امریکی صدارتی انتخاب:  ایک سرمایہ دار کی جگہ دوسرا سرمایہ دار

0
66
امریکی صدراتی انتخاب:  ایک سرمایہ دار کی جگہ دوسرا سرمایہ دار
امریکی صدراتی انتخاب:  ایک سرمایہ دار کی جگہ دوسرا سرمایہ دار
امریکی صدارتی انتخاب:  ایک سرمایہ دار کوہٹا کر دوسرے سرمایہ دار کو لایا گیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار اور سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دیکر ڈیموکریٹک کے جو بیڈن امریکہ کے نئے صدر منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی جمہوری انتخابات جیتتا ہے اسے مبارکباد دی جانی چاہئے۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ امریکہ ایک سرمایہ دارانہ جمہوری ملک ہے، لہذا، امریکی سیاست بنیادی طور پر بائیں بازو کی سرمایہ دارانہ سیاست ہے۔ ایسے میں صدر ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکن، ان کی پالیسیوں میں زیادہ فرق نہیں آئے گا۔ ہم امریکہ کی داخلی سرمایہ داری کی سیاست، اس کی بین الاقوامی پالیسیوں اور اس کے نو آبادیاتی نقطہ نظر میں کسی بنیادی تبدیلی کی توقع نہیں کرسکتے ہیں۔ باراک اوباما کی صدارت جو ایک سیاہ فام ہیں ان کے صدر بننے پر امریکی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھی گئی تھی، اور وہ محض اپنی پارٹیوں سے قطع نظر اپنے سرمایہ دارانہ پیشرو کی راہ پر گامزن تھے۔ حتی کہ اوباما کے دور حکومت میں کمزور ممالک کو ختم کرنا اور فلسطین کے خلاف اسرائیل کی حمایت کرناوغیرہ سب کچھ بغیر تبدیلی کے جاری رہا۔ان حقائق کی بنا پر، کوئی بھی بیڈن کی حکومت میں بنیادی پالیسیوں میں تبدیلیاں دیکھنے کی امید نہیں کرسکتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے ا س بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ حقائق کے باوجود، ایک متشددنسل پرست، اقلیت مخالف انتہا پسند اور متعصب دائیں بازو کے حامی ڈونالڈ ٹرمپ کے بے دخل کئے جانے کا یقینا خیرمقدم کیاجانا چاہئے۔ یہ دوسرے تمام حکمرانوں کیلئے ایک سبق ہے جو انتہائی دائیں بازو اور اقلیت مخالف موقف اختیار کرتے ہیں۔ جو بیڈن کی کامیابی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اس طرح کی ظالم اور نسل پرست حکومتیں ہمیشہ کیلئے چلنے والی نہیں ہیں اور اس طرح کی انتہائی سخت پالیسیاں عوام کے مرضی کے سامنے ہمیشہ گر پڑے گی۔ امریکہ میں پہلی بار نائب صدر کے عہدے کیلئے کسی خاتون کا انتخاب ہی ایسا ہے جو عام انتخابات میں فرق پیدا کرتا ہے۔ ہندوستانی نژاد امریکی خاتون کملا ہارس کو منتخب صدر جو بیڈین نے امریکی نائب صدر منتخب کیا ہے۔ اگرچہ ہندوستانیوں کو کملا ہارس کا اس عہدے کیلئے انتخاب کئے جانے پر خوشی منانے کا موقع ملا ہے۔ لیکن جیسا کہ اس سے امریکہ کی نولبرل سرمایہ دارانہ پالیسیوں میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن، ہندوستانی نژاد خاتون کی امریکہ کے دوسرے اہم عہدے پر منتخب ہونے میں ہندوستانی سنگھیوں کیلئے ایک پیغام ہے۔ جو سونیا گاندھی کو اطالوی نژاد ہونے پر ان پر کیچڑ اچھا ل رہے تھے۔ جب کانگریس نے اکثریت حاصل کی تھی اور انہیں پارٹی کے لیڈر ہونے کے ناطے وزیر اعظم بنایا جانا تھا۔ امید ہے کہ نئے منتخب امریکی صدر ماضی سے سبق سیکھیں گے اور امن و ہم آہنگی والی دنیا کیلئے کوشش کریں گے۔
ایس ڈی پی آئی)  قومی صدر ایم کے فیضی)
sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here