تبلیغی جماعت کا آفیشیل بیان ۔مولانا سعد فرار نہیں ۔کہاں ہیں مولانا ؟ جانئے پوری خبر

0
264
تبلیغی جماعت کا آفیشیل بیان ۔مولانا سعد فرار نہیں ۔کہاں ہیں مولانا ؟ جانئے پوری خبر
تبلیغی جماعت کا آفیشیل بیان ۔مولانا سعد فرار نہیں ۔کہاں ہیں مولانا ؟ جانئے پوری خبر

کورونا وائرس کے اس پرآشوب وقت میں جبکہ پوری دنیا لاک ڈائون میں ہے اور تھم گئی ہے ایسے میں ہمارے ملک میں بھی اچانک لاک ڈائون کا اعلان ہوا ۔جو کہ مناسب نہیں تھا ۔ہونا یہ چائے تھا کہ کم سے کم 24 گھنٹےکی مہلت دی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس کے نتیجے میں آنند وہار میں جو نظارہ نظر آیا وہ سب نے دیکھا اب بات ہے تبلیغی جماعت کی ،22 مارچ کو ہی تبلیغی جماعت نے اپنی سرگرمیوں پر روک لگا دی تھی۔ تاہم بہت سارے لوگ جنتا کرفیو اور بعد میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہاں پھنس گئے تھے جن کو بعد میں نکالا گیا۔اور جس کے بعد میڈیا کی الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس بیچ دلی پولیس کو بھی بتایا گیا اور مدد مانگی گئی۔ اسی دوران اس طرح کی بات لگاتار کہی جارہی ہے کہ تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا سعد فرار ہیں۔ لیکن اس معاملے میں تبلیغی جماعت کی جانب سے آفیشیل بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مولانا صاحب فرار نہیں ہیں بلکہ ایک ایف آئی آر دہلی پولیس کی طرف سے اس معاملے میں درج کی گئی ہے اور اس معاملے میں آرٹیکل 19کے تحت ایک نوٹس ضرور مولانا سعد کو ملا ہے جس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ مولانا فرار ہیں۔کیونکہ ان کے ترجمان شاہد علی ایڈووکیٹ نے بیان میں یہ صاف کیا ہے کہـ تبلیغی جماعت کی تمام سرگرمیاں رضاکارانہ بنیادوں پر ہیں۔ جماعت کسی سے بھی چندہ یا فنڈ حاصل نہیں کرتی اور نہ ہی اس کا سیاسی اور ہر کسی سے تعلق ہے۔میڈیا نے جو ذبان اس دوران استعمال کی ہے وہ بہت ہی ہتک آمیز ہے جبکہ تبلیغی جماعت سرکاری ایڈوائزری اور قوانین پر عمل آوری کرتی رہی ہے۔ اسی طرح جماعت حکومت کو اپنا تعاون دینے کو تیار ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 22 مارچ کو ہی تبلیغی جماعت نے اپنی سرگرمیوں پر روک لگا دی تھی۔ تاہم بہت سارے لوگ جنتا کرفیو اور بعد میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہاں پھنس گئے تھے جن کو بعد میں نکالا گیا۔ اس درمیان تمام اطلاعات اور جانکاری ایجنسیوں کو دی جاتی رہی۔ کسی طریقے سے بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔مولانا آئسولیشن میں ہیں ۔ان کی جانب سے جواب دیا جارہا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here