ایک فلسطینی ویڈیو کا آزادترجمہ

.عمران عاکف خان،نئی دہلی
ہمنا،رانیہ اور محمود تین چھوٹے بچے محلے کے چوک میں گلی ڈنڈا کھیل رہے تھے۔ وہیں سے اسرائیلی آرمی کی ٣٣ ویں بٹالین کے دو فوجی گزرہے تھے۔ معصوم محمود نے جیسے ہی گچی سے گلی اچھالی۔ وہ ایک فوجی کی گردن پر جا لگی۔۔فوجی کسی زہریلے ناگ کی مانند پھنکارا اور شرمناک گالیاں دیتا ہوا ان تینوں معصوموں کی طرف بھاگا۔ اس کے ساتھی نےبھی اس کی تقلید کی۔ معصوم بچوں نے جب یہ دیکھا تو جان بچانے کےلیے بھاگ پڑے۔ پھر جس کا جدھر سینگ سمایا،وہ وہاں جا چھپا۔ مگر محمود کو دشمن نے نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔ دونوں فوجی اس کے پیچھے اس طرح بھاگ رہے تھے جیسے یوسف کے پیچھے اس کے بھیڑیے صفت بھائی بھاگ رہے ہوں۔ محمود چند گلیاں کراس کرتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوا،فوجی بھی اس کے پیچھے تھے۔ محمود کی ماں آسیہ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو گھبرا گئی اور شدت جذبات میں”منے”۔۔۔”منے” پکارتےہوئےاسے اپنے سینے سے چمٹا لیا۔
فوجیوں نے جب ایک ساتھ دو شکار دیکھے توسفاکی کے ساتھ ساتھ ان کی ہوسناکی بھی جاگ گئی۔ انھوں نے بغیر دروازہ بندکیے آسیہ کو مضبوط بازوئں میں لے کر زمین پر گرادیا۔ننھے محمود نے کچھ جدوجہد کی تو اسے بندوق کا ایسا ہینڈل ماراکہ وہ چیخ مارتا ہوا ڈھیر ہوگیا۔۔۔۔محمود کی ماں "ارحمنی ارحمنی”چلا رہی تھی مگر سفاک اس کے بدن کا ایک ایک استر اکھیڑ رہے تھے۔آخر آسیہ نے ہاتھ پیر ڈھیلے چھوڑدیے،وہ بے ہوش ہوچکی تھی اور ظالم فوجی اس کے ٹھنڈے گوشت سے اپنی ہوس پوری کررہے تھے۔دوسری طرف محمود روح سے عاری جسم لیے پڑا تھا۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے