہار کے ضلعی ویشالی میں زبردستی شادی کرنے سے انکار کرنے پر گلناز خاتون نامی معصوم لڑکی کو زندہ جلائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی اور ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM) کے اراکین نے کوٹہ مسجد چوراہا ویگن نگراور چھاؤنی میں زبردست احتجاجی مظاہر ہ کیا۔احتجاجی مظاہرین نے حکومت بہار سے مطالبہ کیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور عصمت دری کے مقدمات کو فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعے چلایا جائے اور مجرموں کو فوری طور پر سخت اور عبرتناک سزادی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات
کو روکا جاسکے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں ضلعی عہدیداران اور کارکنان شریک رہے۔
 قومی صدر مہرالنساء خان نے کہا کہ بہار حکومت مجرموں سے ملی ہوئی ہے۔ نتیش کمار کی ایما پر قاتلوں کو گرفتار کرنے میں بہار پولیس کی غفلت اور امتیازی سلوک پر انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی فوائد کیلئے مجرموں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ کیا اس معصوم بچی کے ساتھ انصاف صرف اس لئے نہیں ہوا کہ وہ مسلمان تھی؟۔ کیا وہ اس ملک کی بیٹی نہیں ہے؟۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ ملک میں این ڈی اے حکومت کی امتیازی پالیسیوں اور خواتین کے تحفظ میں ناکامی کی سخت مذمت کرتی ہے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر مہرالنساء خان نے مزید کہا ہے کہ بہار، اتر پردیش کے نقش قدم پر چل رہا ہے جہاں خواتین کے خلاف ہزاروں زیادتیوں کی اطلاع ملی ہے بہت سے معاملات میں حکومت سیاسی وجوہات کے بنا پر مجرموں کے خلاف مقدمہ چلانے کی زحمت گوارا نہیں کرتی ہے۔ بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں یہ عام بات ہے کہ عصمت دری کے واقعات بڑے پیمانے پر رونما ہورہے ہیں اور ملزمان استشنی سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ گلناز خاتون، ایک معصوم مسلم لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا ہے اور دوسری طرف بی جے پی ملک میں لو جہاد کے خاتمے کیلئے نعرے بلند کررہی ہے۔ ایک ہندو لڑکے سے شادی سے انکار کرنے پر ایک مسلمان لڑکی کو زندہ جلادیا گیاہے۔ یہ کیسی محبت  تھی جس میں ایک مسلمان لڑکی نفرت کا شکار ہوگئی
۔ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر مہرالنساء خان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ گلناز خاتون کے ساتھ ہونے والے اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس معاملے میں بہار پولیس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے کیونکہ انہوں نے صرف انتخابی فوائد کے خاطر اتنے سنگین جرم کو چھپا دیا تھا۔ مسنر خان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نتیش کمار اس خوفناک واقعے پر اب بھی خاموش کیوں ہیں۔ میڈیا بھی اس پر مکمل خاموش ہے اور کہیں سے بھی کوئی آواز نہیں اٹھائی جارہی ہے۔ وزیر اعظم کا نعرہ ‘بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ‘بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے، جہاں خواتین عصمت دری اور قتل کے واقعات کا شکار ہیں لیکن پولیس اور حکومت بے شرمی سے ان معاملات کو چھپانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ خواتین پر عصمت دری اور حملوں کے واقعات کے خلاف سخت قوانین نافذ کیا جائے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ صدر جمہوریہ سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ صدر ہند ریاستی حکومت کو ہدایت کریں کہ وہ خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت کیلئے قانون نافذ کریں۔
Article by SDPI on Gulnaz Live Burning
Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here