فٹ پاتھ پر سونے والا نوشاد بنا موسیقی کاشہنشاہ۔

0
82
فٹ پاتھ پر سونے والا نوشاد بنا موسیقی کاشہنشاہ۔
فٹ پاتھ پر سونے والا نوشاد بنا موسیقی کاشہنشاہ۔

کئی حوالوں سے بھارت کے شہر بمبئی کی دنیا بھر میں شہرت ہے۔ دراصل اس ایک شہر میں کئی دنیا آباد ہے۔ کئی قسم کے کاروبار کے حوالے سے اس شہر کی اہمیت تو ہے ہی، ساتھ ساتھ اردو، ہندی اور مراٹھی زبانوں کے علاوہ اور بھی کئی زبانوں کی فلمی دنیا کا بڑا مرکز بھی ہے۔ ساحل سمندر پر بسا، پہاڑیوں سے گھیرا ہوا یہ شہر ہر لمحہ جاگتا رہتا ہے۔ رنگ و نور، قمقموں اور قہقہوں سے ہر وقت سجا یہ عروس البلاد بے شمار بئیر بار، بھیڑ بھری ریل گاڑیاں، ٹریفک کا شور اور بے ترتیب آبادی کا بل بھی اپنے ماتھے پر برداشت کرنے کو مجبور ہے۔یہ سچ ہے کہ بمبئی شہر ہر وقت جاگتا رہتا ہے۔ ملک کی مجموی ترقی میں اس شہر کا بہت بڑا دخل ہے۔ یہ بھی ایک سچ ہے کہ اس شہر کی رنگینیاں، خوبصورتیاں اور عجائب خانے غیر مقامی ہنر مندوں، فنکاروں اور ساہوکاروں کی مرہون منت ہیں۔ ان غیر مقامی ہنرمند لوگوں نے وزارتوں، سفارتوں، صنعتوں، تجارتوں کے ساتھ ساتھ دلوں اور خوابوںپر بھی راج کیا ہے ۔ ادب ، صحافت،ٖفلم، مصوری، اور موسیقی کی دنیا کے قریب قریب سبھی بڑے نام بر صغیر کے دور دراز کے علاقوں سے سفر کر کے عروس البلاد و خواب نگر بمبئی پہنچتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ یہاں قیام کرنے کے بعد ان شخصیات نے اپنی محنت سے خوب نام کمایا اور پھر دولت کو بھی سجدے کروائے ۔ ان بے شمار ناموں میں ایک نام موسیقکار اعظم نوشاد علی کا بھی ہے۔
موسیقکار اعظم نوشاد علی کی پیدائیش ۲۵ دسمبر ۱۹۱۹ ئ؁کو یوپی کے شہر بھدوہی میں ہوئی تھی آپ کے والد کا نام وحید علی تھا، بچپن کے ایام لکھنو میں گزارے۔ پھر روزگاز کی تلاش میں آپ نے سن ۱۹۳۷ئ؁ میں بمبئی کا رخ کیا، پھر اسی شہر کو آپ نے اپنا مسکن بنا لیا جہاں۵ مئی ۲۰۰۶ئ؁ کو آپ نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔ چھ دہایئوں تک بھارتی فلم دنیا پر اپنی موسیقی کے ذرئیعہ حکومت کرنے والے لافانی موسیقی کے خالق نوشاد علی، بمبئی میں اس وقت وارد ہوئے ، جب زمانہ نہایت سست رفتار،لوگ نیک اور ایماندار تھے، موصوف کی عمر ۱۸ سال تھی لیکن عزم پختہ اور حوصلہ بلند تھا۔ آپ نے ایک انٹرویو میںاپنے عملی و فنی سفر کا یوں ذکر کیا ہے ۔۔۔۔۔
” میں ۱۹۷۳ئ؁ میں بمبئی آیا، جیب خالی تھی، کام نہیں تھا، رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا،لیکن دل میں جذبہ، حوصلہ اور لگن تھا۔خدا سے دعا کرتا تھا کہ کچھ بننا چاہتا ہوں تو مدد کر دے۔ دادر کے علاقے میں خوداداد سرکل تھا، وہاں براڈ وے ٹھیٹر بنا ہوا تھا، جو اب نہیں ہے، میں اس کے سامنے فٹ پاتھ پر آکر سوتا تھا۔ وہاں اس لئے سوتا تھا کہ براڈ وے کی روشنی اس فٹ پاتھ تک آتی تھی۔ اسی روشنی میں اپنا مستقبل تلاش کرتے کرتے نیند آ جاتی تھی۔ پھر وہی صبح اور وہی کام کی تلاش میں سرگرم۔ مشتاق حسین کے تھیٹر میں پیانو بجانے کا کام ملاپھر وہیں سے راہ کھل گئی۔ میو زک ڈایرکٹر خیم چند پرکاش کے اسسٹینٹ کے طور پرکام کرنا شروع کیا، ۱۶ سال بعد میری فلم “بیجو باور ا ” بے حد کامیاب ہوئی۔اس فلم کے نغمے کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اسی براڈوے تھیٹر میں اس کا پریمیر شو تھا ۔ فلم ساز بجئے بٹ ساتھ میں تھے۔میں نے تھیٹر کے سامے سے فٹ پاتھ کو دیکھا ، جہاں میں سویا کرتا تھا، میرے آنکھوں میں آنسو آگئے، وجئے بٹ نے حیرت ظاہر کی کہا یہ خوشی کا موقع ہے اور تم رو رہے ہو۔ میں نے کہا، اس فٹ پاتھ کو پار کرنے میں مجھے ۱۶ سال لگ گئیـ”
نوشاد علی نے موسیقی اور فلم کی دنیا میں جو احترام اور شہرت حاصل کیا وہ اب تک کی تاریخ میں صرف انہیں کا ہی کمال ہے۔ نوشاد کی موسیقی کو انڈین فلم انڈسٹری میں گراں قدر خزانے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ نوشاد علی کو ہارمونیم ، ستار،پیانو،تبلہ، بانسوری ، سارنگی اور شارنگی کے علاوہ

اوربھی کئی سازوں کو بجانے پر عبور حاصل تھا۔ ۱۹۴۰ میں آپ کی پہلی پہلی فلم” پریم نگر” سیمیں پردے پر آئی، جب کہ اکبر خان کیٹ Taj Mahal: An Eternal Love Story ۲۰۰۵ ئ؁ میں آخری فلم تھی، ہالانکہ یہ فلم بکس آفس پر بری طرح فلاپ ہو گئی تھی۔ نوشاد صاحب کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی، مجروح سلطان پوری جیسے اردو ادب کے بلند قامت شعرا کرام اپنے کلام پر نوشاد علی کی دھن کو فخر سمجھتے تھے،۵۵ سال کے لازوال فلمی سفر میں آپ نے قریب قریب ۷۰ فلموں کے لئے دھنیں ترتیب دیں۔ موسیقکار اعظم نوشاد علی کی تخلیق کردہ موسیقی پر محمد رفیع ، موکیش اور لتا منگیشکر جیسے اعلی و شہرت یافتہ گلوکار وں نے بھی اپنی آواز دینے کو فخر محسوس کیا۔ بے شمار سلور جبلی فلفوں کا سہرا اپنے سر پہ سجائے ہوئے نوشاد علی نے کئی گلڈن جبلی، اور ڈایمنڈ جبلی فلموں سے بھارتی فلموں کی تاریخ کو مالامال کر دیا۔ فلم کی دنیا سے منسلک ہر اعزاز اور ہر اوارڈ جس میں دادا صاحب فالکے اور پدم بھوشن جیسے اوارڈ اور خطاب بھی شامل ہیں۔ سر اور ساز کی جو سمچھ نوشاد صاحب کو تھی، اس کی مثال نہیں ملتی ہے، فلم کی کہانی اور سیچویشن کے مطابق جو دھنیں آپ نے ترتیب دیا ہے، وہ بعد کے موسیقکاروں کے لئے سبق کی طرح ہے۔ مغل اعظم جیسی معرکہ طل آرا فلم کی کامیابی کے کئی راز میں سے ایک راز فلم کی موسیقی بھی تھی۔ وقت کے بیشمار کروٹیں لینے کے باوجود ان کے تخلیق کردہ موسیقی کو ایک طبقہ آج بھی پسند کرتا ہے۔ نوشاد علی نے اپنے طویل سر سنگیت کے سفر میں کئی فنی تجروبے بھی کئے، ساتھ ہی مقدار سے زیادہ معیار کو ترجیح دیا۔” اڈن کھٹولا “، ” بیجو باورا” اور” بابل” جیسی فلمیں ان کی موسیقی کی سبب آج بھی امر ہیں۔ تان سین نے کہا تھا ” یہ سر ہر کس و باکس کی سمجھ میں نہیں آتے، جو ان سرو کو سمجھنے کے بعد اس سے تعلق رکھتا ہے وہ آخر کار اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ ” در اصل یہی نوشاد صاحب کے ساتھ بھی ہوا۔ انہوں نے زندگی بھر ساز اور آواز کا ساتھ نبھایا۔ ان کی جادو اثر دھنوں نے کئی شاعروں اور گلو کار و کو شہرت کی بلندوں پر پہنجایا۔آپ نے گیتوں کے علاوہ غزل ، قوالی، ٹھمری اور کجری کے لئے بھی دھنیں ترتیب دیں۔ معروف نغمہ ” من تٹپت ہری درشن کو آج ” جس طرح اس طرح محمد رفیع سے گوایا کہ وہ آج انڈین ثقافت کی مثال بنا ہوا ہے۔ موسیقکار خیام نوشاد صاحب کے ساتھی تھے۔ بمبئی میں جد و جہد کا دور دونوں نے ساتھ میں گزارا۔ وہ بتاتے ہیں کہ گھر والوں سے مخالفت کے باوجود نوشاد نے ہارمونیم بجانا سیکھا، اور فلم ” نگر ” سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا۔پھر اپنی محنت اور لگن سے اعلی مقام حاصل کیا۔ وہ دن رات اپنے دھنوں پر محنت کرتے تھے۔ ان کو اپنے فن سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ ۵ مئی ۲۰۰۶ء ؁ جمعہ کی صبح ان کو دل کا دورہ پڑا، فوری طور پر ان کو نانا وتی اسپتال (ممبئی) میں داخل کروایا گیا۔ لیکن جند گھنٹے بعد ہی ان کی روح پرواز کر گئی۔ موسیقی کی دنیا میں نوشاد علی کا نام صدیوں یاد رکھنے لائیق ہے۔ مشرقی موسیقی کی تاریخ میں آپ کا نام سنہرے حرفوں میں شامل کیا جایگ

افروز عالمؔ (جدۃ)
صدر، گلف اردو کونسل
afrozalammekerani@yahoo.com

ARTICLE ON MUSIC KING NAUSHAD BY AFROZ ALAM

SADA TODAY WEB PORTAL

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here