مزدور.شہروں کے چھلےگائوں کو چلے.پاؤں میں پڑے چھالے ہیں بھلے

0
106
مزدور.شہروں کے چھلے گانوں کو چلے.پاؤں میں پڑے چھالے ہیں بھلے

کورونا نے مزدوروں سے بہت کچھ چھین لیا ۔لاک ڈاون کی وجہ سے ملک کا مزدور اپنے گائوں جانے کے لئے مجبور ہوگیا ۔وہ گائوں جہاں بھوک مری سے تنگ آکر شہروں کا رخ کیا تھا ۔مزدور بے بسی سے پیدل اپنے گھر کی چاہ میں نکل کھڑا ہوا ۔پڑھئے نظم مزدور

مزدور

شہروں کے چھلے گانوں کو
پاؤں میں پڑے چھالے ہیں بھلے
چلتے ہی رہینگے صبح تلک
جب تک نہ ملے ما ٹی کی مہک

ہم سے ہی ہوئی ہے بھول کہیں
پاؤں میں چبھے ہیں شول وہیں
ہم نے ہی سجائے شہر جہاں
ہم نے ہی بہائی نہر جہاں

گھر چھوڑ کے ہم جو جاتے نہیں
تو اسکی سزا بھی پا تے نہیں
بابا کے وہ سپنے ٹوٹ گئے
امّاں کے وہ ارماں روٹھ گئے

سب اپنے گھروں کے اندر ہیں
ہم جلتی۔ دھوپ۔ میں باہر ہیں
ہم پر ہے بھاری پہر سبھی
ہم پر ہی ٹوٹے قہر سبھی

ہم ہنس کے ستم کو سہتے رہیں
پردیس میں پھر بھی رہتے رہیں
دو روٹی کما کر کھاتے رہیں
اور کام تمہارے آتے رہیں

بس اتنی شکایت ہے ہمکو
مل جاتی جو کچھ مہلت ہمکو
ہم لوٹ کے گھر جو آ جاتے
تو منزل اپنی پا جاتے

ہے مانگ ہماری بس اتنی
کٹ جائے سکوں سے ہے جتنی
ہم کام وہیں پر کرینگے اب
ہم پاس ہی گھر کے رہینگے اب

اب کان پکڑ کھاتے ہیں قسم
جائینگے کبھی پردیس نہ ہم
ہم لوٹ کے آئینگے نہ کبھی
گھر چھوڑ کے جائینگے نہ کبھی

Nazm by Sajida Saba Mazdoor

Sada Today webportal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here