مسلمانوں کا حال اور مستقبل کی حکمتِ عملی.مسلمانوں کو بیداری کی ضرورت

0
98
مسلمانوں کا حال اور مستقبل کی حکمتِ عملی
مسلمانوں کا حال اور مستقبل کی حکمتِ عملی

“ملک کی اقلیت کو اکثریت کا خیال رکھنا چاہئیے اور اس امر کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ آس پاس بسے اکثریتی فرقے کی ناراضگی انہیں کبھی زیادہ ہی نقصان پہنچ سکتی ہے۔”یہ کسی عام یا فرقہ پرست رہنما کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ ملک کی طاقتور اور آہنی خاتون کہی جانے والی وزیراعظم ہند محترمہ اندرا گاندھی کے ہیں،موصوفہ نے 1984 میں بھیونڈی اور ممبئی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کے موقعہ پرمتاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے پر مذکورہ الفاط اداکیے تھے ،اور مسلمانوں کو بالواسطہ ایک پیغام دے دیا تھا، اور صرف ایک دیڑھ سال بعد ہی ان کے صاحبزادہ راجیو گاندھی نے ،جنہیں طشتری میں سجا کر وزارت عظمیٰ کی مسند پیش کردی گئی تھی ،اپنی والدہ اندرا گاندھی کے ایک مخصوص اقلیتی فرقے کے حفاظتی اہلکاروں کے ذریعہ قتل کیے جانے کے بعد ملک کے دارالحکومت دہلی میں سکھ برادران کے خلاف تشدد اور خون خرابے پر ردعمل میں غیر ذمہ دارانہ بیان دیا تھا کہ ” جب کوئی بڑا درخت تیز ہوایاآندھی سے گرجاتا ہے تواس کے اردگرد واقع چھوٹے موٹے پودے یوں ہی اس کی زد میں آجاتے ہیں۔”راجیو گاندھی کا بیان عمل اور ردعمل کی تھیوری کو تقویت بخشنے والاتھا، جس کا تجربہ 2002 کے فرقہ وارانہ میں کیاگیا ہے اور گجرات فساد کو کسی “عمل کے ردعمل” ہونے والا تشدد ثابت کیا گیا اور دہلی میں بھی یہی ہی ہوا ہے،بلکہ اس سب حق بجانب قرار دیا جاتاہے۔
مذکورہ دونوں بیانات کو تفصیل سے پیش کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ 1970 اور 1980 سے سیکولرزم اور جمہوریت کی دہائی دینے والی سیکولر طاقتیں نظریاتی طور پر بہک چکی تھی،اقتدار کے لیے بدعنوانی ،پیسہ کی ریل پیل اورفرقہ پرستی کے دروازے ہلکے سے کھول دیئے گئے تھے ،یعنی بنیاد رکھ دی گئی تھی ،یہی سبب تھا کہ راجیو گاندھی نے نچلی عدالت کے ایک فیصلہ پر اجودھیا کی بابری مسجد کے دروازے کا تالاہی نہیں کھلوایا بلکہ  شیلانیاس بھی کرانے میں کوئی عارمحسوس نہیں کیا ،اس طرح اکثریتی فرقے کودر پردہ  پیغام دے دیا گیا کہ یہ ملک تمہاری منشاء اور خواہش کے مطابق چلایا جاسکے گا۔کانگریس نے اس کی شروعات کی تب پرمود تیواری نے اگست 2020کو بلاجھجھک کہاکہ۔مودی اجودھیا میں جو کچھ کررہے ہیں وہ کانگریس کی منشاء کے مطابق ہے۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوااور مسلمانوں کو ذلیل وخوار کرنے اور انہیں ملک ۔کا۔وفادار نہ ہونے کی کوشش عرصے سے جاری ہے۔ چند سال پہلے مجاہدآزادی اور پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھی جسے سخت گیروں نے اچک کر نئے رنگ روپ میں  حال میں سوشل میڈیا پر چلادیا ہے جس میں سردار پٹیل کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ “جومسلمان کل تک ایک نئے ملک کے بنانے کی مہم سرگرم رہے ہیں،اب وہ جب یہاں رہ گئے ہیں توملک کے ساتھ وفاداری کے سلسلہ میں ان پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔”پٹیل کا یہ بیان  مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک وشبہات پیدا کرنے کے لیے ان عناصر کو جیسے ہتھیار مل گیا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی اور دوقومی نظریہ کی بنیاد پر ملک کی تقسیم سے صرف اور صرف سب سے بڑی اقلیت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے بلکہ انہیں تین حصوں میں بانٹ دیا گیا جس سے ان کی طاقت اور اتحاد کو زبردست زک پہنچی،اس بحث میں پڑنے کے بجائے کہ اس تقسیم کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ،ہم آزادی کے بعد کے پچیس اور تیس سال کے دوران پیش آ نے والے واقعات کا جائزہ لینا ضروری ہے اور تب پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد فرقہ پرستی کا جو بیج بویا گیا تھا ،اس کو 1970 اور 1980 کے عشروں میں سیکولرزم کو اپنا نصب العین بتانے والوں نے تقویت بخشی اور آج ملک جس حال کو پہنچا ہے ،وہ اظہر من الشمس ہے۔
ملک کے موجودہ حالات  گزشتہ پانچ چھ سال میں نہیں خراب ہوئے ہیں،بلکہ ایک۔مخصوص طبقہ کی آنکھوں میں  مسلمان تو بہت پہلے سے کھٹکنے لگے تھے،اب انہیں  نشانے پر لے لیا گیا ہے۔اس کا تجزیہ کرنا یقیناً بہت ضروری ہوگیاہے،بی جے۔پی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک کو کئی محاذ پر بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے،لیکن حقیقت اور سچائی یہ  ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اوقات دکھانے کی بھی درپردہ نہیں بلکہ کھلے عام کوشش کی گئی ہے،بلکہ۔یہ۔کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ ان  کی سوچ اور نظریات پر ہی نہیں بلکہ  ان کے احساسات اور  سانسوں پر بھی  قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔موب لنچنگ کے ذریعے مبینہ طورپر پہلے ڈرایادھمکانے کاعمل شروع کیا گیا اور دیڑھ دو سال سے ان پر نفسیاتی حملے کیے جارہے ہیں ،مدارس میں دہشت گرد پیدا کیے جانے کے الزامات سے کوئی فائدہ نہیں دکھا تو اقلیتی فرقے سے وابستہ تعلیمی اداروں کی فہرست سامنے رکھ لی گئی ہے ،الیکٹرونک میڈیا پر ایک منصوبہ بند طریقے سے ان اداروں کو ملک دشمن مراکز ثابت کرانے اور ایک ایک مسلمان کوملک کے لیے ناسور بتانے کے لیے پوری طاقت جھونک دی گئی ہے۔
تبلیغی جماعت کے اراکین کو کورونا وائرس پھیلانے لازمی دار قرار دینے سے لیکر عمرخالد  کی گرفتاری اور عتیق احمد کے مکان کازمیں بوس کردینا،کوئی  معمولی واقعات نہیں ہیں بلکہ ان سب کے ذریعے دوپیغام دیئے جارہے ہیں ،پہلا اکثریتی فرقے کوکہاجارہا ہےکہ  دیکھئیے ہم نے تمہیں اصل میں اب صدیوں کی غلامی سے آزاد کرایا،شہروں اور شاہراہوں کے ناموں کی تبدیلی سے اس کی شروعات کی گئی،کہاگیا کہ اگر ہم یہ نہیں کریں گے تو اقلیتی فرقہ  ووٹ بینک کے ذریعے زیادہ۔حقوق حاصل کرتا رہیگا  اور تمہارے حقوق پر قبضہ برقرار رہیگا،اس سے ہم نے تمہیں نجات دلادی ہے جبکہ دوسرا پیغام مسلکوں اور فرقوں میں تقسیم ہندوستانی مسلمانوں کو دیا جارہا ہے کہ اپنی واقعات میں رہو ،ورنہ ہم تمہارا بھی حشر اعظم خاں،عتیق احمد اور عمر خالد جیسا کردیں گے۔
عام خیال ہے کہ ملک میں کورونا وباء پر قابو پانے میں ناکامی کے نتیجے میں تبلیغی جماعت،اعظم خاں ،عمرخالد،عتیق اور انصاری کو “ٹارگٹ” کیا جارہا ہے،نہیں  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی تیاری تو بہت پہلے سے کی جاچکی ہے ،بس اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آگیا ہے اور ہر چیز ان کی منصوبہ بندی اور پلاننگ سے تکمیل تک پہنچائی جارہی ہے۔کیونکہ مسلمانوں میں دوردورتک اتحاداور اعتماد نظر نہیں آرہا بلکہ ان کے انتشار کا پورا پورا فایدہ اٹھایا جارہا ہے،بابری مسجد کی شہادت کے بعد احساس کمتری اور مایوسی کی شکار ملت نے تعلمی میدان میں کچھ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور ایک حد تک اعدادوشمار میں بہتری بھی آئی تھی اور اس کا ذکر آنجہانی بزرگ صحافی اور دانشور کلدیپ نیئربھی کرتے تھے،لیکن آج پھر قوم مسلم۔پستی کی۔طرف جارہی ہے،جوکہ ٹھیک نہیں ہے اور مخالفین کو اپنی۔مزید درگت بنانے کا موقعہ دینے سے مترادف ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے، مسلمانوں کی سانسوں پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے اس طرح کی کوششوں  کے خلاف منصوبہ بندی اور سوچ سمجھ کر اور حامیوں کو ساتھ لیکرایک ایساراستہ یا حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو طاغوتی طاقتوں کوپشت کردے اور یہ اپنی صفوں میں اور دوسروں کے ساتھ  اتحاد وہم  آہنگی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
javedjamaluddin@gmail.co

Javed Jamaluddin

Sada Today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here