نہیں میں وہ نہیں ہوں ۔نئی عورت

0
32
نئی عورت!!! نہیں میں وہ نہیں ہوں!!
نئی عورت!!! نہیں میں وہ نہیں ہوں!!

نئی عورت

نہیں میں وہ نہیں ہوں!!
جسے تم مار دیتے ہو کبھی ماں کے شکم ہی میں
جسے تم پھینک آتے ہو کبھی کچرے کی ڈبے میں
کسی بچیّ کو تم اکثر نشیلی گولیاں دیکر
کہ اس کی عزت و عصمت کا دامن چاک کر تے ہو
نہ جانے کتنی شکلوں میں، بدل کر بھیس تم اپنا
شکاری بن کے نکلے ہو،
ہوس کے تم پجاری ہو
کسی کو بھی نہیں بخشا
کسی کو بھی نہیں چھوڑا
کسی بھی عمر کی ہو،ذات کی اور نسل کی ہو
تمہیں اس سے کوئی مطلب کہاں ہے!
تمہیں قاتل ہو بہنوں ماؤں کے اور بیٹیوں کے بھی
کبھی ماں کی دعائیں بھی مسل دیں تم نے پیروں سے
خدا کا خوف بھی تم کو کبھی چھو کر نہیں گزرا
نہ جانے کون سی بستی کے تم وحشی درندے ہو
کبھی تیزاب اور شعلوں سےتم شکلیں مٹاتے ہو
ہزاروں جسم خاک و خون کرکے رکھ دئے تم نے!!
مگر اب بس،
بہت کچھ کر چکے تم!
مجھے پہچان لو اب
کہ آخر کون ہوں میں
وہی میں جس کے قدموں میں کہا جاتا ہے جنت ہے
وہی میں پاک دامن جو تمہارے گھر کی زینت ہے
میں ہی تو ہوں کہ جس سے نسلِ انسانی پنپتی ہے
کہیں گر میں نہ ہوں تو ساری ہستی ہی بکھرتی ہے
میں حوا کی ہوں وہ بیٹی
میں شعلہ بھی میں شبنم بھی
بری نظریں اٹھاکر اب مجھے چھوکر تو دیکھو
جلا دونگی میں تم کو
مٹا دونگی میں تم کو تمہیں میں خاک کر دونگی
نیا یہ عزم ہے میرا
نیا یہ روپ ہے میرا
نہیں میں وہ نہیں ہوں!!!!!!!!!
شہناز رحمت۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here