قربانی ۔ مجھ میں داڑھی اور چوٹی ڈھونڈھنے والو۔ سنودیش بھکت کا پیغام

0
71
قربانی ۔ مجھ میں داڑھی اور چوٹی ڈھونڈھنے والو سنو۔دیش بھکت کا پیغام
قربانی ۔ مجھ میں داڑھی اور چوٹی ڈھونڈھنے والو سنو۔دیش بھکت کا پیغام

قربانی مصداق آعظمی کی وہ نظم ہے جسمیں وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ مسلمان دیش بھکت ہیں اور غداری کرنے والے داڑھی چوٹی والے نہیں ہیں ۔قربانی نظم ایک احتجاج بھی ہےاور شاعر کا درد بھی۔قربانی نظم کا یہ پیغام ہر خاص و عام تک پہنچے یہی شاعر کی خواہش ہے

وہ کوٸ اواز تھوڑی ہیں فقط اک شور ہیں

جن کی نفرت کے ہدف اقبال اور ٹیگور ہیں

گلستانِ ہند کو ویران کرنے کے لۓ

بلبلیں ہر شاخ کی قربان کرنے کے لۓ

اپنی غداری چھپانے کا بہانہ چاہیۓ

ہندو مسلم کو لڑانے  کا بہانہ چاہیۓ

مجھ کو وہ تاریخ کے چہرے زبانی یاد ہیں

میر صادق اور پورنیا(1) کی جو اولاد ہیں

گرمیٕ تاریخ کے ہر باب جنکے سرد ہیں

مجھ سے بڑھ کر اس وطن کے اج وہ ہمدرد ہیں

مجھ میں داڑھی اور چوٹی ڈھونڈھنے والو سنو

اس طرح میری محبت کو نہ تم رسوا کرو

میں محبت کے لۓ مشہور ِ خاص وعام ہوں

حضرتِ ٹیپوؒ کی انگوٹھی پہ لکھا رام ہوں

گاندھی و ازاد کے جذبوں کا ہوں میں قدر داں

سانس مجھ میں لے رہا ہے اس لۓ ہندوستاں

میں بھگت سنگھ ہوں کہیں پر تو کہیں اشفاق ہوں

اک اندھیری کوٹھری کا میں دیا اور طاق ہوں

سر ہتھیلی پر لۓ مسرور اس بارے میں ہوں

میں ہی ازادی کے ہر اک گونجتے نعرے میں ہوں

سرفروشی کی تمناٶں کو لیکر پر سکوں

ریشمی رومال بھارت چھوڑ دو تک میں بھی ہوں

کالے پانی کی سزا دی جاۓ یا پھانسی مجھے

زندگی سے بڑھ کے ہے یہ میری ازادی مجھے

ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں زمیں تھی ہی نہیں

ہوں مگر شامل ان اہلِ باغ جلیاں میں کہیں

ہر گلی ہر موڑ ہر رستے پہ ہیں میرے نشاں

لی ہے میں نے خون کے بدلے ہی ازادی یہاں

چاند بی بی لکچھمی باٸ بھی مجھ کو یاد ہیں

اور وہ انگریز ہرجاٸ بھی مجھ کو یاد ہیں

کچھ نہیں بھولا ہوں میں سب یاد ہے سب یاد ہے

اج بھی اپنی کہانی سے مرا دل شاد ہے

میں ہی میں شامل ہوا ہوں اسکی صبح و شام میں

ہند ہندوستان بھارت جیسے اچھے نام میں

قومی یکجہتی سلامت ہے اسی کی لے کےاڑ

باب مسجد کا ہوں میں ہی مندروں کا  ہوں کواڑ

سرحدوں پر ایک مدت  سے تو ہوں میں ہی کھڑا

سنتری بن کر ہمالہ کی طرح اونچا بڑا

ہوں ازل سے اج تک گنگ و جمن کا پاسباں

میں ہی میں ہوں عید دیوالی دشہرے میں یہاں

اس وطن کے واسطے اعزاز کے قابل ہوں میں

ہے ترنگے کی قسم ہر رنگ میں شامل ہوں میں

کیا یہ کم ہے آسماں کو آسماں کہتے ہیں لوگ

میری قربانی کو نقشِ جاوداں کہتے ہیں لوگ

پورنیا پنڈت بھی میر صادق  ہی کی طرح سلطان ٹیپوؒ کے ساتھ غداری میں ملوث تھا یہ اور بات ہے کہ تاریخ نویسوں نے پورنیا پنڈت جیسے غدار کو عوام سے پوشیدہ رکھا

مصداق اعظمی

موضع جوماں

پوسٹ مجواں۔پھولپور

ضلع۔اعظمگڈھ یو پی

276304

9451431700

Nazm qurbani by Misdaq aazmi

Sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here