ڈاکٹرذاکر نائک کے لئے کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ امیش دیوگن کی ہمت بڑھی

0
94
ڈاکٹرذاکر نائک کے لئے کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ امیش دیوگن کی ہمت بڑھی
ڈاکٹرذاکر نائک کے لئے کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ امیش دیوگن کی ہمت بڑھی
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیے اگر ڈھنگ سے آواز اٹھائی گئی ہوتی تو آج دلال میڈیا، مولانا سعد اور  ۔خواجہ معین الدین چشتی کے بارے میں یوں منہ نہ کھولتا- ڈاکٹر ذاکر نائک کا کسی نے ساتھ نہیں دیا بلکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے وقت میں بریلوی حضرات خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔امیش دیوگن نے جب سے خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں تبھی سے عوام میں غم و غصہ ہے یہ آرٹکل بھی اسی غصہ کا اظہار ہے
  ڈاکٹر ذاکر نائیک کے وقت میں بریلوی حضرات خوشی سے نہ صرف یہ کہ پھولے نہیں سما رہے تھے، بلکہ علی الإعلان بھی مطالبہ کر رہے تھے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر پابندی لگے اور یہ کہ سلفی دہشت گرد ہیں، اور دیوبندی حضرات کھل کر مخالفت میں نہیں اترے لیکن خاموش تھے یا شاید اندر سے خوش تھے کہ چلو ذاکر نائیک جیسے اسلامی اسکالر سے پیچھا چھوٹا جو غیر مسلموں کو مسلمان کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی، ٹائی سوٹ اور انگریزی داں مسلم طبقے کو تقلیدِ شخصی سے آزاد کرکے ان میں قرآن و صحیح حدیث کا ذوق پیدا کر رہا تھا.
لیکن دیکھ لو، پہلے سلفیوں نے جھیلا، پھر دیوبندیوں نے، اور اب بریلوی حضرات پر میڈیا کی یلغار ہے، یہ آپ کی غلط فہمی ہوگی کہ میڈیا کی آپ کے بزرگان کے تعلق سے یہ پہلی اور آخری غلطی ہے، ابھی بس ہلکا سا جھٹکا دیا گیا ہے، میڈیا کا اب تک کا طرزِ عمل بتاتا ہیکہ آگے بھی اس طرح کی شرارتیں جاری رہیں گی.
ضرورت اس بات کی ہیکہ اندرون خانہ مسلکی اختلاف اور ایک دوسرے کے نظریات کا رد کرنے کے باوجود غیروں کی بدمعاشیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم سب متحد ہوں، وقت ابھی بھی زیادہ نہیں گزرا.
(کمال الدین سنابلی، دہلی)
Article by kamaluddin Sanabli
Amish Devgan took advantage
Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here