تمہارے خلاف سازش رچی جارہی ہے ایوانوں میں۔جاوید جمال الدین

0
77
تمہارے خلاف سازش رچی جارہی ہے ایوانوں میں۔جاوید جمال الدین
تمہارے خلاف سازش رچی جارہی ہے ایوانوں میں۔جاوید جمال الدین
ملک ہی نہیں بلکہ برصغیر میں ملت اسلامیہ کے خلاف جس ہوشیاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ  سازشیں رچی جارہی ہیں،اس کا اظہارگزشتہ چند سال سے لوگ  کھلے عام کرنے میں اب کوئی جھجھک محسوس نہیں کررہے ہیں۔ جنتاپارٹی کے سابق لیڈر اور آج کل بی جے پی میں سرگرم ہونے کے باوجودپارٹی کی پالیسیوں سے انحراف کرنے والے سبرامنیم سوامی  ماضی میں کھل کر اس بات کا اظہارکرچکے ہیں کہ “مسلمانوں کو مزید پسماندگی اور غربت کی سمت میں دھکیل دینا ہے تو انہیں آپس میں سنی -شیعہ،بریلوی -دیوبندی اوردیگر  الگ الگ مسلکوں کے درمیان لڑادیاجائے۔اور یہ بڑی آسانی سی ممکن ہے ،کیونکہ مسلمان اتنے فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہیں کہ انہیں خود اس کا علم نہیں ہے۔”
کیا ہمارے درمیان ایسا کچھ ہو رہا ہے یا ایسی کوئی سازش رچی جارہی ہے،تاکہ مسلمانوں کو آپس میں فرقوں کے حوالے سے لڑادیا جائے اور انہیں انتشار کا شکار بنا کر مزید دلدل میں دھکیل دیاجائے۔ جائزہ کیاجائے تو نیوز چینل ایک الگ رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اور وہ روزانہ یہی کھیل کھیلتے رہتے ہیں،حال میں وسیم رضوی کے ذریعے قرآن کی چند آیات کو حذف کرنے کامطالبہ کرتے  سپریم کورٹ سے رجوع کیا جانا بھی اسی سازش کاایک حصہ ہے۔البتہ حال میں ایک ایسا ویڈیو کلپ منظر عام پر آیا ہے،جسےسن کرکسی بھی ذی ہوش مسلمان کے ہوش اڑجانا ایک فطری امر ہے۔
سوشل میڈیا پر ویبھو نامی اس شخص نے برصغیر میں مسلمانوں کے خلاف رچی سازش کے ایک ایک نقطہ کوبڑی باریکی سے منظرعام پر لانے کی کوشش کی ہے ،جو یہ ثابت کرتی ہے کہ ایوانوں میں کیا کچھ نہیں جاری ہے۔اور ایک مخصوص فرقے کو شک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مذکورہ پانچ منٹ کے ویڈیو کلپ میں وہ شخص بلاجھجھک اور ہچکچاہٹ کے بغیر سازش کی ایک ایک پرت کھولتا ہوانظر آتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو مسلک اور فرقوں کی بنیاد پر آپس میں لڑانے کے لیے صرف چار- پانچ کروڑ روپے کا بجٹ کافی ہے۔اس طرح وہ ہمارے ایجنٹ بن جائیں گے۔اس سازش کے تحت ہمیں یہ کرنا ہے کہ ا یک پانچ ہزار روپیے ماہانہ تنخواہ پانے والے مولوی صاحب کوایک ایس یووی کار، ایپل موبائل،مکان اور دفتر کے ساتھ ساتھ دولاکھ روپیے ماہانہ کی رقم دوبئی یا ماریشس سے اس کے کھاتے میں مہیا کرائی جائے اور ان کے اہل خانہ کو بھی سہولیات فراہم کی جائیں ،دوبئی میں بیٹھی سوشل میڈیا ٹیم کی مدد سے بس انہیں یہ کرنا ہے کہ ہر ہفتے ایک ویڈیو جاری کرنا ہے اور دوسرے فرقے کو اس میں گالیاں دی جائیں ،اور گالیوں کے ساتھ ہی انہیں غیر اسلامی قرار دے دیا جائے۔
اس طرح کے دس پندرہ مولوی آسانی سے مل جائیں گے ،بلکہ پاکستان میں توبڑی آسا نی سے مل جائیں گے۔ہندوستان میں ہرایک ریاست میں ایسے افراد آسانی سے مل سکتے ہیں۔یہ سب کچھ ایک عرصے سے پڑوسی ملک میں کیا جارہا ہے۔ اس معاملے سوشل میڈیا کی ایک باصلاحیت ٹیم بھی تیار کی جائے جو بہتر انداز میں مذہبی حوالوں کے ساتھ ویڈیو کوایڈٹ کرکے جاری کرے۔جس سے دوسرے فرقے کے بیچ  نفرت پیدا ہوجائے۔
اسی طرح حریف گروہ کے مولویوں کو بھی پیسے کے بل بوتے پر تیار کیا جائے اور انہیں بھی پہلے والے فرقے کے خلاف زہر افشانی کرنے اور انہیں غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے واجب القتل بھی بتایاجائے۔اس کے لیے قرآن اور حدیث کے حوالے دیئےجائیں اوریہ بتایا جائے کہ  قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں یہ لوگ اسلام سے خارج ہیں اور انہیں قتل کرنا واجب ہے۔
ویڈیوکلپ میں اس بات کا کھل کر اظہار کیاگیا ہے کہ جہالت کی وجہ سے یہ سب ممکن ہے اور ان مولویوں کا استعمال ہندوستان میں  ہی نہیں بلکہ پاکستان بھی کیاجائے ،جو غربت کے ساتھ ساتھ جہالت کا مارا ہے،اور ان مولویوں کی باتیں وہاں زیادہ اثر انداز ہوں گی۔
مذکورہ ویڈیو کلپ میں اس منصوبے کی تفصیل پیش کرنے والے کا کہناہے کہ “یہ فریم ورک نہ یہودیوں نے بنایاہے اور ہندوؤں کابنایاہواہے،بلکہ برصغیر کے مولویوں نے ایک دوسرے کی مسلک کے نام پر گردنیں کاٹنے کے لیے بنایا ہےاور مخالفین کوطشتری میں رکھ کر پیش کردیا ہے،تاکہ اس فریم ورک پر کام کر کے مسلمانوں کے ہوش ٹھکانے لگادیئے جائیں۔”
مندرجہ بالا باتیں حقیقت سے انتہائی قریب نظر آتی ہیں،ہمارے آس پاس جو حالات پیدا کیے گئے ہیں،وہ انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں ،کیونکہ دکھتی رگ پر انہوں نےانگلی رکھنا سیکھ لیا ہے۔ہم نعرہ تکبیر کا لگاتے ہیں ،لیکن مسلک کے لیے ایک دوسرے کا سرپھٹول کرنے کےلیے تیار ہوجاتے ہیں اور اللہ ورسول اللہ کی اطاعت اور تعلیمات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں،ملکی بلکہ عالمی سطح پر جس قسم کے حالات پیدا کیے جارہے ہیں ،ہمارے تعلق سے جو سازشیں ایوانوں میں رچی جارہی ہیں،اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لے لیں ،ورنہ داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں،کے مصداق ہمیں بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔وقت تیزی سے گزر جائے گا،بلکہ
گزرتاجارہاہے
9867647741
article on millat.e. islamia
sada today web portal

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here