شعری مجموعہ ” آئینہ” شاعرہ :ڈاکٹر مینا نقوی: (اجمالی جائزہ)

0
92

 

 

 

 

 

 

 

 

اسلم چشتی (پونے) انڈیا
چیئرمین ” صدا ٹوڈے” اُردو نیوز ویب پورٹل
sadatodaynewsportal@gmail.com
www.sadatoday.com
09422006327
ڈاکٹر مینا نقوی عصری شعری دنیا کا ایک چمکتا دمکتا نام ہے – مشاعروں اور رسائل کے حوالے سے ان کا تخلیقی کام ہمیشہ پسندیدہ نظروں سے دیکھا گیا ہے – پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر (طبّی پریکٹس) ہیں لیکن ان کا شوق شاعری ہے یہ شوق ان کا فن بھی ہے – لفظوں کا فن جس کے ذریعے یہ اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہیں – اُردو اور ہندی میں ان کے شعری مجموعے شایع ہو کر پسندیدگی کی سند پا چکے ہیں – ان کتابوں پر انعامات بھی مل چکے ہیں – جن میں غالب انسٹی ٹیوٹ کا دی بیسٹ شاعرہ 2018.ء ایوارڈ زیادہ اہمیت کا حامل ہے – ڈاکٹر مینا اُردو کے علاوہ ہندی، انگریزی اور سنسکرت کی بھی گریجویٹ ہیں اس لیے ان کا مطالعہ اُردو ادب کے دائرے سے نکل کر دیگر زبانوں کے ادب کا بھی ہے – یہی وجہ ہے کہ ان کے ذاتی تجربات اور مشاہدات کے ساتھ مُطالعہ کی وسعت نے ان کے شعری فن کو جلا بخشی ہے – ڈاکٹر مینا نے افسانے بھی لکھے ہیں اور مقالے بھی ۔کتابوں کے پیش لفظ بھی اور انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کتابوں پر تبصرے بھی کئے ہیں – یہ سب نثری خدمات اپنی جگہ لیکن بحیثیت شاعرہ ان کی شہرت بام پر پہنچ چُکی ہے – اسی حوالے سے ان کی شناخت بھی ہے – میں ان کے شعری فن کا قائل ہوں – یہ بہت اچھّے شعر کہتی ہیں – سُخن سے پیار ہے اسی لیے یہ اپنے فن کو جاوداں بنانے کے لیے کوشاں ہیں – ان کا ایک شعر ہے جس میں اس جذبے کا اظہار ہے۔
محبت اور سلیقہ سے زمانہ جس کو دہرائے
رہے مینا ترا اُسلوب اور فن جاوداں ایسا
صدق دل سے فن کی چاہ، لگن اور جدوجہد کا حاصل فنکار کو مل ہی جاتا ہے – ڈاکٹر مینا کو بھی مل رہا ہے – ان کے کہے اشعار مُحبت اور سلیقے سے دہرائے جا رہے ہیں – میرا مطلب ہے کہ ان کے کچھ اشعار شائقین میں بے حد مشہور ہیں – اور کچھ غزلیں تو ایسی ہیں جنہیں سامعین فرمائش کر کے سُنتے اور داد دیتے ہوئے نہیں تھکتے! مُجھے بھی ان کے بہت سارے اشعار اور غزلیں پسند ہیں – ایک غزل کا مطلع مُلاحظہ فرمائیں۔

رُت جو بدلی چار سو منظر نشیلے ہو گئے
پیڑ کی شاخوں پہ سارے پھل رسیلے ہو گئے

مترنّم بحروں میں احتیاط اور شوق سے غزل کہنے والی اس شاعرہ کا یہ نواں مجموعہ ہے – ” آئینہ” نام کے اس مجموعے میں غزلیں ہی غزلیں ہیں – کتاب کے نام کی طرح ان کے کلام کا انتخاب بھی خوبصورت ہے – ہر ورق کا غزل رنگ دلکش اور پُر اثر ہے – اب یہ تو ممکن نہیں کہ میں ہر غزل پر تاثرات رقم کروں – یہاں میں کچھ ایسے اشعار پیش کر رہا ہوں جو ڈاکٹر مینا کو ان کی ہمعصر شاعرات سے الگ ثابت کرتے ہیں۔

ابھی ہواؤں نے دستک مہک کی دی ہی نہیں
حقیقتوں سے بہت دور خواب موسم ہے

وہ سونپ جاتا ہے تنہائیاں مُجھے اکثر
مری انا کے تحفّظ کا کچھ خیال بھی ہے

پھر اس کی یاد کی دستک ہوئی درِ دل پر
پھر آسمان زمیں پر اُترنے والا ہے

یہ رنگوں کی دھنک اوڑھے ہوئے ہے
الگ کچھ بات ہے ہندوستاں کی

اختلافات کے کانٹے نہ مراسم میں اُگیں
چاہتی ہوں کوئی حل اس کا سجھائی دے جائے

اک مہک دامن میں آکر چھپ گئی
دل کا موسم بھی سہانا ہو گیا

کسی سے دوستی کے نام پر میں کانپ اٹھتی ہوں
یقیناً ایک دن مجھ کو مرا ڈر مار ڈالے گا

ان اشعار کو میرے ذوقِ سُخن کا پیمانہ بھی کہہ سکتے ہیں اور کم نظری کا اظہار بھی لیکن ان اشعار کے تاثرات قاری کے ذہن میں محفوظ ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں سبک رو ہوا کا لمس بھی ہے اور جذبات کی حدّت بھی اور بیان کی جدّت بھی! اسی کتاب میں اسی نوعیت کے اور بھی اشعار ہیں – ڈاکٹر مینا نے اپنے کمالِ فن سے نہ صرف اپنے قارئین اور سامعین کو متاثر کیا ہے بلکہ اپنے بزرگوں سے بھی دعائیہ داد لی ہے – ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں –
” ڈاکٹر مینا نقوی نے علالت کے سبب مراد آباد سے نوئڈا ہجرت کی لیکن انتہائی بیماری میں بھی قرطاس و قلم سے ان کا رشتہ برقرار ہے – مجھ سے ایک عرصے سے ان کا ادبی رشتہ ہے اور مُجھے یہ فخر ہے کہ وہ ایک قابلِ قدر شاگردہ ، شاعرہ اور ادیبہ ہیں – ڈاکٹر مینا نقوی میں شاعری ودیعت ہے – نئے اسلوب اور فنّی حوالے سے وہ ایک مُنفرد مقام رکھتی ہیں – وہ بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ ہیں لیکن نظم پر بھی اتنا ہی عبور رکھتی ہیں – جہاں سادہ و رنگین اور شیریں بیانی ان کی کامیابی کی راز داں ہوتی ہے – حق تو یہ ہے کہ ان کے نظم ، غزل کے رنگ سے ہی سرشار ہوتی ہے – بچپن سے ہی شاعری کے شوق نے مینا نقوی کو شاعری کے آسماں پر درخشاں ستاروں میں صفِ اوّل میں مقام عطا کیا ہے ”
( انور کیفی، ص 11، کتاب ہذا)
انور کیفی صاحب کے مندرجہ بالا الفاظ سند کا درجہ رکھتے ہیں ڈاکٹر مینا کی مشق خوب سے خوب تر کہنے کی کوششوں کا ثمر ہے جو ان کو ملا ہے – اس کے باوجود انہیں اطمینان نہیں فخر نہیں، سفر جاری رکھنے کا عزم اب بھی جواں ہے وہ” عکس ” عنوان کے تحت لکھے ہوئے اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں کہ” سفر پورا ہی کہاں ہُوا – ابھی تو دشت و صحرا کا اختتام ہی ہُوا ہے – ابھی تو تپتے ریگزاروں پر چلنے سے پاؤں کے آبلوں میں ہلکی سی خنکی کا احساس ہی ہُوا ہے ” ڈاکٹر مینا نے اپنے سُخن سطر کی بات جذباتی انداز میں کی ہے اس سے ان کے حوصلے کا اندازہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مینا اب بھی فعّال ہیں تخلیقی طور پر ان کا ذہن زرخیز ہے – زمانے کی بدلتی ہوئی اقدار سماجی و سیاسی تبدیلیوں کو وہ محسوس کرتی ہیں اور شعر کے سانچے میں اپنے احساس کو مقیّد کر دیتی ہیں اور قارئین و سامعین کو محسوس کرنے کی دعوت دیتی ہیں – ڈاکٹر مینا زندگی کے کسی ایک رُخ کی شاعرہ نہیں ان کی شاعری میں کئی جہتیں محسوس کی جا سکتی ہیں ثبوت کے طور پر چند اشعار پیشِ خدمت ہیں – مُلاحظہ فرمائیں۔

حقیقتوں پر نظر نہیں ہے، کوئی خبر معتبر نہیں ہے
کنیز تحریر ہو گئی ہے ، خوشامندانہ صحافتی ہیں

انا کے کانچ کو ٹھوکر سے چور کرتے ہوئے
رواں ہوں رشتوں کے دریا عبور کرتے ہوئے

امر ہو جائیں نفرت کے جہاں میں
مُجسم دونوں بن جائیں مُحبت

میں ملک بدر صبر تو کر سکتی ہوں لیکن
یہ دیکھنا ہے ظلم کی سرحد ہے کہاں تک

کرتا نہیں منصف کسی مجرم کی حمایت
جو حق کا طلب گار ہے عادل تو وہی ہے

مرے نصیب میں اس کی وفا نہیں نہ سہی
کسی کے دل پہ مرا اختیار تھوڑی ہے

ڈاکٹر مینا کی شاعری انسانیت شناسی اور مُحبتوں کی شاعری ہے – بقول عذرا نقوی ان کی شاعری میں درد کی کرچیاں تو ہیں لیکن ریزہ ریزہ ہوتی ہوئی عورت نہیں ہے یہ شاعرہ شکستہ دل تو ہے شکست خوردہ نہیں! عذرا نقوی نے ڈاکٹر مینا کی شاعری کے جس وصف کی نشاندہی کی ہے یہ وصف شاعرہ کو ان کی ہمعصر خاتون شعراء میں ممتاز اور مُنفرد قرار دینے کے لیے کافی ہے ۔
اسی کتاب کے ایک مضمون کے اقتباس پر میں اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں مُلاحظہ فرمائیں۔
” اسے حُسنِ اتفاق کہیے کہ مینا نقوی صاحبہ کے معاصریں خصوصاً جن سے ان کے قریبی روابط ہیں یا جو ان کے ہم وطن ہیں ان شعراء اور شاعرات کی کافی تعداد ایسی ہے جن کا کلام وقتاً فوقتاً پڑھنے کے مواقع میسر آتے ہیں ان کی اکثریت یک رنگی کا شکار ہے – موضوعات فرسودہ، جسے نہ قدامت میں شمار کیا جا سکتا ہے نہ جدیدیت کا پرتوگردانہ جا سکتا ہے – اس کے بر عکس مینا نقوی کے ہاں زبان و بیان کی حلاوت کے ساتھ ساتھ اسلوب سے ندرت بھی آشکار ہے – لہجہ بسا اوقات محرومی کی چغلی ضرور کھاتا ہے مگر لب شکوہ سے نا آشنا ہیں – قاری کو لگتا ہے ہر مصرعہ ہر شعر ہر غزل اپنی تکمیل کی جانب رواں دواں ہیں – یہ لفظی محرکات روحانی تحرک کے غمّاز ہیں – یہی تحریک تحریر کی تا دیر بقا کی ضامن ہوا کرتی ہے – ہماری دعا ہے کہ مینا نقوی صحت و سلامتی کے ساتھ یونہی معاشرے کو آئینہ دکھا کر حقیقت کا پرچار کرتی رہیں ”
( علی مزمل( کراچی پاکستان) ، ص 16 کتاب ہذا)
Aslam Chishti Flat No 404 Shaan Riviera Aprt 45 /2 Riviera Society Near Jambhulkar Garden Wanowrie Pune 411040 maharashtra aslamchishti01@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here