راستے میں توڈا دم۔بھوکا پیاسا مزدور گھر والوں کو کہتا رہا ۔لینے آجائو

حکومت کے اچانک لاک ڈائون کے فیصلے نے پورے ملک میں ہا ہا کار مچادی۔غریب مزدور پیدل ہی گھروں کے لئے نکل کھڑے ہوئے, ایسے ہی ایک شخص رنویر نے اپنا سفر شرو ع کیا تو کئی لوگ ساتھ تھے ۔ رنویر دہلی کے ایک ریستوراں میں کام کرتا تھا لاک ڈائون کے سبب جب وہ بند ہوا تو رنویر کو رہنے کھانے کے لالے پڑنے لگے اور اس نے پیدل ہی جانے کی سوچی لیکن آدھے راستے میں ہی اسکی طبیعت خراب ہونے لگی، وہ دہلی سے اپنے گائوں کیلئے پیدل ہی چلا تھا ۔ صبح آگرہ پہنچنے کے بعد اس نے سینے میں درد کی شکایت کی ۔ ہفتہ کی صبح ساڑھے چھ بجے سکندرا تھانہ حلقہ میں سڑک کے کنارے ہی اس کی موت ہوگئی ۔ ان کے رشتہ دار موت کی وجہ بھوک اور پیاس بتا رہے ہیں ۔ جبکہ سکندرا تھانہ انچارج کلدیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہے۔اسی دوران ایک انگریزی اخبار نے اس شخص کی آڈیو کال کا بھی ذکر کیا ہے جسمیں وہ اپنے گھر والوں سے بات کر رہا ہےا س آڈیو کال میں ایک طرف سے آواز آرہی ہے کہ کسی سے کہو کہ وہ تمہیں مورینا تک لفٹ دے دے ۔ پھر آواز آتی ہے کہ 100 نمبر پر کال کرو ۔ کیاں وہاں کوئی ایمبولنس ہے ؟ کیا وہ تمہیں یہاں تک چھوڑ سکتا ہے ۔ پھر ایک بریک کے بعد رنویر کہتا ہے کہ اگر لینے آسکتے ہو تو آجائو ۔اس کی خبر بعد میں پولیس نے گھر والوں تک پہنچائی ۔یہ ہے بنا غریبوں کی سوچے سمجھے کسی بھی فیصلے کا نتیجہ ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلے اعلان ہوتا پھر کچھ وقت کی مہلت دی جاتی تاکہ لوگ اپنے گھروں کو پہنچ جاتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے