آن لائن مشاعرہ قیصر اکیڈمی علی گڑھ۔کی جانب سے

0
38
آن لائن مشاعرہ قیصر اکیڈمی علی گڑھ۔کی جانب سے
آن لائن مشاعرہ قیصر اکیڈمی علی گڑھ۔کی جانب سے

آن لائن مشاعرہ اس لاک ڈاون میں ہونا بڑی بات ہے  بلکہ دیکھا جائے تو اس کووڈ نے سب سے ذیادہ آن لائن مشاعرہ کو ہی فروغ دیا ہے ۔لیکن یہ آن لائن مشاعرہ جب علی گڑھ جیسی زمین پر ہو تو کیا بات ہے

علامہ قیصر اکیڈمی علی گڑھ کی جانب سے ایک آن لائن مشاعرے کا انعقاد زوم پر کیاگیاجس کی صدارت معروف استادشاعر مسرور جوہرؔ امرہوی نے کی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے بھوپال سے تعلق رکھنے والے منفرد لب و لہجے کے شاعر اور کئی کتابوں کے خالق ثروتؔ زیدی شامل ہوئے۔جب کہ نظامت کے فرائض سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی نے انجام دئیے۔اس موقع پر پروگرام کے منتظم ڈاکٹر رضیؔ امروہوی نے کہا کہ ’’آج کل ساری دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے ایک وحشت پھیلی ہوئی ہے انسان انسان سے دوری اختیار کئے ہوئے اور ہر طرف ایک ایسا ماحول ہے جس میں انسان نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہا ایسے ماحول میں ادب یعنی شعر و سخن ہی ہے جس کے سائے میں انسان قلبی سکون حاصل کر سکتا ہے۔اسی فکر کے تحت ہم نے اس آج ایک ادبی شام کا انعقاد کیا جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے شعراء نے شرکت کی ہے۔یقیناً ایسے پروگرام ادب کے فروغ کی ضمانت ہیں‘‘قارئین کے لئے منتخب اشعار حسبِ ذیل ہیں:
کوئی تو ہو جو دریچے تازہ ہوا کے کھولے
کوئی تو ہو جو کہے فضا میں گھٹن بہت ہے
مسرورؔ جوہر امروہوی
منہ تکا کرتے ہیں بازار میں بکنے کے لئے
زندگی اپنی ہے اردو کے رسالوں کی طرح
ثروتؔ زیدی بھوپالی
بوسے کو جب کہا تو یہ بولے جواب میں
بلی کو چھیچھڑے نظر آتے ہیں خواب میں
ڈاکٹر رضیؔ امروہی
مری زبان پہ اک پیاس کا تلاطم ہے
یہی بہت ہے سمندر کے ڈوب جانے کو
سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی
کیسے پہچانے بھلا اس دور کے لوگوں کو ہم
ہر کسی کے چہرے پر اک دوسرا چہرہ بھی ہے
سید علی عباسؔ نوگانوی
خوشی کے موتی میں چن رہا ہوں غموں کے گہرے سمندروں میں
یہ راس آئیں نہ آئیں مجھ کو مگر میں تیراک بن گیا ہوں
سکندرؔ امروہوی
پروگرام کو کامیاب بنانے میں معروف نوجوان شاعر و ناظم شیبان قادری کا اہم کردار رہا انھیں کی کاوشوں کی وجہ سے پروگرام کی نشریات کا مرحلہ آسان ہوا۔آخر میں ڈاکٹر رضیؔ امروہوی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here