نعت

0
2

نہ بزم ِ گل نہ ستاروں کی انجمن میں رہے
ہے دل کو اپ سے نسبت تو کیوں چمن میں رہے

سما ہی جائے ہر اک دل میں ایسے عشق ِرسول
بہ شکل نکہت ِگل جاں کے پیرہن میں رہے

یہ آرزو ہے کہ آئے اجل مدینے میں
کہ میری خاک بھی شہر شہ زمن میں رہے

اڑاکے لائے صباکاش گرد یصرب کی
جو بنکے خاک شفاعت مرے کفن میں رہے

بوقت نزع زباں پر ہو میرے نعت نبی
شمار میرا کنیزان پنجتن میں رہے

اگر ہو نعت محمد کا حق ادا کرنا
تو عکس سیرت احمدترے سخن میں رہے

ہے اسطرح سے عقیدت مجھے محمد سے
کہ روح جسطرح میری مرے بدن میں رہے

کچھ اس طرح سے کہو نعت مصطفی زرؔیاب
کہ شور صلے علی،ساری انجمن میں رہے

ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here